کویت کا حزب اللہ سے منسلک گروہ گرفتار کرنے کا دعویٰ

کویت کی وزارتِ داخلہ نے پیر کو خفیہ آپریشنز کے بعد ایک ’دہشت گرد گروہ‘ کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے جو ان کے مطابق حزب اللہ سے منسلک تھا۔

وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ گروہ کالعدم تنظیم حزب اللہ سے وابستہ تھا اور اس کا ’مقصد ریاست کویت میں امن و امان کو نقصان پہنچانا اور افراد کو اس دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کے لیے بھرتی کرنا تھا۔‘

حزب اللہ لبنان سے تعلق رکھنی والی سیاسی و عسکری جماعت ہے جس کے ایران کے ساتھ گہرے روابط رہے ہیں۔ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف فعال رہی ہے مگر 2024 اور 2025 میں اسرائیل نے اس کی قیادت کو مختلف حملوں میں نشانہ بنا کر اسے خاصا کمزور کر دیا ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے امریکی/اسرائیلی حملے میں قتل کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے جس کے جواب میں اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری ہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اب تک 800 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ 

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایران کی جوابی کارروائیاں 17ویں روز بھی جاری ہیں جن میں اس نے کویت سمیت متعدد خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

کویت کی وزات داخلہ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے گروہ میں 14’ کویتی شہری اور دو لبنانی شہری شامل تھے، اور اس کا مقصد کویت کی خودمختاری کو نقصان پہنچانا، ملک کے استحکام کو کمزور کرنا، افراتفری پھیلانا اور امنِ عامہ کو درہم برہم کرنا تھا۔‘

بیان کے مطابق ’یہ گروہ قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تھا اور شہریوں، رہائشیوں اور ملک کی صلاحیتوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال رہا تھا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کویت کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں اس گروہ سے قبضے میں لی گئی مختلف اشیا دیکھی جا سکتی ہیں۔

ساتھ ہی وزارت نے واضح کیا کہ پبلک پراسیکیوٹر سے ضروری قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد ’دہشت گرد تنظیم کے قبضے سے متعدد بنکرز (خفیہ ٹھکانے) ملے جہاں سے اسلحہ اور گولہ بارود، قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار، خفیہ مواصلاتی آلات (MORS)، ڈرونز، دہشت گرد تنظیموں کے جھنڈے اور تصاویر، نقشے، منشیات اور نقد رقوم وغیرہ بھی ملی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا ہے کہ تحقیقات مکمل کی جا رہی ہیں اور ملزمان کے خلاف ضروری قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں، جبکہ انہیں دائرۂ اختیار کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *