مشرق وسطیٰ اور ایران دونوں ہی قدیم سرزمینیں ہیں، وہ سرزمینیں، جہاں انسان نے کھیتی باڑی کی، شہر بسائے، قانون لکھے، انہی زمینوں پہ خدا نے پیغمبر بھیجے، صحیفے اتارے۔
یہیں کے رہنے والوں نے خدا کے نبیوں کا پیغام سنا بھی، جھٹلایا بھی، ان ہی کو نوید سنائی گئی اور جب یہ سرکش ہوئے تو ان ہی کو وعید سنائی گئی اور یہ پھر بھی باز نہ آئے تو ان ہی سرزمینوں پہ عذاب بھی نازل ہوئے۔
یہ عذاب کبھی ریت کے طوفان تھے تو کبھی سیلاب، کبھی ٹڈی دل تو کبھی وبائی امراض، کبھی ظالم حاکم تھے اور کبھی خشک سالی۔
شہر کے شہر ویران ہوئے، تہذیبیں اجڑ گئیں اور آج ان لوگوں کے بارے میں بتانے والا کوئی نہیں۔ ماسوائے، صحیفوں اور ان تختیوں اور پتھروں کے جن پہ ان کی داستانیں ثبت رہ گئیں، سرکشی کی داستانیں۔
سلطنت عثمانیہ کا زوال، مشرق وسطی کی بدنصیبی کے دور کا آغاز تھا۔ جنرل ایلن بی کی فتوحات کے بعد اس خطے میں بدامنی کی جو میخ ٹھونکی گئی اس کا بھگتان آج پوری دنیا بھگت رہی ہے۔
جو آج ایران اسرائیل تنازع ہے، یہی عرب اسرائیل تنازع تھا اور ممکن ہے کچھ عرصے بعد یہ پھر سے عرب اسرائیل تنازع بن جائے اور عرب ایران تنازع بھی بن سکتا ہے۔
جنگوں میں وجہ ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ جنگ انسان کی جبلت میں ایسی شے ہے جسے آپ نوع کا اپنی ہی نوع سے مقابلہ کہہ سکتے ہیں۔ جب انواع بقا کی جنگ لڑتی ہیں تو، دوسری انواع سے مقابلہ کرتی ہیں۔
انسان یہ جنگ جیت چکا ہے۔ آج نوع انسانی ایک ایسی نوع ہے جس کا وجود خطرے میں نہیں مگر اس کے وجود سے ہر ایک نوع خطرے میں ہے۔ جہاں ایک نوع دوسری انواع سے مقابلہ کرتی ہے وہیں ایک نوع کے اندر بھی برتری کے لیے مقابلہ ہوتا ہے۔
سو صاحبو! مشرق وسطی میں یہ مقابلہ جاری ہے، قدیم صحیفوں میں جن بستیوں کے مٹ جانے کی داستانیں بیان کی گئی ہیں ان ہی سے اپنا تعلق جوڑ کے نیا آدمی، بوڑھے آدم کا بیٹا، پھر سے بستیاں اجاڑ رہا ہے۔
کون غلط ہے کون درست، زمانہ یہ نہیں دیکھتا۔ تاریخ میں صرف مٹ جانے والی قوموں کا تذکرہ ملتا ہے، ان پہ نوحے بھی نہیں پڑھے جاتے۔ صرف تذکرہ۔
یہ جنگ جو پہلے سے موسمی تبدیلیوں کی شکار دنیا کو مزید تیزی سے ایک ایسی تبدیلی کی طرف لے جا رہی ہے جس سے انسانوں کا بچنا ممکن نہیں۔ جنگ رکنی چاہیے۔
جنگ اس لیے رکنی چاہیے کہ یہ جنگ اگر نہ رکی تو دنیا کا ماحول برباد ہو جائے گا اور دنیا میں صرف انسان نہیں رہتے۔
انسان جب ایک دوسرے کے مسکنوں پہ حملہ کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ کتنے پرندے اپنے گھونسلوں میں جل بھن جائیں گے، کتنی مچھلیاں مریں گی اور گھونگھوں کی کتنی نسلیں معدوم ہو جائیں گی۔
خارگ، کشیم اور ہرمز کے جزائر پہ رہنے والے ہرنوں کا اس جنگ سے کیا تعلق؟ نہ ہی راس الخیمہ اور فجیرہ کے ساحلوں پہ اڑنے والے سمندری بگلے اس مصیبت کو سمجھ سکتے ہیں۔
پرندے تو اتنے نازک ہوتے ہیں کہ گرج چمک سے ان کے گھونسلوں میں رکھے انڈے خراب ہو جاتے ہیں، ان پرندوں کے مسکنوں کے قریب انسانوں کو لڑنے کا حق کس نے دیا؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جنگ پھیل رہی ہے۔ سمندروں اور جزیروں کو نگلتے نگلتے مشرق وسطی سے نکل کے بحر ہند کے ڈیگو گارشیا تک پہنچ چکی ہے۔
جنگ پھیلے گی اور مالدیپ کے کورل ریف کو نگل جائے گی، سری لنکا کے سمندروں کے صدف بانجھ ہو جائیں گے، ہمالیہ کی چوٹیوں سے برف پگھلے گی اور سیلاب ہمارے میدانوں کو نگل جائیں گے۔
کیا جنگ کا طبل بجانے سے پہلے کسی نے یہ سوچا کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں؟ کون سا مسئلہ میز پہ حل نہیں ہو سکتا؟ پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے کون سے مسائل حل کر دیے؟
ان دو جنگوں میں ملک برباد ہوئے تھے اور انسان مرے تھے، ملک پھر سے آباد ہو گئے اور انسانی آبادی پھر بڑھ گئی لیکن کیا زمین کا ماحول برباد ہونے کے بعد دوبارہ تعمیر ہو سکے گا اور ناپید ہونے والے جانور دوبارہ پیدا ہو سکیں گے؟
جنگ رکنی چاہیے، ورنہ صحیفوں میں جو مرقوم ہے وہ عیسائیوں، یہودیوں، مسلمانوں، رومن کیتھولک، مرمن، پروٹسٹنٹ، اوینجلیکل، سب ہی نے خوب پڑھا ہوا ہے۔ بعد میں صرف تذکرہ رہ جاتا ہے اور کبھی کبھی وہ بھی نہیں۔
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
