پاکستان کی وزارت خارجہ نے پیر کو بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان منگل کو ایک روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست تکنیکی نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد کشیدگی میں کمی، علاقائی سلامتی اور جوہری پروگرام سمیت دیگر متنازع امور پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔
ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
صدر پزشکیان کا دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل پیر کی سہ پہر وزیراعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر ایک بیان میں بتایا کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطحی کمیٹی کا پہلا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔
انہوں نے کہا مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جن میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی۔
’اس کے اہم نکات میں 60 روز کے اندر حتمی معاہدے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق، سیاسی سطح پر نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام اور مزید تکنیکی مذاکرات کے آغاز شامل ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’میں امریکہ اور ایران دونوں کی قیادت کو سراہتا ہوں کہ انہوں نے تعمیری بات چیت کے لیے اپنی مسلسل وابستگی کا مظاہرہ کیا۔
’اس تاریخی عمل کو آگے بڑھانے میں تمام برادر اور دوست ممالک کے قیمتی تعاون پر بھی ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری سازگار ماحول فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر قطر اور میزبانی پر سوئس حکومت شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ’پاکستان خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو فروغ دینے میں اپنا مخلصانہ اور مثبت کردار جاری رکھے گا۔‘
