خلیجی ملکوں کو ایران سے عمل کی توقع، الفاظ کی نہیں

سات مارچ کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس وقت سرخیوں کی زینت بنے جب انہوں نے ایک ایسا بیان دیا جس کا خلیج بھر میں تہہ دل سے خیرمقدم کیا گیا۔ صدر نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا، ’میں ذاتی طور پر ان پڑوسی ممالک سے معافی مانگتا ہوں جو ایران کے اقدامات سے متاثر ہوئے ہیں۔ جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ ظالمانہ جارحیت کے بعد ہمارے کمانڈروں اور ہمارے رہبر کی جانیں چلی گئیں، اور ہماری مسلح افواج نے اپنی مرضی سے فائرنگ کی کیونکہ ان کے کمانڈر غیر حاضر تھے اور انہوں نے وہی کیا جو انہیں ضروری لگا۔‘

یہ بیان سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی کی جانب سے اے ایف پی کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو کے فوراً بعد سامنے آیا۔ اس میں انہوں نے ایران پر حملوں میں اپنی فضائی حدود استعمال نہ ہونے دینے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کی تردید کی کہ تہران نے ریاض میں امریکی سفارت خانے یا الشیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا تھا۔

اس پر مجھ سمیت بہت سے مبصرین نے سکھ کا سانس لیا۔ خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب (جس نے 2023 میں بیجنگ میں تہران کے ساتھ عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے) میں شہریوں کو نشانہ بنانے والے اندھا دھند حملوں کو سٹریٹجک غلط فہمی کا نتیجہ سمجھا گیا اور انہیں شک کا فائدہ دیا گیا۔ یہ بار بار دہرائے جانے والے پیٹرن اور اس واضح اشارے کے باوجود ہے کہ تہران نے تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاکہ امریکہ اور پوری دنیا کے لیے اس جنگ کو ہر ممکن حد تک مہنگا بنایا جا سکے۔

پھر بھی کچھ لوگوں نے قیاس کیا کہ یہ حملے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی الجھن یا کمانڈ کے خلا کا نتیجہ تھے۔ دوسروں نے مشورہ دیا کہ شاید اسلامی پاسداران انقلاب نے اس موقعے کو ایرانی حکومت کے ’سویلین‘ حصے (جیسے صدر، وزیر خارجہ، نائب وزیر خارجہ اور سفیر) کو یہ یاد دلانے کے لیے استعمال کیا ہو کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے۔

تاہم اس تشریح نے بہت سے ایرانی ماہرین کے اس دیرینہ نقطہ نظر کو نظر انداز کر دیا کہ پاسداران انقلاب ہمیشہ سے ایران میں طاقت کا اصل مرکز رہے ہیں اور یہ کہ حکومت کی گڈ کاپ، بیڈ کاپ (اچھے اور برے پولیس والے) کی حرکیات طویل عرصے سے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی رہی ہے۔

پاسداران انقلاب کو باقی ماندہ شکوک و شبہات دور کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ آئی آر جی سی نے تیزی سے حملوں میں اضافہ کر دیا، یہاں تک کہ اپنے ہی صدر کو نیچا دکھایا اور ان پر تنقید کی۔ درحقیقت خلیج میں سویلین اہداف اور سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے رکنے کے بجائے بڑھ گئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے باوجود سعودی اور خلیجی ملکوں کی جانب سے خیر سگالی کا سلسلہ جاری رہا۔ امید یہ تھی کہ ایک بار نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ہو جانے کے بعد ایران ایک واضح اور مستقل سمت دوبارہ حاصل کر لے گا۔ جب مقتول سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب کیا گیا تو محتاط امید پروان چڑھی، خاص طور پر جب انہوں نے کہا: ’ایران اتحاد کے لیے اور اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند، گرمجوشی پر مبنی اور مخلصانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

’خشکی اور سمندر کے راستے ہمارے 15 پڑوسی ممالک ہیں، اور ہم نے ہمیشہ ان سب کے ساتھ دوستانہ اور تعمیری تعلقات کی خواہش کی ہے اور کرتے رہیں گے۔‘

اس مقام پر ابہام کا کوئی بہانہ نظر نہیں آتا تھا۔ سپریم لیڈر، اپنی تعریف کے لحاظ سے، سب سے اعلیٰ عہدہ ہوتا ہے۔ اس کے پاس مذہبی، سیاسی اور عسکری اختیار ہوتا ہے۔ مزید برآں، امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے والد اور خاندان کے افراد کی موت کا بدلہ لینے والے بیٹے سے زیادہ نظام کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرنے کی کسی سے کم ہی توقع کی جا سکتی تھی۔

پھر بھی نئے آیت اللہ عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ 28 فروری کے اس حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد مارے گئے تھے، جس سے یہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ آیا وہ مکمل طور پر انچارج ہیں۔ اب تک، ایسا نہیں لگتا کہ پاسداران انقلاب نے ان کے احکامات کی تعمیل کی ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف سپریم لیڈر ہیں، بلکہ انہوں نے دہائیوں تک اپنے والد کے چیف آف سٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ اس وقت بھی موجود ہوں گے جب ان کے والد کو شاہ سلمان کا وہ ہاتھ سے لکھا ہوا پیغام موصول ہوا جو گذشتہ سال سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے پہنچایا تھا۔ امکان ہے کہ مجتبیٰ بھی اس کمرے میں موجود ہوں گے جب بزرگ خامنہ ای نے، جو نہ کیمروں کے سامنے بول رہے تھے، اور نہ ہی خوشامد کرنے کے لیے معاوضہ لینے والے کسی سفارت کار کے طور پر کام کر رہے تھے، شہزادہ خالد کو بتایا کہ ایران تہہ دل سے سعودی عرب کو ’امیر، مضبوط اور مستحکم‘ دیکھنا چاہتا ہے۔

اس جذبے نے 2023 کے بیجنگ معاہدے کی روح کو تقویت بخشی، جو سابق سپریم لیڈر کی آشیرواد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

آج، اگرچہ دیگر جی سی سی ممالک کی طرح سعودی عرب نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ جارحیت کا جواب دینے کا حق اب بھی موجود ہے، لیکن غالب امید یہی ہے کہ نئے سپریم لیڈر اسی راستے پر چلتے رہیں گے جسے ان کے والد نے بیجنگ معاہدے کی توثیق کرتے وقت اپنایا تھا۔ اختلافات کو پس پشت ڈالنے سے نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔

یہ بھی واضح رہے کہ جب سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی ہے، یہ ایران ہے جس نے اس اعلامیے کی خلاف ورزی کی ہے، نہ کہ سعودی عرب نے۔ ریاض نے اب تک جواب میں تہران پر ایک بھی گولی چلانے سے گریز کیا ہے، حالانکہ وہ سنگین نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان امریکہ کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری یا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کا حوالہ دیے بغیر بھی قائم ہے، جن دونوں نے اپنے اتحادی کی حفاظت کے لیے تیاری کا اشارہ دیا ہے (واشنگٹن کے معاملے میں، ہم ایک بڑے نان نیٹو اتحادی ہیں، اور اسلام آباد کے معاملے میں، حرمین شریفین کی سرزمین جس کے ساتھ اس کا سکیورٹی معاہدہ ہے)۔

نئے سپریم لیڈر کو ان لوگوں کو کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو بیجنگ معاہدے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ خود ایران کے سفیر کے مطابق، سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ تہران کے لیے یہ بہتر ہو گا کہ وہ بعض مغربی میڈیا آؤٹ لیٹس میں آنے والے ان بے بنیاد، گمنام دعووں پر انحصار نہ کرے، جو ان رپورٹرز کی طرف سے لکھے گئے ہیں جن کا ایجنڈا تہران اور ریاض کے درمیان دراڑیں ڈالنا ہے۔

ان دعووں کی ساکھ کو بھی اسی طرح ’مار گرایا جانا‘ چاہیے جیسے ریاض یا اس کی تیل کی تنصیبات کی طرف داغے گئے میزائلوں کو۔

سعودی عرب نے اس جنگ کو ٹالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور اب تک سفارتی راستے کھلے ہیں۔ ویسے عمانیوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا، لیکن 18 دن پہلے کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا اگر ایرانی مذاکرات کاروں نے مذاکرات کے دوران یورینیم کی افزودگی کے حق پر اصرار کیا ہو۔ اگر ایران کا جوہری پروگرام خالصتاً پرامن ہے، تو اس وقت افزودگی پر اصرار کیوں؟ کیا وہ اصرار ان نتائج کے قابل تھا؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چلنے سے ایران بے پناہ مصائب سے بچ سکتا تھا اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اس کے تعلقات محفوظ رہ سکتے تھے۔ افسوس، اب گزرے ہوئے وقت پر پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ہم ایسے پڑوسی ہیں جو مشترکہ تاریخ، عقیدہ اور جغرافیہ رکھتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ دیکھنا تکلیف دہ ہے کہ ایرانی شہری مصائب کا شکار ہیں، مبینہ طور پر 150 سکول کی طالبات ماری گئیں اور ثقافتی ورثے کے مقامات تباہ ہو گئے۔ پھر بھی ہمدردی اس وقت مشکل ہو جاتی ہے جب تہران اپنے قریبی شراکت داروں، بشمول عمان، کی طرف بھی میزائل داغتا ہے، جو جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، آخری لمحے تک ایران کی جانب سے مذاکرات کر رہا تھا اور جس کے سلطان نئے آیت اللہ کو مبارکباد دینے والوں میں سب سے آگے تھے۔

آخر میں، تہران کا یہ دعویٰ کہ خلیجی ممالک پر حملے ایرانی بھیس میں دشمن کے ڈرونز نے کیے، ایک پریشان کن الجھن پیدا کرتا ہے۔ اگر دعویٰ سچ ہے تو اسے کرنے میں اتنی تاخیر کیوں؟ اور تہران اس بیانیے کو علی لاریجانی اور دیگر سخت گیر رہنماؤں جیسی شخصیات کے ان سابقہ بیانات کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کرتا ہے جنہوں نے کھلے عام ان حملوں کا جواز پیش کیا تھا؟

اس طرح کا منظر نامہ یہ بھی بتاتا ہے کہ حکومت اور اس کی ملیشیا یا تو غیر فعال ہیں اور الگ تھلگ کام کر رہی ہیں یا پھر ان میں خطرناک حد تک دراندازی ہو چکی ہے۔

اگر دعویٰ جھوٹا ہے، تو یہ صرف اس تھوڑی بہت ساکھ کو مزید ختم کرتا ہے جو باقی رہ گئی ہے۔

بہرحال، پڑوسی ممالک پر حملے بند ہونے چاہییں۔ خلیجی ممالک کو توقع ہے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، الفاظ کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *