چین کی باصلاحیت کم عمر تیراک یو زیدی 13 برس کی عمر میں متعدد اولمپک تمغہ جیتنے والی حریفوں کو شکست دے چکی ہیں۔
یو نے اپنی تیزی سے بڑھتی شہرت میں مزید اضافہ کر لیا ہے کیونکہ انہوں نے شینژن میں خواتین کے 200 میٹر بٹر فلائی مقابلے میں ذاتی بہترین وقت کے ساتھ متعدد اولمپک تمغے جیتنے والی امریکی تیراک ریگن سمتھ کو شکست دی۔
اس سکول کی طالبہ نے گذشتہ گرمیوں میں عالمی سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب صرف 12 برس کی عمر میں وہ تیراکی کی عالمی چیمپیئن شپ کی تاریخ کی کم عمر ترین تمغہ جیتنے والی کھلاڑی بن گئیں۔
جمعرات کو چائنا اوپن میں انہوں نے 200 میٹر بٹر فلائی میں دو منٹ 05.71 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ شان دار کامیابی حاصل کی اور امریکی تیراک ریگن سمتھ کو دوسرے نمبر پر دھکیل دیا، جو ان کی ایک اور طاقت ور کارکردگی ثابت ہوئی۔
ان کا یہ وقت عالمی چیمپیئن شپ میں بھی انہیں پوڈیم تک پہنچا سکتا تھا۔
ریگن نے پیرس 2024 اولمپکس میں اسی مقابلے میں کینیڈا کی تیراک سمر میک اِنٹوش کے پیچھے چاندی کا تمغہ جیتا تھا، جہاں ان کا وقت 2:03.84 رہا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
24 سالہ ریگن اب تک مجموعی طور پر آٹھ اولمپک تمغے جیت چکی ہیں جن میں دو طلائی تمغے شامل ہیں۔
جنوبی شہر شینژن میں ہونے والے چائنا اوپن مقابلوں میں چین اور دیگر ممالک کے نمایاں ستاروں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
سرکاری چینی میڈیا کے مطابق یو پانچ مختلف مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
میزبان ٹیم، جس میں یو بھی شامل ہیں، ستمبر اور اکتوبر میں جاپان میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں کی تیاری کر رہی ہے۔
گذشتہ برس سنگاپور میں ہونے والی عالمی چیمپیئن شپ میں یو نے چین کی 4×200 میٹر فری سٹائل ریلے ٹیم کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔
انہوں نے اپنے تینوں انفرادی مقابلوں میں چوتھی پوزیشن بھی حاصل کی۔
نومبر میں انہوں نے ایک بار پھر تیراکی کی دنیا کو حیران کر دیا جب چین کے قومی کھیلوں میں انہوں نے ایشیائی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے شان دار کارکردگی دکھائی۔
اکتوبر میں 13 برس کی ہونے والی یو نے 200 میٹر میڈلے میں 2:07.41 کے وقت کے ساتھ طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔
