کویت کی ریفائنری پر ڈرون حملہ، دیگر خلیجی ممالک بھی تازہ حملوں کی زد میں

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 18ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

  • ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 19 مارچ 2026 تک ایران میں 1,444، اسرائیل میں کم از کم 18، 13 امریکی فوجی اور خلیجی ریاستوں میں 21 اموات ہوچکی ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس


صبح 10 بجے:

کویتی آئل ریفائنری، دیگر خلیجی ممالک پر حملے جاری

کویت کی مینا الاحمدی آئل ریفائنری پر جمعہ کو ڈرون حملے ہوئے ہیں جس سے آگ لگ گئی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا دوسری جانب جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک پر بھی ایران کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سرکاری کویت نیوز ایجنسی نے قومی تیل کمپنی کے حوالے سے کہا۔ ’مینا الاحمدی ریفائنری… آج صبح کئی دشمن ڈرون حملوں کا شکار ہوئی، جس سے اس کے کچھ یونٹس میں آگ لگ گئی،‘ اور مزید کہا کہ ’کئی ریفائنری یونٹس بند کر دیے گئے ہیں۔‘

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے جمعے کے ابتدائی پانچ گھنٹے کے دوران 20 ڈرونز کو روک کر ناکارہ بنایا۔

اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ گذشتہ رات اسرائیل پر ایرانی میزائل داغے جانے کے بعد، اس نے جمعے کو علی الصبح تہران پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ایک فوجی بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز نے ’تہران بھر میں ایرانی دہشت گرد حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔‘

جمعہ کو بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ‘ایرانی جارحیت‘ کے ملبے کے ٹکڑوں سے ایک گودام میں آگ لگ گئی، جسے قابو میں لایا گیا اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔

کویت میں، ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ فضائی دفاع ’دشمن میزائل اور ڈرون خطرات کا جواب دے رہا ہے‘، جبکہ متحدہ عرب امارات کے سرکاری میڈیا نے ’ایران کی طرف سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات‘ کی اطلاع دی ہے۔

ایران کے انقلابی گارڈز نے تسنیم نیوز ایجنسی کے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور اسرائیل میں موجود مقامات پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا کہ تقریبا دو گھنٹوں کے اندر، اس کی فورسز نے ملک کے مشرق میں ایک درجن سے زائد ڈرونز اور شمال میں ایک ڈرون کو ’روک کر تباہ کر دیا۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے اس اعلان کے بعد کہ جنگ نے ایران کو ’تباہ‘ کر دیا ہے، ایران نے جمعرات کو رات گئے اسرائیل پر میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

ابتدائی حملوں میں سے ایک کے دوران بیت المقدس کے شہر بھر میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے شہر کے اوپر کئی زور دار دھماکے سنے۔

میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروسز نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی تاہم پولیس نے کہا کہ کئی مقامات پر نقصان ہوا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ شمالی شہر حیفہ اور اس کے مضافات میں ایک تعلیمی ادارے پر میزائل کے ٹکڑے گرے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل نے جمعے تہران پر مسلسل فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایرانی شہری نیا فارسی سال منا رہے تھے۔

یہ سب ایک ایسی جنگ کے دوران ہو رہا ہے جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ایران کے عرب پڑوسیوں کے براہ راست اس تنازع میں الجھنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

ایران کے دارالحکومت کے اطراف حملوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایک دن قبل اسرائیل نے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر مزید حملوں سے گریز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

جمعہ کو علی الصبح دبئی شدید دھماکوں سے گونج اٹھا جب فضائی دفاعی نظام نے شہر کی جانب آنے والے فائر کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا۔ اس وقت وہاں لوگ عید الفطر منا رہے ہیں۔

ایران نے اسرائیل پر اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جن کی وجہ سے کروڑوں افراد پناہ گاہوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، اور حیفہ سے گلیل اور لبنان کی سرحد تک شمال کے ایک وسیع علاقے میں سائرن بجنے کی آوازیں گونجتی رہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، یہ کارروائیاں ایک کشیدہ دن کے بعد سامنے آئی ہیں جہاں صرف جمعرات کو ایک درجن سے زائد میزائل فائر کیے گئے تھے۔

خلیجی ریاستوں کے حکام نے بتایا کہ اماراتی اور کویتی فضائی دفاعی نظام نے جمعے کی صبح ملکی فضا میں میزائل روک کر انہیں تباہ کر دیا جب کہ سعودی عرب نے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ’ایرانی جارحیت‘ کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ کرنے سے ایک گودام میں آگ لگ گئی، جس پر قابو پا لیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کویت میں فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ فضائی دفاعی نظام ’دشمن کے میزائل اور ڈرون خطرات کا جواب دے رہے تھے جب کہ متحدہ عرب امارات کے سرکاری میڈیا نے ’ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات‘ کی رپورٹ دی۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ہوائی اڈے پر امریکی افواج کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں مختلف مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

صبح 9 بجے:

امریکی ایف 35 سٹیلتھ جنگی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

امریکی میڈیا نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی ایف 35 سٹیلتھ جنگی طیارے نے مبینہ ایرانی فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اے بی سی اور سی این این سمیت دیگر اداروں کی اطلاعات کی تصدیق کیے بغیر ایک بیان میں کہا، ’طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا، اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔‘

ٹم ہاکنز نے مزید کہا کہ ’اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔‘

ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ متعدد طیاروں سے محروم ہو چکا ہے، جن میں کویتی فورسز کے ہاتھوں غلطی سے مار گرائے گئے تین ایف 15 اور عراق میں تباہ ہونے والا ایک کے سی 135 ری فیولنگ طیارہ شامل ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا ہو۔

خطے میں امریکی فوجی دستوں کی، جن میں ایف 35 طیارے بھی شامل ہیں، بھاری تعداد جمع ہونے کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک وسیع فضائی مہم شروع کر رکھی ہے۔

28 فروری کو اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے اب تک 13 امریکی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ چھ نے کے سی 135 طیارے کے حادثے میں اور سات جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایرانی حملوں میں جان گنوائی۔

امریکی فوج کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مشرق وسطیٰ کے سات ممالک میں لگ بھگ 200 امریکی فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر پہلے ہی اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *