لیونل میسی نے منگل کو بینن کے خلاف 3-0 کی فتح میں ارجنٹینا کے لیے اپنا آخری میچ کھیلنے کے بعد بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کو اپنے ’کیریئر کا سب سے افسردہ دن‘ قرار دیا۔
میسی، جنہوں نے مونومنٹل سٹیڈیم میں ہونے والی اس فتح میں ایک گول کیا اور دو گولوں میں معاونت فراہم کی، میچ کے بعد میدان میں آئے اور ارجنٹینا کے ساتھ اپنے 21 سالہ کیریئر پر نظر ڈالتے ہوئے مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کیا۔
دارالحکومت بیونس آئرس کے سٹیڈیم کے باہر اور اندر شائقین کی بڑی تعداد لیونل میسی کا الوداعی میچ دیکھنے کے لیے جمع ہوئی۔ ارجنٹینا نے اس دوستانہ میچ میں نہ صرف بینن کو شکست دی بلکہ سٹار پلیئر میسی نے گول بھی کیا۔
میچ کے بعد میسی کو ٹریبیوٹ دینے کے لیے آسمان پر ڈرونز کی مدد سے مختلف شکلیں بھی بنائی گئیں، جن میں فٹ بال کا ڈیزائن نمایاں تھا۔ شائقین کے مطابق یہ میسی کے لیے ایک خوبصورت اور جذباتی الوداع تھا۔
میسی نے سٹیڈیم میں موجود شائقین سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’20 سال سے زیادہ عرصے تک اس جرسی کا دفاع کرنا میرے لیے بے حد فخر کا باعث رہا ہے۔
’ہم جن بدترین لمحات سے گزرے، اور جن مشکلات کا مجھے سامنا کرنا پڑا، ان کے باوجود میں نے کبھی جدوجہد نہیں چھوڑی، کبھی یہاں موجود رہنا نہیں چھوڑا۔
’اب مزید نہ آنا میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوگا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری خواہش ہے کہ پوری زندگی کھیلتا رہوں، کیونکہ ارجنٹینا کی قومی ٹیم کے لیے کھیلنا وہ سب سے خوبصورت چیز ہے جو کسی انسان کے ساتھ ہو سکتی ہے۔‘
میسی نے کہا کہ مونومنٹل سٹیڈیم میں واپسی، جہاں ارجنٹینا نے 2022 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اپنا پہلا میچ کھیلا تھا، خوشی اور اداسی دونوں جذبات کا امتزاج تھی۔
انہوں نے کہا: ’آج میں اپنے کیریئر کے سب سے افسردہ دن پر یہاں موجود ہوں، کیونکہ آج مجھے قومی ٹیم سے، اور آپ سب سے الوداع کہنا ہے۔
’لیکن اب میں آپ لوگوں کی طرح اس طرف ہوں گا، لڑکوں کی حوصلہ افزائی کروں گا، جو بھی ٹیم میں آئے گا اس کی حمایت کروں گا۔ ہم ہمیشہ متحد رہیں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم میسی نے کہا کہ اس اداسی کے باوجود انہیں اپنی بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے وقت پر کوئی پچھتاوا نہیں، اور اس کی وجہ انہوں نے رواں سال کے ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کی مہم کو قرار دیا، جہاں جنوبی امریکی ٹیم فائنل تک پہنچی مگر سپین سے شکست کھا گئی۔
میسی نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں جذباتی اتار چڑھاؤ، جس میں سیمی فائنل میں روایتی حریف انگلینڈ کے خلاف 2-1 کی فتح بھی شامل تھی، نے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے کہا: ’اگرچہ میری خواہش ہے کہ میں ساری زندگی یہاں رہوں، لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہی صحیح وقت ہے۔ آخری ورلڈ کپ بہت زیادہ تھا، میں نے جو کچھ وہاں جھیلا اور گزارا، وہ بہت بھاری تھا۔
’ہمارے پاس اپنے خواب اور پورے ملک کے خواب کو پورا کرنے کا موقع تھا، یعنی دوبارہ عالمی چیمپئن بننے کا۔
’گذشتہ ورلڈ کپ میں ہم اس کے بہت قریب پہنچ گئے تھے، اور حقیقت یہ ہے کہ ویسا کچھ نہیں ہوا جیسا لوگ کہتے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف میچ نے جسمانی طور پر ہم سے بہت کچھ لے لیا، اور جذباتی اعتبار سے بھی وہ انتہائی بھاری تھا۔
’ہم بمشکل مطلوبہ توانائی کے ساتھ فائنل تک پہنچے۔ ہم نے ہمیشہ کی طرح اس جرسی کے لیے لڑائی لڑی، ان تمام ساتھیوں کے ساتھ جن کے ساتھ مجھے کھیلنے اور یادیں بانٹنے کا موقع ملا۔ صرف وہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ بھی جو اس دور میں ہمارے ساتھ تھے جب ہم کامیابی کے قریب پہنچے۔ ہم واقعی بہت نزدیک تھے۔‘
