28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث علاقائی فضائی حدود میں پیدا ہونے والے خلل کے نتیجے میں مارچ کے ابتدائی 10 دنوں کے دوران پاکستان سے روانہ ہونے والی بین الاقوامی پروازوں کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد کی غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
اس بات کا انکشاف گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالیٹکس ایوی ایشن ڈیش بورڈ کی جانب سے 18 مارچ 2026 کو جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ یکم سے 10 فروری 2026 کے درمیان پاکستان سے 1,127 بین الاقوامی پروازیں روانہ ہوئیں، جبکہ یکم سے 10 مارچ کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 572 رہ گئی۔
رپورٹ میں اس وجہ بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی، روٹس تبدیل کرنے یا ان کی تعداد کم ہونا بتائی گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چونکہ پاکستان کا ہوابازی کا نیٹ ورک بڑی حد تک خلیجی ممالک پر منحصر ہے، اس لیے خطے کے اس عدم استحکام کا براہ راست اور فوری اثر پاکستان سے روانہ ہونے والی پروازوں پر پڑا ہے۔
پاکستان سے زیادہ تر بین الاقوامی پروازیں خلیجی ممالک سے ہو کر جاتی ہیں۔ ایک تو ان ملکوں میں بہت بڑی تعداد میں پاکستانی ملازمت کی غرض سے مقیم ہیں، دوسرے یہ کہ یورپ اور امریکہ جانے کے لیے بھی پاکستانی مسافروں کو زیادہ تر انہیں ملکوں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔
ایران نے خلیجی ملکوں کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جس سے وہاں کے فلائٹ آپریشن متاثر ہوئے ہیں، اور اس کا اثر دوسرے ملکوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ایران میں جاری جنگ کی وجہ سے زندگی کے مختلف معمولات متاثر ہوئے ہیں اور اس کی زد میں ایسے ملک بھی آ رہے ہیں جو براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں ہیں۔
ایک طرف تو تیل اور گیس کی قیمتوں میں بےتحاشا اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب مختلف ملکوں کے سٹاک ایکسچینج کریش کر گئے ہیں۔ اس وجہ سے عام اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
