ایرانی خواتین فٹبال ٹیم آسٹریلیا سے پناہ کی درخواست واپس لے کر ایران پہنچ گئی

ایرانی خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کی کئی ارکان آسٹریلیا میں پناہ کی درخواستیں واپس لینے کے بعد بدھ کو وطن واپس پہنچ گئی ہیں۔

گذشتہ ہفتے سات ارکان نے اس وقت پناہ مانگی تھی جب انہیں ویمنز ایشین کپ کے افتتاحی میچ میں قومی ترانہ پڑھنے سے انکار پر ایران میں ’غدار‘ قرار دیا گیا تھا۔

آسٹریلیا سے نکلنے کے بعد یہ کھلاڑی عمان اور کوالالمپور کے راستے ترکی پہنچیں۔

ان میں سے ایک نے پیر کو کوالالمپور ایئرپورٹ پر اے ایف پی کو بتایا، ’مجھے اپنے خاندان کی یاد آ رہی ہے۔‘

دیگر کھلاڑیوں کے فیصلہ بدلنے کے بعد اب صرف دو ارکان آسٹریلیا میں باقی رہ گئی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بدھ کو ایکس پر لکھا، ’خواتین فٹ بال کھلاڑی اور ٹیکنیکل ٹیمیں وطن کے بچے ہیں، اور ایران کے عوام انہیں گلے لگاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ’(اسلامی جمہوریہ کے) دشمنوں کو مایوس کیا اور ایران مخالف عناصر کے دھوکے اور دھمکیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔‘

انسانی حقوق کے گروپوں نے تہران پر الزام لگایا ہے کہ وہ بیرون ملک موجود کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے رشتہ داروں کی جائیداد ضبط کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے، اگر وہ منحرف ہوتے ہیں یا اسلامی جمہوریہ کے خلاف بیانات دیتے ہیں۔

ایرانی حکام نے اس سے قبل آسٹریلیا پر الزام لگایا تھا کہ وہ کھلاڑیوں پر وہاں رکنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آسٹریلیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان خواتین کو پناہ دے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *