اسرائیلی وزیر کی فلوٹیلا کارکنوں کو طویل قید میں رکھنے کی دھمکی

غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے کشتیوں کے صمود فلوٹیلا کے گرفتار کارکن بدھ کو اسرائیلی بحری جہازوں کے ذریعے ساحلی شہر اشدود پہنچ گئے، جہاں قومی سلامتی کے وزیر ايتمار بن غفير نے کہا کہ انہیں ’بہت طویل عرصے‘ تک جیل میں رہنا چاہیے۔

ايتمار بن غفير کی جانب سے جاری ویڈیو میں دکھایا گیا کہ وہ تقریباً 430 گرفتار کارکنوں کے درمیان پولیس اور فوجیوں کے حصار میں چل رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر ہاتھ میں بڑا اسرائیلی پرچم لہرا رہے ہیں اور ان سے کہتے ہیں: ’اسرائیل میں خوش آمدید، ہم یہاں کے مالک ہیں۔‘

ایکس پر جاری ویڈیو میں انہوں نے لکھا: ’ہم ’دہشت گردوں کے حمایتیوں‘ کا یہاں ایسے استقبال کرتے ہیں، اسرائیل میں خوش آمدید۔‘

ویڈیو میں ایک ہتھکڑی لگے کارکن کو ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے دکھایا گیا، جسے ايتمار بن غفير کے گزرتے ہی سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر زمین پر گرا دیا۔

ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کارکنوں کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں اور وہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہیں، ان کے سر زمین سے لگے ہوئے ہیں، جبکہ وہ اشدود بندرگاہ کے ایک عارضی حراستی مقام اور ایک جہاز کے ڈیک پر موجود ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک دوسری ویڈیو میں ايتمار بن غفير کہتے ہیں کہ یہ کارکن ’بڑے ہیروز کی طرح فخر سے یہاں آئے تھے، اب انہیں دیکھیں، اور ساتھ ہی وہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو سے اپیل کرتے ہیں کہ انہیں ان کارکنوں کو قید کرنے کی اجازت دی جائے۔

ايتمار بن غفير نے کہا: ’میں وزیر اعظم نتن یاہو سے کہتا ہوں کہ انہیں میرے حوالے کریں، بہت طویل عرصے کے لیے، انہیں دہشت گردوں کی جیلوں میں بھیجیں، ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘

اسرائیل میں قائم قانونی حقوق کی تنظیم ’عدالۃ‘ نے اسرائیلی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کارکنوں کے خلاف ’بدسلوکی اور تذلیل کی مجرمانہ پالیسی‘ اپنا رہے ہیں۔

دوسری جانب اٹلی نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی رویے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا۔ روئٹرز کے مطابق وزیر اعظم جارجیا میلونی اور وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے اس بدسلوکی پر باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *