اسلام آباد میں جمعے کی رات ایک درخت سے ایک نوجوان لڑکی کی لاش ملی جس کی شناخت فزکس کی گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کے نام سے ہوئی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ایک شخص نے انہیں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ اور سکالرشپ دلوانے کے نام پر تقریباً 87 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔
بعد میں داخلے اور ویزے سے متعلق فراہم کردہ دستاویزات بھی مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔
لائبہ کے خاندان کے مطابق، انہوں نے بیٹی کو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کے علاوہ پلاٹ اور زیورات تک فروخت کر دیے تھے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مبینہ فراڈ کا علم ہونے کے بعد لائبہ شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہو گئیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
پولیس ان کی موت کے حالات کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کا خواب
لائبہ اعجاز نے فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اور وہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے سائنس دان بننا چاہتی تھیں۔
لائبہ کے ماموں رانا نعمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بی ایس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کی بھانجی امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے کے مواقع تلاش کر رہی تھیں۔
ان کے مطابق اسی سلسلے میں لائبہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں واقع ایک تعلیمی کنسلٹنسی کے دفتر گئی جہاں سے باہر نکلتے ہوئے محمد نعمان نامی شخص نے ان سے رابطہ کیا۔
رانا نعمان کا کہنا ہے کہ اس شخص نے خود کو سپریم کورٹ کا اکاؤنٹنٹ ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ جزوقتی طور پر امریکی یونیورسٹیوں میں داخلوں اور ویزا کنسلٹنسی کا کام بھی کرتا ہے۔
ان کے بقول محمد نعمان نے لائبہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ انہیں ہارورڈ یونیورسٹی میں سکالرشپ پر داخلہ دلوا سکتا ہے۔
اس یقین دہانی کے بعد خاندان نے لائبہ کے تعلیمی مستقبل کی امید میں اس شخص کے ذریعے داخلے اور ویزے کی کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
والدین نے 87 لاکھ روپے کیسے جمع کیے؟
رانا نعمان کے مطابق ابتدا میں محمد نعمان نے ویزے اور دیگر اخراجات کی مد میں 10 سے 15 لاکھ روپے طلب کیے۔
بعدازاں اس نے مبینہ طور پر امریکہ میں مقیم عائزہ نامی خاتون کے ذریعے سکالرشپ اور مالی کفالت سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے کا دعویٰ کیا۔
لائبہ کے ماموں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے بعد بینک سٹیٹمنٹ کی تیاری کے لیے مزید رقم کا مطالبہ سامنے آیا۔
ان کے مطابق خاندان نے اپنا پلاٹ فروخت کرکے 40 لاکھ روپے محمد نعمان کے حوالے کیے۔
اس شخص نے مبینہ طور پر یقین دہانی کروائی کہ وہ رقم اپنے اکاؤنٹ میں رکھے گا اور بعد میں امریکی ڈالر کی صورت میں لائبہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دے گا۔
رانا نعمان کا دعویٰ ہے کہ اس رقم کے عوض خاندان کو رسید بھی فراہم کی گئی۔
ان کے مطابق اس کے بعد مزید 32 لاکھ روپے طلب کیے گئے، جن کا انتظام کرنے کے لیے لائبہ کے والد نے ان کی والدہ کے زیورات فروخت کیے۔
لائبہ کے ماموں کا کہنا ہے کہ مختلف مراحل میں محمد نعمان کو دی گئی رقم مجموعی طور پر تقریباً 87 لاکھ روپے بنتی ہے۔
تاہم ان ادائیگیوں، رسیدوں اور مجموعی رقم کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
دستاویزات جعلی ہونے کا انکشاف کیسے ہوا؟
رانا نعمان کے مطابق محمد نعمان نے خاندان کو بتایا تھا کہ لائبہ کا انٹرویو 12 اکتوبر کو ہوگا، جبکہ 20 اکتوبر کو ان کی امریکہ روانگی طے ہے۔
ان کے بقول خاندان کو ہوائی ٹکٹ بھی فراہم کیا گیا تھا، جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ داخلے اور سفر کے انتظامات آخری مراحل میں ہیں۔
تاہم رانا نعمان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے امریکی سفارت خانے سے ویزے اور داخلے سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کروائی تو انہیں معلوم ہوا کہ فراہم کردہ کاغذات مبینہ طور پر جعلی ہیں۔
لائبہ کے ماموں کے مطابق اس انکشاف کے بعد ان کی بھانجی شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ لائبہ نے خاندان کی ایک خاتون سے درخواست کی تھی کہ ان کے والد کو مبینہ فراڈ کے بارے میں نہ بتایا جائے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔
دودھ فروخت کرکے بیٹی کو پڑھانے والے والد کی امیدیں
لائبہ کے اہل خانہ کے مطابق ان کے والد دودھ فروخت کرکے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے تھے۔
فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی لائبہ کی خواہش تھی کہ وہ امریکہ کی کسی ممتاز یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے سائنس کے شعبے میں اپنا مستقبل بنائیں۔
خاندان کا کہنا ہے کہ اسی خواب کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کی اور پلاٹ اور زیورات فروخت کرنے جیسے فیصلے کیے۔
اہل خانہ کے مطابق جب انہیں معلوم ہوا کہ جس داخلے اور سکالرشپ کے لیے اتنی بڑی رقم ادا کی گئی تھی، اس سے متعلق دستاویزات مبینہ طور پر جعلی ہیں، تو خاندان کو شدید مالی اور ذہنی صدمہ پہنچا۔
جمعے کی رات لائبہ کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ ان کی موت کے حتمی حالات اور مبینہ فراڈ سے اس کے تعلق کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔
ایف آئی اے کو تصاویر، ای میلز اور موبائل ڈیٹا فراہم
لائبہ کے ماموں رانا نعمان کے مطابق خاندان نے مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کی تصاویر، موبائل فون کا ڈیٹا، ای میلز اور دیگر متعلقہ ریکارڈ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو فراہم کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے حکام نے محمد نعمان کو تلاش کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم محمد نعمان کا مؤقف سامنے نہیں آیا اور فراہم کردہ معلومات میں ان کے خلاف مقدمے کے اندراج یا گرفتاری کی تصدیق موجود نہیں۔
وزیراعظم کا نوٹس، سینیٹ کمیٹی نے رپورٹ طلب کر لی
وزیراعظم شہباز شریف نے لائبہ اعجاز کی موت اور ان کے ساتھ مبینہ فراڈ کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بھی واقعے کا نوٹس لیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے متعلقہ حکام سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کرتے ہوئے معاملے پر غور کے لیے 15 اکتوبر کو اجلاس بلا لیا ہے۔
اب پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی تحقیقات سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ لائبہ کی موت کن حالات میں ہوئی، خاندان سے وصول کی گئی مبینہ رقم کہاں گئی اور امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور سکالرشپ کے نام پر فراہم کردہ دستاویزات کی حقیقت کیا تھی۔
