’فلائٹ ٹو نو وئیر‘: ایئر انڈیا کی کینیڈا جانے والی پرواز آٹھ گھنٹے بعد واپس دہلی لوٹ آئی

ایئر انڈیا کی دہلی سے کینیڈا کے شہر وینکوور جانے والی ایک پرواز کو تقریباً آٹھ گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد واپس دہلی لوٹنا پڑا۔

گلف نیوز کے مطابق پرواز اے آئی 185 جمعرات کی صبح 11 بج کر 34 منٹ پر دہلی سے روانہ ہوئی اور معمول کے مطابق کینیڈا کی جانب سفر شروع کیا۔

تاہم تقریباً چار گھنٹے بعد، جب طیارہ چین کی فضائی حدود میں کنمنگ کے قریب پہنچا، ایئرلائن کو معلوم ہوا کہ اس پرواز کے لیے استعمال ہونے والے طیارے کے پاس کینیڈا میں داخلے کی مطلوبہ اجازت ہی موجود نہیں ہے۔

ریگولیٹری منظوری نہ ہونے کے باعث پرواز کو فوری طور پر دوران پرواز واپس موڑ دیا گیا۔ یوں یہ طیارہ تقریباً 7 گھنٹے 54 منٹ فضا میں رہنے کے بعد دوبارہ دہلی میں لینڈ کر گیا۔

انڈین حکام کے مطابق یہ مسئلہ طیارے کی مخصوص اجازت سے متعلق تھا۔ ایئر انڈیا کے بیڑے میں موجود کچھ طیاروں کو ہی کینیڈا کے روٹس پر پرواز کی اجازت حاصل ہے جبکہ اس پرواز کے لیے استعمال ہونے والا طیارے کو اس کی اجازت نہیں تھی۔

ہوابازی کے قوانین کے تحت بعض اوقات اجازت صرف ایئرلائن کو نہیں بلکہ مخصوص طیاروں یا حتیٰ کہ ان کے رجسٹریشن نمبرز کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔

ایئر انڈیا نے واقعے کو ’آپریشنل مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واپسی کا فیصلہ معیاری طریقہ کار کے مطابق کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایئرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طیارہ بحفاظت لینڈ ہوا اور تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہے جبکہ مسافروں کو پیش آنے والی پریشانی پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔

متاثرہ مسافروں کے لیے زمینی عملے نے ہوٹل میں قیام سمیت دیگر سہولیات کا انتظام کیا اور انہیں متبادل پروازوں میں منتقل کرنے کے اقدامات کیے گئے۔

بعد ازاں یہی پرواز اگلی صبح دوبارہ روانہ ہوئی اور تمام مسافروں کو ان کی منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق اس واقعے سے ایئرلائن کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس طیارے جیسی بڑی پروازیں فی گھنٹہ آٹھ سے نو ٹن ایندھن استعمال کرتی ہیں اور تقریباً آٹھ گھنٹے کی اس غیر معمولی واپسی پرواز نے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *