ویسے تو آج کل فٹ بال ورلڈ کپ پر میسی اور رینالڈو چھائے دکھائی دیتے ہیں لیکن ناروے کے ارلنگ ہالینڈ بھی ان کھلاڑیوں میں ایک بڑا نام ہیں۔
کئی مداح ان کے لمبے سنہری بال، مضبوط جسامت اور بے خوف انداز کی وجہ سے ان کا موازنہ جدید دور کے وائکنگ جنگجو سے کرتے ہیں۔ اس دیوقامت اور جنونی سٹرائیکر کی زندگی اور عادات بھی اتنی ہی غیر معمولی ہیں جتنی ان کی گول کرنے کی صلاحیت۔
نجی زندگی میں ہالینڈ کبھی جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹتے ہیں، روزانہ تقریباً چھ ہزار کیلوریز استعمال کرتے ہیں اور خاص طور پر گائے کے گوشت کے شوقین ہیں۔ سخت تربیت کے بعد وہ کچا دودھ پینا پسند کرتے ہیں، گویا ان کا جسم بھی عام کھلاڑیوں کے بجائے کسی قدیم جنگجو کی طرح ایندھن مانگتا ہو۔
فٹ بال کے میدان سے باہر بھی ان کی شخصیت منفرد ہے۔ لکسمبرگ میں ان کی ایک سرمایہ کاری کمپنی ہے جس کا نام ’پلج‘ (Pillage) یعنی ’لوٹ مار‘ ہے، جو شاید ان کے جارحانہ کھیل کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے تیرہویں صدی کی مشہور قدیم نارس داستان ’ہیمسکرنگلا‘ کا ایک نایاب نسخہ ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر میں خریدا، مگر بعد میں اسے اپنی مقامی لائبریری کو عطیہ کر دیا۔ وجہ پوچھنے پر ہنس کر بولے: ’میں کبھی کتابیں پڑھنے والا شخص نہیں رہا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن ان کی اصل طاقت ان کی گول سکورنگ کی صلاحیت ہے۔ ہالینڈ تقریباً ہر دور کے عظیم ترین گول سکوررز میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی گول کرنے کی رفتار فٹ بال کی تاریخ کے بیشتر کھلاڑیوں سے زیادہ ہے۔ ایک جونیئر میچ میں انہوں نے ہونڈوراس کے خلاف اکیلے نو گول داغ کر سب کو حیران کر دیا تھا۔
ہالینڈ کی زندگی کا محور فٹ بال ہے۔ وہ خود کہتے ہیں: ’میں ہر وقت فٹ بال کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔‘ ان کا صبح کا الارم بھی یوئیفا چیمپیئنز لیگ کے مشہور ترانے پر بجتا ہے، گویا خوابوں میں بھی فٹ بال ان کا پیچھا کرتی ہے۔
شاید اسی غیر معمولی شخصیت کی وجہ سے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے انہیں ایک بار ’ہمیشہ بھوکا رہنے والا نارڈک ییٹی‘ بھی قرار دیا تھا۔
