دھرندھر ٹو: انڈیا میں شدت پسند قوم پرستی کا فارمولا اب بھی سپر ہٹ

جب 2025 کے آخر میں دھرندھر نے انڈین سینیما گھروں میں تہلکہ مچایا تو یہ تاریخ کی کامیاب ترین ہندی فلموں میں سے ایک بننے کے علاوہ بھی بہت کچھ کر گئی۔

اس نے بولی وڈ کی سیاسی سمت کے بارے میں ایک طویل عرصے سے جاری بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا۔

ہدایت کار آدتیہ دھر کی اس جاسوسی تھرلر فلم کی کہانی ایک انڈین انٹیلی جنس اہلکار کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار رنویر سنگھ نے ادا کیا، جو انڈیا کو نشانہ بنانے والے ایک دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے پاکستانی جرائم پیشہ انڈر ورلڈ میں گھس جاتا ہے۔ 

فلم کی کہانی میں فرضی جاسوسی کو ماضی قریب کے حقیقی واقعات کے ساتھ ملایا گیا ہے، جن میں 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملہ اور 2008 کے ممبئی حملے شامل ہیں اور اثر پیدا کرنے کے لیے آرکائیو فوٹیج اور حقیقی آڈیو ریکارڈنگز کو شامل کیا گیا ہے۔

دھرندھر تیزی سے اب تک کی سب سے بڑی ہندی فلموں میں سے ایک بن گئی، جس نے اپنی ریلیز کے تین ہفتوں کے اندر دنیا بھر میں ایک ہزار کروڑ انڈین روپے (8.16 کروڑ پاؤنڈ) سے زیادہ کا بزنس کیا۔

یہ مقامی باکس آفس پر تقریباً 831 کروڑ انڈین روپے (6.78 کروڑ پاؤنڈ) کے ساتھ اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم اور دنیا بھر میں 2025 کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی انڈین فلم بھی بن گئی۔

اس جمعرات کو دھرندھر: دی ریونج ریلیز ہو گی۔ پہلی فلم کے چار ماہ سے بھی کم عرصے بعد جلد بازی میں ریلیز ہونے والی اس فلم نے پری ویو شوز کی ایڈوانس بکنگ کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور اس کا ٹریلر ریلیز ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر یوٹیوب پر 3.9 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

اگر اس کی مقبولیت کو دیکھا جائے تو یہ سیکوئل انتہائی مردانہ قوم پرستی کو بولی وڈ کے سب سے قابل اعتماد باکس آفس فارمولوں میں سے ایک کے طور پر مستحکم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔

اصل دھرندھر پر بحث کے مرکز میں اس کی کہانی کا انداز ہے جس میں حقیقی حملوں کے پیچھے انٹیلی جنس آپریشنز اور دہشت گردی کے منصوبوں کو ڈرامائی شکل دیتے ہوئے ’حقیقی واقعات سے متاثر‘ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فلم قومی سلامتی اور انتقام کے بارے میں سیاسی انداز میں کہانی بنانے کے لیے حقیقی سانحات کا چن کر استعمال کرتی ہے۔

فلم کے شروع کے مناظر میں سے ایک میں پاکستان میں قائم حرکت المجاہدین گروپ سے منسلک پانچ عسکریت پسندوں کے 1999 میں نیپال سے افغانستان تک ایک انڈین مسافر طیارے کے اغوا کو دوبارہ عکس بند کیا گیا ہے۔

اس میں انڈیا کے انٹیلی جنس بیورو کے فرضی ڈائریکٹر اجے سانیال، جن کا کردار آر مادھون نے ادا کیا ہے، جنہیں وسیع پیمانے پر موجودہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے متاثر سمجھا جاتا ہے۔

وہ طیارے میں موجود یرغمالیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائیں۔ مسافر ہائی جیکرز کے ردعمل کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔

پھر ان میں سے ایک عسکریت پسند ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے ’ہندو ایک بزدل قوم ہیں۔‘ یہ وہ منظر ہے جس سے سیکوئل کے ٹریلر کا آغاز بھی ہوتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منظر فلم کی مرکزی حرکیات کو قائم کرتا ہے، جس میں پاکستان سے منسلک عسکریت پسندوں کو ظالم ولن اور ہندوؤں کو سرحد پار دہشت گردی کے متاثرین کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے تاریخ اور دیومالائی کہانیوں کا یہ امتزاج ایک سحر انگیز محب وطن تھرلر تخلیق کرتا ہے۔

دوسروں کے لیے یہ تاریخ اور پروپیگنڈے کے درمیان کی حد کو دھندلا کر دیتا ہے جو نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمرانی میں پروان چڑھنے والے ہندو قوم پرست بیانیے کی ایک بہترین عکاسی ہے۔

ایک منظر میں، انٹیلی جنس اہلکار دہشت گردی کی مالی معاونت کا سراغ لگاتے ہوئے اس جعلی کرنسی تک پہنچتے ہیں جو مبینہ طور پر پاکستان میں چھاپی گئی اور قصابوں کی دکانوں سمیت دیگر نیٹ ورکس کے ذریعے انڈیا سمگل کی گئی۔

ناقدین کی رائے میں اس تفصیل میں ایک لطیف اشارہ موجود ہے کیوں کہ انڈیا میں گوشت کا کاروبار زیادہ تر مسلمان کرتے ہیں۔

کہانی یہ بھی اشارہ کرتی ہے کہ ڈی مونیٹائزیشن یعنی 2016 میں مودی حکومت کی بڑی مالیت کے کرنسی نوٹوں کی اچانک منسوخی نے ان نیٹ ورکس کو کاری ضرب لگائی۔

حقیقت میں اس پالیسی کے باعث بڑے پیمانے پر نقد رقم کی قلت اور معاشی انتشار پیدا ہوا اور ٹیکس چوری کے خلاف سخت کارروائی کے حکومت کے بیان کردہ ہدف کو حاصل کرنے میں اس کی افادیت زیر بحث ہے۔

انڈین ایکسپریس کا استدلال ہے کہ دھرندھر ’ایک متعصبانہ نقطہ نظر‘ کو فروغ دیتی ہے جب کہ جریدے ’دا وائر‘ کا کہنا ہے کہ دھر کی فلم میں ’زہر اس چابک دستی سے گھولا گیا ہے کہ وہ صرف انہی چنی ہوئی سچائیوں کے ذریعے سامنے آتا ہے جنہیں یہ فلم بیان کرنا چاہتی ہے۔‘

سکرول اسے ’ٹیکنو جنگو گورفیسٹ‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہتا ہے کہ فلم میں دانستہ تشدد ایک ’سٹائلسٹک انتخاب‘ اور ’انڈیا پر پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں سے نمٹنے کی واحد حکمت عملی‘ دونوں ہے۔

سیاسی مبصر دھرو راٹھی اس فلم کو ’بہترین انداز میں بنایا گیا پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہیں اور اس کا موازنہ ’ہٹلر کے دور کی نازی پروپیگنڈا فلموں‘ سے کرتے ہوئے یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ ’زیادہ خطرناک‘ ہے کیوں کہ جب حقائق کو دلچسپ تفریح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو شائقین کے اصل حقائق کو نظر انداز کرنے کا امکان ہوتا ہے۔

فلمی نقاد انوپما چوپڑا اسے ’ایک تھکا دینے والا، بے لگام اور دیوانہ وار جاسوسی تھرلر‘ قرار دیتی ہیں جو ’بہت زیادہ مردانگی، کھوکھلی قوم پرستی اور اشتعال انگیز پاکستان مخالف بیانیے‘ سے چلتا ہے۔

واضح طور پر دھرندھر پر پیدا ہونے والا تنازع اس پر آنے والے ردعمل کا بھی احاطہ کرتا ہے۔

ریلیز کے وقت جس کسی بھی نقاد نے فلم کے بارے میں ذرا سی تنقید کی تو انہیں سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور گالی گلوچ کی لہر کا سامنا کرنا پڑا۔

اس بدسلوکی کی شدت نے فلم کریٹکس گلڈ آف انڈیا کو ایک بیان جاری کرنے پر مجبور کیا جس میں تجزیہ کاروں کو نشانہ بنائے جانے والے ’ٹارگٹڈ حملوں، ہراسانی اور نفرت‘ کی مذمت کی گئی۔

دی انڈپینڈنٹ نے آن لائن ہراسانی کا شکار ہونے والے کچھ ناقدین سے رابطہ کیا، لیکن کسی نے بھی ریکارڈ پر بات کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

گذشتہ چند سال میں تاریخی شکایات اور قومی سکیورٹی پر مبنی فلمیں تیزی سے مقبول ہوئی ہیں، جن کی نمایاں مثالوں میں اڑی: دی سرجیکل سٹرائیک (2019)، دی کشمیر فائلز (2022)، دی کیرالہ سٹوری (2023)، آرٹیکل 370 (2024)، اور دی سابرمتی رپورٹ (2024) شامل ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اڑی: دی سرجیکل سٹرائیک اور دی کشمیر فائلز دونوں نے دنیا بھر میں تقریباً 342 کروڑ روپے (2.76 کروڑ پاؤنڈ) کمائے، اور دی کیرالہ سٹوری نے 300 کروڑ روپے (2.42 کروڑ پاؤنڈ) کا ہندسہ عبور کیا، جس سے یہ اپنے اپنے سالوں کی تجارتی لحاظ سے سب سے کامیاب ہندی فلموں میں شامل ہو گئیں۔

2024 میں مودی نے سینیئر کابینہ کے وزرا کے ساتھ پارلیمنٹ میں دی سابرمتی رپورٹ کی ایک خصوصی سکریننگ میں شرکت کی اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں نے فلم کو ٹیکس میں چھوٹ دی۔

بہت کم فلم ساز اس رجحان کی اتنی واضح نمائندگی کرتے ہیں جتنے خود دھر، جو فلم اڑی سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔

یہ فلم 2016 میں کشمیر کے علاقے اڑی میں ایک انڈین فوجی کیمپ پر حملے کے بعد پاکستان میں سرحد پار مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ڈرامائی عکاسی کرتی ہے۔

یہ فلم سال کی سب سے بڑی باکس آفس ہٹ فلموں میں سے ایک بن گئی، جس نے دھر کو نیشنل فلم ایوارڈ دلوایا اور اس کا مشہور ڈائیلاگ ’ہاؤ از دی جوش؟‘ 2019 کے عام انتخابات سے قبل انتخابی ریلیوں کے دوران بی جے پی کے متعدد وزرا نے استعمال کیا۔

اس کے بعد دھر نے آرٹیکل 370 لکھی اور بنائی جس کا مرکز انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر کے انتشار کے شکار ہمالیائی خطے کی آئینی خود مختاری کو ختم کرنے کا فیصلہ تھا۔

اس کی ریلیز سے قبل مودی نے ایک انتخابی ریلی میں اس فلم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ’لوگوں کو پالیسی کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔‘

دو سال قبل فلمی سکالر ایرا بھاسکر نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا تھا کہ دھرندھر جیسی فلمیں اب انتخابات سے منسلک نہیں رہیں اور جلد ہی بولی وڈ ’پروپیگنڈے کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بڑے بینر، بڑے بجٹ کی فلمیں بنتے دیکھے گا‘۔

چاہے آپ اسے محض ایک تماشہ سمجھیں یا سیاسی ایجنڈے پر مبنی کہانی، دھرندھر ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے جسے بولی وڈ نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران بار بار اپنایا یعنی مذہبی تفریق کی آمیزش کے ساتھ پرجوش حب الوطنی کا امتزاج اب بھی منافع بخش ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *