اپالو 11 نے 1969 میں پہلی بار خلا نوردوں کو چاند پر اتارا لیکن چاند تک پہنچنے کا سفر دراصل اس سے 43 سال پہلے برف سے ڈھکی امریکی ریاست میساچوسٹس میں شروع ہوا تھا۔
آج سے تقریباً 100 سال پہلے 17 مارچ، 1926 کو رابرٹ ایچ گوڈارڈ نے پہلا مائع ایندھن سے چلنے والا راکٹ لانچ کیا۔ یہی راکٹ بعد میں انسانوں کو چاند تک پہنچانے کی طاقت بنا۔
تاہم گوڈارڈ کا راکٹ چھوٹا تھا جو صرف 42 سیکنڈ تک پرواز کر سکا، محض 184 فٹ کی بلندی تک پہنچا اور اسے نقصان بھی پہنچا۔
اس وجہ سے خلائی سفر کے بارے میں شکوک و شہبات رکھنے والوں کی تعداد بڑھ گئی۔
اس نسبتاً غیر متاثر کن آغاز کے باوجود گوڈارڈ کا راکٹ ایک صدی کی جدت کی بنیاد بنا۔ اب ہر سال سینکڑوں راکٹ لانچ ہوتے ہیں۔
بڑے مائع ایندھن والے راکٹ مائع آکسیڈائزر (وہ مادہ جو آکسیجن خارج کرتا ہے اور مائع ایندھن کو ملا کر کیمیائی ردعمل پیدا کرتے ہیں) جو انسانوں کو چاند تک پہنچانے کے لیے زبردست پیش رفت ہے۔
گذشتہ چند برسوں میں نجی کمپنیوں نے خلائی سفر میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کیا ہے۔
خلائی سفر کے ابتدائی دن
گوڈارڈ کے پہلے راکٹ کے بعد امریکہ میں راکٹ کی ترقی دوسری عالمی جنگ تک بہت سست رہی۔
نازی جرمنی کے V-2 میزائل کی ایجاد نے ثابت کیا کہ راکٹ جنگ اور امن دونوں میں بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔
جنگ کے دوران V-2 نے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں میں خوف و ہراس پھیلایا جبکہ امن کے دور میں سائنس دانوں نے مصنوعی سیارے جنہیں ابتدا میں ’چاند‘ کہا جاتا تھا، بنانے پر غور کیا تاکہ موسم کی نگرانی اور بین البراعظمی مواصلات کو بہتر بنایا جا سکے۔
1950 کی دہائی میں امریکی حکومت نے راکٹس کی ترقی پر زیادہ سرمایہ کاری نہیں کی۔
پھر چار اکتوبر، 1957 کو سوویت یونین نے دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ سپتنک ون لانچ کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
لاکھوں امریکیوں کو خوف تھا کہ سوویت یونین جلد ہی ان پر جوہری میزائل برسا سکتا ہے۔
صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور اور ان کے مشیروں نے ابتدا میں زیادہ تشویش ظاہر نہیں کی۔ ان کا خیال تھا کہ زمین پر امریکہ کے مسائل زیادہ اہم ہیں۔ تاہم سینیٹ کے اکثریتی رہنما لنڈن بی جانسن کے دباؤ پر آئزن ہاور نے اپنا فیصلہ بدلا۔
1958 کے آخر میں انہوں نے کانگریس کو نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (NASA) کے قیام کی اجازت دی۔
اس نئی ایجنسی نے 1959 میں امریکہ کے پہلے سات خلا نوردوں کا انتخاب کیا۔
چاند تک امریکی سفر
امریکہ کے نوجوان صدر جان ایف کینیڈی کی آمد نے خلائی پروگرام کو نئی سمت دی۔
ستمبر 1962 میں انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ 1970 سے پہلے انسان کو چاند پر پہنچائے گا۔
ان کے نزدیک یہ کامیابی دنیا کو امریکی نظام کی برتری ثابت کرے گی۔ 1963 میں کینیڈی کی اچانک موت نے اس عزم کو مزید مضبوط کر دیا۔
صرف ساڑھے پانچ سال بعد نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرن نے اپالو 11 مشن کے دوران چاند کی سطح پر قدم رکھا۔
اس کامیابی کے لیے ناسا نے تقریباً 26 ارب ڈالر خرچ کیے، آج کے حساب سے 338 ارب ڈالر، سینکڑوں سائنس دانوں اور انجینیئروں کو شامل کیا اور ہزاروں کارکنوں کو ملازمت دی۔
لیکن اسی وقت جب یہ عظیم کامیابی حاصل ہوئی، عوامی حمایت کم ہونا شروع ہو گئی۔ ویتنام جنگ، مہنگائی، سماجی و سیاسی مسائل اور چاند مشنز سے اکتاہٹ نے امریکی عوام کی دلچسپی کم کر دی۔
صدر رچرڈ نکسن نے ناسا کا بجٹ کم کر دیا اور باقی ماندہ تین چاند مشن منسوخ کر دیے۔ ناسا کو مہنگے راکٹ جیسے سیٹرن V چھوڑ کر سستے اور زیادہ مؤثر نظام اپنانے پڑے۔
سپیس شٹل کا دور
اگلی نسل کے راکٹ زیادہ تر دوبارہ استعمال کے قابل ہونے تھے۔ اس کا نتیجہ سپیس شٹل کی صورت میں نکلا۔ ناسا نے وعدہ کیا کہ یہ 1977 تک شروع ہو جائے گا اور ہر دو ہفتے بعد خلا میں جائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ 1981 میں پہلی پرواز تک یہ منصوبہ بہت مہنگا ہو چکا تھا۔ ہیٹ ٹائلز کے مسائل برقرار رہے اور شٹل ہر دو ہفتے کی بجائے سال میں صرف چھ سے آٹھ بار ہی اڑ سکا۔
اس پروگرام کو دو بڑے حادثات کا سامنا کرنا پڑا:
1986 میں چیلنجر لانچ کے 73 سیکنڈ بعد پھٹ گیا
2003 میں کولمبیا واپسی کے دوران تباہ ہو گیا
2004 میں صدر جارج ڈبلیو بش نے اعلان کیا کہ شٹل پروگرام 2011 تک ختم کر دیا جائے گا۔
نجی کمپنیوں کا دور
اس کے بعد ناسا کی طاقت اور فنڈنگ کم ہوتی گئی۔ خلائی قیادت آہستہ آہستہ نجی کمپنیوں جیسے سپیس ایکس اور بلیو اوریجن کے پاس منتقل ہو گئی۔
2006 سے ناسا نے سپیس ایکس کے ساتھ معاہدے شروع کیے اور 2024 تک سپیس ایکس نے تقریباً ہر دو ہفتے میں راکٹ لانچ کرنے کا خواب پورا کر لیا۔
دوسری طرف ناسا کا آرٹیمس پروگرام، جو انسان کو دوبارہ چاند کے گرد بھیجنے کا منصوبہ ہے، تاخیر کا شکار ہے اور اس پر لاگت بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
اسی دوران چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک انسان کو چاند پر بھیجے گا اور اس کے بعد مریخ کے مشنز شروع کرے گا۔
چین میں حکومت، صنعت اور سائنس ایک ساتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کا خلائی مستقبل کم منظم اور غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔
1969 میں ایک مضبوط قیادت نے امریکہ کو’انسانیت کے لیے عظیم قدم‘ اٹھانے پر آمادہ کیا تھا۔
مگر اس کے بعد سے خلائی قیادت آہستہ آہستہ حکومت سے نجی اداروں کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور امریکی خلائی پروگرام کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر ’دا کنورسیشن‘ سے لی گئی ہے اور یہاں اس کا ترجمہ کری ایٹو کامنز کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔
