بچپن میں جب ہماری پسند کا کھانا نہ بنتا تو ہم احتجاج میں انڈہ بنا کے کھا لیتے۔
لیکن مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین، انڈیا کی کاکروچ جنتا پارٹی ہو یا حسینہ واجد کا تختہ الٹنا ہو، فرانس میں تعلیم کا مسئلہ ہو یا تحریک انصاف کے بانی کی آزادی یہ مسائل آلو بینگن کی جگہ انڈہ تلنے سے حل نہیں ہو سکتے۔ ان کے لیے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ ہم آج کل عالمی سطح پہ آئے دن میڈیا پہ ایسے احتجاج دیکھتے سنتے رہتے ہیں۔
لاکھوں افراد کے یہ احتجاج حکمران وقت کو ہلا تو دیتے ہیں لیکن جس مطلق العنانی کے دور کا دنیا کو سامنا ہے یہ سب اتنا آسان نہیں ہوتا۔ عالمی سطح پہ مزاحمت کے اس رجحان کی وجوہات سرمایا دارانہ نظام ہے یا دائیں بازو کا سیاسی غلبہ۔
سینیئر صحافی اعزاز سید سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا، ’آج کی دنیا معیشت اور کاروبار کی غلام ہے یہ دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم سے نکل کر معیشت کی کامیابی کی دوڑ میں ہے۔ اس دوڑ میں اکثر ممالک جمہوریت کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ کچھ نے معیشت کو منزل بنا کر جمہوریت کو شکست دی ہے تو کچھ نے معیشت کے نام کا ہتھیار بنا کر مطلق العنانیت کو فروغ دیا۔ آج کی دنیا میں معیشت اور مطلق عنانیت کا عروج ہے یعنی معیشت اور مطلق العنانیت کے گرد گھومتی ریاستوں میں، اقتدار کا اخلاقی جائز اب اہم نہیں رہا۔ بظاہر لوگ اسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جن سے نکلنا محال لگ رہا ہے۔‘
ماہرین کا ماننا یہ بھی ہے کہ جب معاشی، اخلاقی اور سماجی قدروں کا فقدان سرائیت کرتا ہے تو بھی لوگ سڑکوں پہ نکل آتے ہیں اور حکمرانوں سے جواب طلبی چاہتے ہیں۔ وکیل اور انسانی حقوق کی معروف کارکن رخشندہ ناز نے مقامی سطح پہ پاکستان میں احتجاج کی روش پہ روشنی یوں ڈالی، ’موجودہ فرانسیسی احتجاج، کاکروچ جنتا پارٹی کا انڈیا میں جاری احتجاج، بنگلہ دیش کی احتجاجی مہم اور نیپال کے احتجاج کا پاکستان سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، پاکستان میں ہائبرڈ نظام حکومت ہے۔ اور ہماری احتجاجی موومنٹ بھی شاید ہائبرڈ ہی ہے۔
’ہم سپورٹ کی بنا پہ احتجاج کی تشکیل اور تکمیل کے خواہاں ہوتے ہیں، جو کچھ حال میں خیبر پختونخوا میں دیکھا گیا۔ اسے احتجاج نہیں کہا جا سکتا۔ ہماری حکومت بات چیت پہ آمادہ نظر نہیں آتی اور مذاکرات کو احتجاج کی روح مانا جاتا ہے، ہم اگراندرونی طور پہ اپنے لوگوں کے ساتھ معاملہ نہیں نمٹا سکتے تو عالمی سطح پہ کیسے مذاکرات کار ہونے کا دعوی کر پائیں گے۔‘
پاکستان کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو وہ ہمیشہ ایک ہائبرڈ نظام ہائی جیک کر لے جاتا ہے۔ کہنہ مشق صحافی مظہر عباس نے اس موضوع پہ روشنی ڈالتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو سے کہا کہ یہ ماننا ’قبل از وقت ہے کہ جو کچھ احتجاج اس وقت پیرس، نیپال، انڈیا یا بنگلہ دیش میں ہوئے وہ ایک ہی کڑی کا حصہ ہیں۔ جیسا کہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں دیکھا گیا کہ کمیونسٹ تحریکوں کو شکست دینے کے لیے امریکہ نے اپنے اتحادی حکومتوں کو استعمال کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’لیکن موجودہ لہر کا زاویہ مختلف ہے۔ اس وقت جو کچھ فرانس میں ہو رہا ہے اس کا تعلق بیڈ گورننس سے ہے۔ لیکن جس طریقے سے اس نے شدت اختیار کی ہے وہ بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرتا ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش میں جو تحریک چلی وہ طلبہ تحریک تھی اور اس کا زاویہ قوم پرستانہ تھا۔ قوم پرست اس میں شامل تھے۔ دائیں اور بازو کے سیاسی رجحانات بھی شامل تھے۔ کیونکہ شیخ حسینہ واجد نے جہاں کئی ظالمانہ اقدامات کیے تھے وہیں ملکی سطح پہ تمام سیاسی جماعتوں کا سر بھی کچل رکھا تھا۔ اور جو اس وقت انڈیا میں ہو رہا ہے اس کا تعلق بھی مقامی مسائل سے تھا لیکن اب اس نے ایک سیاسی شکل اختیار کر لی ہے اور انڈین الیکشن کمیشن بے نقاب ہو گیا۔ اور اس احتجاج کی لیڈر شپ کا تعلق بھی بائیں بازو سے ہے۔‘
دیکھا جائے تو اب عالمی سطح پہ حکومتیں دائیں کی ہوں یا بائیں بازو کی عوام بیڈ گورننس کے خلاف مزاحمت کے لیے بڑی تعداد میں سڑکوں پہ نکل آئے ہیں۔
پاکستان میں کاکروچ جنتا پارٹی یا بنگلہ دیشی طلبہ کے احتجاج جیسی مزاحمتی لہر تو نہیں لیکن چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں لوگ آواز ضرور اٹھا رہے ہیں، چاہے وہ میڈیا پہ عائد پابندیوں کے خلاف ہو۔ وکلا اور طلبہ تحریکیں ضرور اپنا نکتہ نظر بلند کرتی ملتی ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف ایک منظم تحریک چلانے میں تاحال ناکام نظر آتی ہے۔
عالمی سطح پہ کیا پیداواری قوتیں ان احتجاجوں میں اپنا کردار رکھتی ہیں۔ بائیں بازو کی سیاسی ورکر اور جینڈر سٹڈیز کی پروفیسر ڈاکٹر عالیہ امیر علی نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’عالمی پیداواری قوتوں کا اضافہ انسانیت کی خوش حالی سے زیادہ ناانصافی اور بھوک کا باعث بنا ہے۔
’مزاحمت کی ضرورت اور مزاحمتی سیاست پہ بڑھتے ہوئے کنٹرول اور پابندیاں بھی نظر آتی ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا اور ماننا چاہیے کہ جہاں جہاں سماج کی پرتوں میں بائیں بازو کی سیاست کا رجحان ہے وہ کہیں نہ کہیں نظام بدلنے میں کامیاب رہی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں جنوبی ایشیا میں جین زی کی تحریکیں ابھرتی نظر آئی ہیں۔ لیکن ضرورت ہے معاشی نظام کی تبدیلی کی۔‘
پاکستان ہیرالڈ ورکرز یونین کے سابق صدر اور سپورٹس خبروں سے جڑے سینیئر صحافی رشاد محمود نے موجودہ عالمی احتجاجوں اور سرمایا دارانہ نظام کی بگڑتی روش پہ جب روشنی ڈالی تو ان کا ماننا تھا کہ سرمایا دارانہ نظام تو صدیوں سے محنت کشوں کا فائدہ اٹھاتا ملتا ہے لیکن جو بات توجہ طلب ہے وہ کاروباری، سماجی اور معاشی قدروں کی کمی ہے۔ اب ایک سی ای او بھی مطلق العنان ہی بنا ملتا ہے۔ اور ماتحتوں سے فاصلہ اور رعونت کا رویہ رکھتے ہیں اپنےملازموں کی ضروریات اور حقوق کو نظر انداز کرتے ہیں۔
جہاں حقوق دبائے یا غصب کیے جائیں گے وہاں عوام ہی سڑکوں پہ نکلیں گے، احتجاج کی صورت میں۔
’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘
