ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 18ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس
صبح 9 بج کر 30 منٹ: ایران کا قطر میں گیس کے بڑے مرکز پر حملہ
قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعرات کو ایرانی حملے کے بعد ملک کے شمال میں واقع ایک بڑے گیس مرکز میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ راس لفان انڈسٹریل ایریا میں لگی آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارت کے مطابق کولنگ اور مقامات کو محفوظ بنانے کی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
صبح 9 بج کر 22 منٹ: واشنگٹن میں ایک فوجی اڈے کے اوپر نامعلوم ڈرونز
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن میں ایک فوجی اڈے کے اوپر نامعلوم ڈرونز پائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ رہائش پذیر ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے یہ خبر معاملے سے آگاہ تین افراد کے حوالے سے دی۔
رپورٹ کے مطابق حکام اب تک یہ تعین نہیں کر سکے کہ یہ ڈرونز کہاں سے آئے۔
ان ڈرونز کی پرواز نے حکام کو اس بات پر مجبور کیا کہ روبیو اور ہیگسیتھ کو کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے۔
تاہم ایک سینیئر حکومتی عہدیدار کے مطابق دونوں رہنماؤں کو منتقل نہیں کیا گیا۔
روئٹرز اس رپورٹ کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
صبح 9 بج کر 10 منٹ: ایران کی گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل نے کیا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب کہا کہ ایران ی جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل نے کیا، اس میں امریکہ اور قطر کا کوئی کردار نہیں تھا۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’اسرائیل اس علاقے میں مزید حملے نہیں کرے گا جب تک کہ ایران قطر پر حملہ نہ کرے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر ایران نے دوحہ کے خلاف کارروائی کی تو امریکہ ان تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
ایران کی گیس فیلڈ پر حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’امریکہ کو اس مخصوص حملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، اور قطر کسی بھی طرح اس میں شامل نہیں تھا، نہ ہی اسے اس کے ہونے کا کوئی علم تھا۔‘
دوحہ نے اسرائیل کے حملے کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی، جبکہ ایران پر بھی بین الاقوامی قانون کی ’کھلی خلاف ورزی‘ کا الزام لگایا اور دو سینئر ایرانی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا۔
