مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ: کون سے شعبے زیادہ متاثر ہوں گے؟

مٹی کے تیل کی قیمت میں حالیہ اضافے نے کراچی میں محمود آباد کے رہنے والے سلیم، جنہیں ’سلیم سپرے والا‘ کے نام سے سے جانا جاتا ہے، کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

وہ گھروں، دفاتر اور دوسری کئی جگہوں پر مچھر اور کاکروچ سمیت دوسرے کیڑے مکوڑے مارنے کے لیے کیڑے مار دواؤ چھڑکانے کا کام کرتے ہیں۔

سلیم، جو کیڑے مار سپرے میں مٹی کا تیل ملاتے ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مٹی کا تیل سستا ہونے کے باعث ان کے کام میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اب تو وہ بھی مہنگا ہو گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’قیمتوں میں حالیہ اضافے نے میرا حساب کتاب ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ میں نے اپنی اجرت بڑھا دی تو لوگ سپرے کروانا ہی بند کر دیں گے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مجھے پرانا ریٹ بالکل بھی وارا نہیں کھاتا۔‘ 

وفاقی حکومت نے 15 مارچ 2026 کو پیٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مٹی کے تیل کا نرخ 39.20 روپے فی لیٹر بڑھا دیا ہے، جس سے ایک لیٹر کیروسین آئل اب 358.01 روپے میں دستیاب ہو گا۔ 

مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے نے سلیم جیسے کئی لوگوں کے روزگار کو متاثر کیا ہے اور ماہرین کے خیال میں اس اقدام کے اثرات مختلف صنعتوں اور کاروباری شعبوں پر بھی ظاہر ہوں گے۔

تجزیہ کار سرمایہ کاری زیان بابر خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’تیل کی بلند قیمتیں معیشت کے مختلف شعبوں پر یکساں اثر نہیں ڈالتی بلکہ ہر شعبے کی ساخت، لاگت اور قیمتوں کی منتقلی کی صلاحیت کے مطابق نتائج مختلف ہوتے ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن،  ریفائنری اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے شعبوں کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ عمومی طور پر مثبت سمجھا جاتا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ’جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ان کمپنیوں کی پیداوار کی قدر بڑھ جاتی ہے، خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کے درمیان سپریڈ بہتر ہو جاتا ہے اور موجودہ انوینٹری سے بھی اضافی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

’اس طرح آمدنی اور منافع دونوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے اوران شعبوں کا کیش فلو مضبوط ہو جاتا ہے۔‘

زیان بابر خان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے برعکس فرٹیلائزر اور پاور سیکٹر کے لیے تیل کی بڑھتی قیمتوں کا اثر زیادہ تر نیوٹرل رہتا ہے۔ 

’اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان شعبوں میں اضافی لاگت کا بڑا حصہ صارفین تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو کمپنیاں اپنی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کر کے اس اضافی بوجھ کو کسی حد تک پورا کر لیتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے منافع کے مارجن نسبتاً مستحکم رہتے ہیں۔

’تاہم کچھ صنعتیں ایسی بھی ہیں جو اس رجحان سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیمنٹ سیکٹر کے لیے تیل اور توانائی کی بلند قیمتیں ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہیں۔ اس صنعت میں کوئلہ پیداواری لاگت کا اہم حصہ ہوتا ہے، اور جب عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کوئلے کی قیمتیں بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔ اس کےنتیجے میں پیداواری اخراجات بڑھتے ہیں، منافع کے مارجن سکڑ جاتے ہیں اور سخت مسابقت کے ماحول میں کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھتا ہے۔‘

مجموعی طور پر زیان بابر  کا ماننا ہے کہ  ’تیل کی بلند قیمتیں معیشت میں یکساں اثر پیدا نہیں کرتیں ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کچھ شعبےاس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، کچھ اسے قیمتوں میں ایڈجسٹ کر لیتے ہیں، جبکہ کچھ کو براہِ راست لاگت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یوں ایک ہی پالیسی یا عالمی قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات معیشت کے مختلف حصوں میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں، جن کی بازگشت بالآخر عام شہریوں اور چھوٹے روزگار سے جڑے لوگوں تک بھی پہنچتی ہے۔‘

کیروسین تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات صرف شہری زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ ملک کے دیہی اور صنعتی ڈھانچے تک بھی پھیل جاتے ہیں۔ 

اس حوالے سےکاروباری رہنما جاوید خنانی کا کہنا ہے کہ ’تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کی معیشت کے بیشتر سیکٹرز متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ایندھن نہ صرف صنعتوں بلکہ دیہی علاقوں کی روزمرہ ضروریات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

دیہی علاقوں میں کیروسین تیل اب بھی روشنی اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بجلی یا گیس کی فراہمی محدود ہے۔ 

جب اس ایندھن کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا براہِ راست اثرکم آمدنی والے گھرانوں پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔

جاوید خنانی کے مطابق: قیمتوں میں اس طرح کے اضافے سے غریب اور نچلے متوسط طبقے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ انہیں اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں تبدیلی نہ صرف معاشی اعداد و شمار بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی گہرا اثرڈالتی ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *