انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بتایا ہے کہ پولیس نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے بڑے احتجاج سے قبل ہفتے کو تحریک کے سربراہ ابھیجیت دپکے کو حراست میں لے لیا۔
نوجوانوں کی زیر قیادت سی جے پی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ ابھیجیت دِپکے اور دو دیگر رہنماؤں کو دارالحکومت نئی دہلی میں پرواز سے اترنے سے قبل ہی حراست میں لے لیا گیا، جہاں یہ مظاہرہ ہونا تھا۔
انڈین میڈیا کے مطابق معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ مظاہرے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ملک بھر میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران بے ضابطگی کے الزامات کے بعد کئی ہفتے سے جاری اپوزیشن کی مہم کا نتیجہ ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نظرثانی سے لاکھوں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے محروم ہو سکتے ہیں، جس سے وزیراعظم نریندر مودی کی برسرِ اقتدار ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچے گا۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے خصوصی اور تفصیلی نظرثانی میں بے ضابطگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دوہرے اور نااہل ووٹرز کو نکالنا تھا۔
اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال نے ایک بیان میں کہا کہ اب یہ باضابطہ ہو چکا ہے کہ ہم مودی کی حکمرانی میں ایک مکمل آمریت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ’پرواز سے اترتے ہی کاکروچز کو گرفتار کرنا خوف کی ایک بے مثال سطح کو ظاہر کرتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمعے سے نئی دہلی میں سکیورٹی کی سخت پابندیاں عائد ہیں اور دارالحکومت کے وسط میں واقع احتجاج کے مرکزی مقام جنتر منتر تک پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کو روکنے کے لیے دسیوں ہزار پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
حکام نے درجنوں میٹرو سٹیشن بند کر دیے ہیں، دہلی آنے والی کئی ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں اور احتجاج کے مقام کے ارد گرد موبائل انٹرنیٹ بھی عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
ہفتے کو ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مناظر میں پولیس کو وسطی دہلی کے آس پاس کے علاقوں میں کئی مظاہرین کا پیچھا کرتے اور انہیں کھینچ کر گاڑیوں میں ڈالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 200 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ان مظاہروں کو وسیع پیمانے پر جولائی میں کارکروچ جنتا پارٹی کی عوامی مہم کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں امتحانات کے ایک سکینڈل پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس بار وہ الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
