انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف پیر سے جاری احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے جہاں منگل کو بھی ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے جبکہ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
روئٹرز کے مطابق انڈیا میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ’کاکروچ‘ تحریک کے پانچ ہزار سے زائد حامی دہلی کے جنتر منتر پارک میں جمع ہوئے۔ یہ احتجاج ایک روز قبل پولیس کے ساتھ ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد بھی جاری رہا، جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ان کا کہنا ہے کہ مئی میں میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونا تعلیمی نظام میں گہری کرپشن کا ثبوت ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس سکینڈل سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے اور اس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب طلبہ نے خودکشی کر لی۔ یہ معاملہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق پیر کو مرکزی دہلی میں ہونے والی جھڑپوں میں تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں سکیورٹی اہلکار اور مظاہرین شامل ہیں۔ تاہم مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
اسی دوران کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا، جہاں پولیس نے انہیں مختصر مزاحمت کے بعد حراست میں لے لیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں کی اطلاعات ملتے ہی فوری کارروائی کی گئی، 13 افراد کو گرفتار کیا گیا اور دوبارہ امتحان بھی منعقد کیا جا چکا ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرین رجی کے مطابق وزیر اعظم مودی نے ہدایت کی ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
دوسری جانب ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دپکے نے اعلان کیا ہے کہ یہ احتجاج جاری رہے گا، تاہم پارلیمنٹ کی جانب مارچ نہیں کیا جائے گا کیونکہ مظاہرین کو دوبارہ پولیس تشدد کا خدشہ ہے۔
اس تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب سماجی کارکن سونم وانگ چک نے بھوک ہڑتال کی، تاہم انہیں بعد میں پولیس کی جانب سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مظاہرین کے مطالبات میں سونم وانگ چک کی رہائی، وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور متاثرہ طلبہ کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ شامل ہے جبکہ یہ تحریک نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، بے روزگاری اور تعلیمی نظام پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
