پاکستان کے ایک سینیئر نیوکلیئر ایڈوائزز نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا جوہری ہتھیاروں کے حملے میں پہل کرنے کی جارحانہ حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے گذشتہ سال مئی میں دونوں حریفوں کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپ کے بعد تباہ کن تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
پاکستان کی قومی کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے رواں ماہ لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) میں کلیدی خطاب کے دوران یہ باتیں کہیں، جن کا متن ادارے نے شائع کیا ہے۔
انہوں نے انڈیا کو دی گئی بین الاقوامی جوہری تجارت کی چھوٹ پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا اور خبردار کیا کہ ایک اور فوجی تصادم تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔
مظہر جمیل نے کہا: ’انڈیا کی سمندر میں مسلسل موجود رہ کر جوہری حملے سے باز رکھنے کی صلاحیت، جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی انڈیا کی دعویٰ کردہ پالیسی کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انڈیا پہلے جوہری حملے کی جارحانہ حکمت عملی اپنا رہا ہے۔‘
وہ نئی دہلی کی جانب سے نیوکلیئر ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کے اعلان کردہ اصول کا حوالہ دے رہے تھے۔
یہ بیان انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقریباً تین دہائیوں کے دوران ہونے والی شدید ترین فوجی جھڑپ کے ایک سال سے زائد عرصے بعد سامنے آیا ہے، جس میں متنازع سرحد اور بین الاقوامی سرحد کے دونوں جانب میزائلوں، ڈرونز اور فضائی حملوں کا استعمال کیا گیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مئی 2025 میں ہونے والا چار روزہ تنازع 22 اپریل کو ہونے والے ایک حملے کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں زیادہ تر سیاحوں سمیت 26 اموات ہوئی تھیں۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے مسترد کرتے ہوئے غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم انڈیا نے7 مئی کو پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اندر حملے کیے۔
پاکستان نے جوابی کارروائی کی اور لڑائی دونوں ممالک میں فوجی تنصیبات پر حملوں تک پھیل گئی، جس کے بعد 10 مئی کو امریکہ کی سفارتی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
اس تصادم نے دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر جنگ کے خدشات کو جنم دیا، جو 1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد کئی تنازعات میں الجھ چکے ہیں اور مئی1998 میں ایک دوسرے کے مقابل نیوکلیئر تجربات کے ذریعے اپنی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کا کھل کر مظاہرہ کر چکے ہیں۔
مظہر جمیل، جنہوں نے 2015 سے 2017 تک پاکستان کے سٹریٹجک پلانز ڈویژن کی سربراہی کی، جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر ڈیٹیرنس اور سٹریٹجک استحکام سے متعلق آئی آئی ایس ایس اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک سٹڈیز کی 11ویں ٹریک 1.5 ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے ایک جائزے کا حوالہ دیا، جس کے مطابق اطلاعات ہیں کہ انڈیا نے بعض نیوکلیئر وار ہیڈز کو آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ نصب کرنا اور سمندر میں جوہری ڈیٹیرنس کے گشت شروع کر دیے ہیں۔
مظہر جمیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پیش رفتوں کے ساتھ انڈین آبدوزوں سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کی پیشگی اطلاع نہ دینے سے کسی بحران کے دوران غلط اندازے لگانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انڈیا نے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ پاکستان نے اس نوعیت کا کوئی وعدہ نہیں کیا اور اس کے بجائے دونوں ممالک سے عدم جنگ کے معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا:’پاکستان مسلسل کہتا آیا ہے کہ انڈیا کی جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی محض ایک سفارتی چال ہے۔ آج اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘
جوہری تجارت کی چھوٹ
مظہر جمیل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی جانب سے انڈیا کو دی گئی چھوٹ پر نظرثانی کرے، جس کے تحت نئی دہلی کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیے بغیر شہری مقاصد کے لیے جوہری تجارت کی اجازت دی گئی تھی۔
2008 میں دی گئی یہ چھوٹ بین الاقوامی جوہری تجارت پر عائد پابندیوں سے ایک اہم استثنیٰ تھی، جس کے نتیجے میں انڈیا کو اپنے شہری توانائی پروگرام کے لیے بیرونی جوہری ٹیکنالوجی اور ایندھن تک رسائی حاصل ہوئی۔
مظہر جمیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس چھوٹ اور انڈیا کے ٹیکنالوجی شراکت داروں کی حمایت نے نئی دہلی کو اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں میں توسیع میں مدد دی، جس سے اسلحے پر کنٹرول اور شفافیت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔
انہوں نے سوال و جواب کے سیشن کے دوران کہا:’میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری انڈیا کے غیر ذمہ دارانہ جوہری رویے کی وجہ سے اسے دی گئی این ایس جی کی چھوٹ واپس لینے پر غور کرے۔‘
انہوں نے انڈیا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور جدید فوجی و دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی تک اس کی رسائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان صلاحیتوں سے خطے کا سٹریٹجک توازن تبدیل ہو رہا ہے۔
تیزی سے شدت اختیار کرتا تصادم
ایک اور فوجی تصادم کے امکان پر بات کرتے ہوئے مظہر جمیل نے خبردار کیا کہ مئی 2025 کی لڑائی نے مستقبل کے بحرانوں کو زیادہ خطرناک بنا دیا ہے، کیونکہ فوجی کارروائی اور تنازعے میں شدت آنے کے درمیان فاصلہ کم ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی’کوئڈ پرو کو پلس‘ (Quid Pro Quo Plus) حکمت عملی پر انحصار جاری رکھے گا، جس کے تحت جارحیت کے جواب میں بھرپور روایتی فوجی کارروائی کی جاتی ہے اور اس کی پشت پر وسیع تر نیوکلیئر ڈیٹیرنس کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
انہوں نے اپریل 2025 میں کشمیر حملے کے بعد انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس اقدام نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تنازع کا ایک اور سبب پیدا کر دیا ہے۔
گفتگو کے دوران مظہر جمیل نے خبردار کیا کہ ایک اور تصادم گذشتہ بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی میں اضافے کا موازنہ سیڑھی کے بجائے لفٹ سے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مئی2025 کا تنازع پہلے ہی کئی حدیں عبور کر چکا ہے، جس کے باعث مستقبل میں کسی اور تصادم کو محدود رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ان خدشات کے باوجود مظہر جمیل نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے، جن میں متنازع کشمیر کا معاملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ طریقہ کار قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔
انہوں نے کہا:’پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست کی حیثیت سے کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات کی جانب آگے بڑھنے کو تیار ہے اور اس سمت میں پہلے قدم کے طور پر بحرانوں سے نمٹنے کا ایک مؤثر طریقہ کار قائم کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔‘
مظہر جمیل نے جنوبی ایشیا میں تنازعات کے حل اور بحرانوں سے نمٹنے میں مدد کے لیے غیر جانب دار بین الاقوامی ثالثی کا مطالبہ بھی کیا۔

