ٹرمپ کی ایران جنگ ان کا کیریئر ختم کر سکتی ہے

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بہترین/بدترین متکبرانہ، پرشور اور حیران کن حالت میں تھے جب انہوں نے جمعرات کو ہیبرون میں خطاب کیا، یعنی کینٹکی کا ہیبرون، مغربی کنارے کا ہیبرون نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں جنگ جیتی جا چکی ہے۔ درحقیقت انہوں نے اپنے سامعین کو بتایا کہ یہ پہلے ہی گھنٹے میں جیت لی گئی تھی۔ انہوں نے آپریشن کے لیے اتنا زبردست نام تجویز کرنے پر اپنی ہی تعریف کی۔ ’ایپک فیوری، کیا یہ ایک زبردست نام نہیں ہے؟‘ انہوں نے اپنے سامعین سے مذاق کیا، جیسے آپ پہلے کوئی زبردست نعرہ سوچے بغیر جنگ شروع ہی نہیں کر سکتے۔

اب آپ سوچیں گے کہ جنگ کے دوسرے ہفتے میں، جہاں امریکی فوجی مرد و خواتین خطرے میں ہیں، وہاں قومی پرچم تلے اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ یہاں وہ رپبلکن ریاست کینٹکی میں تھے، اور جب انہوں نے یہ الفاظ ادا کیے، تو مجھے توقع تھی کہ اس وفادار بڑے ہجوم کی جانب سے ہر جملے اور ہر لفاظی پر ’یو ایس اے‘ کے پرجوش نعرے لگیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سامعین عجیب طور پر خاموش تھے۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ جانتے ہوں جو ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور دور دور تک کوئی فتح نظر نہیں آ رہی۔ حکومت نہیں گری، اور ایرانی بڑی آسانی سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے قابل ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ امریکی اپنی تمام تر بےپناہ طاقت کے باوجود اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔

اب یہ مبالغہ آرائی ہو گی اگر میں کہوں کہ یہ 21 دسمبر 1989 کے اس لمحے جیسا تھا، جب نکولائی چاؤسسکو رومانیہ کے دارالحکومت میں بالکونی پر کھڑے تھے اور انہوں نے دیکھا کہ سامعین ان کے ہر لفظ پر داد نہیں دے رہے تھے۔ اور اگر میں اس کا موازنہ ہانس کرسچن اینڈرسن کی پریوں کی ایک کہانی سے کروں جس میں ایک چھوٹا لڑکا چاپلوسوں میں گھرے ایک مغرور حکمران کو چلاتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے کپڑے نہیں پہنے ہوئے، تو میں یقیناً خیالی دنیا میں بھٹکنے کے خطرے سے دوچار ہوں گا۔

لیکن شاید اس کا کوئی چھوٹا سا عنصر موجود ہے۔ گذشتہ برسوں میں ٹرمپ کی خوبی یہ رہی ہے کہ وہ زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹی ہوئی انتہائی متنازع باتیں کہنے کے قابل رہے ہیں، اور ان کے مداحوں نے ہاں میں ہاں ملائی ہے۔

ایران میں یہ جنگ مختلف محسوس ہوتی ہے۔ صدارتی انتخاب لڑتے وقت امریکیوں سے ان کی اپیل یہ تھی کہ وہ امریکہ کو دور دراز کے تنازعات میں نہیں الجھائیں گے۔ ان کا نعرہ ’سب سے پہلے امریکہ‘ تھا، اور پھر بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں الجھا دیا ہے جو ان کا اپنا انتخاب ہے۔ رائے عامہ کو تیار نہیں کیا گیا، اس کی کوئی معقول وضاحت نہیں دی گئی کہ ایسا کیوں ہے، اور اب کیوں۔ اس بارے میں کوئی واضح بیانیہ نہیں ہے کہ سٹریٹجک اہداف کیا ہیں۔ کیا اس کا مقصد حکومت کی تبدیلی ہے؟ ایران کے جوہری ہتھیاروں کو تباہ کرنا مقصود ہے؟ یا یہ صرف انہیں تھوڑا سا کمزور کرنے کا معاملہ ہے؟ ان کے پیغامات میں شدید تضاد اور ابہام رہا ہے۔

اب ہم ایک ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں امریکیوں کے پاس نشانہ بنانے کے لیے اہداف ختم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ایرانی فضائی دفاع کو تباہ کر دیا ہے، اہم ایرانی انفراسٹرکچر (اور لڑکیوں کے ایک سکول) کو اڑا دیا ہے، ایرانی قیادت کو ختم کر دیا ہے، لیکن حکومت اب بھی قائم ہے۔

پھر آبنائے ہرمز ہے، جس کے ذریعے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، ایرانی بحریہ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسے غرق کر دیا گیا ہے۔ لیکن آبنائے تنگ ہے۔ اور اس کے لیے صرف ایک کشتی درکار ہے جو سمندر میں بارودی سرنگ گرا دے (اور خیال کیا جاتا ہے کہ ایرانیوں کے پاس ایسی ہزار کشتیاں ہیں) اور لیجیے، آپ نے عالمی تجارت کی اس اہم شہ رگ کو بند کر دیا۔ اور امریکی بحریہ کی تمام تر مہلک طاقت کے باوجود، وہ اس بارے میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ایرانیوں کے لیے یہ بس اتنا ہی سادہ ہے۔

کیا ٹرمپ کے ارد گرد موجود کسی شخص نے انہیں متنبہ کیا تھا کہ اس کا معاشی نتیجہ کافی بڑا ہو سکتا ہے؟ کیا انہوں نے اس پر پوری طرح غور کیا تھا؟ خیر، شاید انہوں نے ایسا کیا ہو اور ٹرمپ نے اسے نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ یاد رہے کہ یہ ان کی دوسری مدت ہے جہاں صدر ایسے مشیر نہیں چاہتے جو انہیں چیلنج کریں، وہ ایسے چاپلوس حامی چاہتے ہیں جو کہیں: ’بہت خوب، سر۔‘

لہٰذا جب امریکیوں کو اپنی زیادہ ایندھن پینے والی گاڑیوں میں تیل بھرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے، تو ایسے میں فتح کا دعویٰ کرنا کافی کھوکھلا محسوس ہوگا۔ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ برہنہ ہیں اور ان کے پاس کپڑے نہیں ہیں، ایک ایسا تصور جو کسی کو بھی، یہاں تک کہ میلانیا کو بھی، ذہن میں نہیں لانا چاہیے، لیکن وہ تھوڑے بے نقاب ضرور لگ رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ خوفناک اوقات ہیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ، جو ہمیشہ سے تفریح فراہم کرنے والے رہے ہیں، اس مقابلۂ حسن سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جو وہ اپنے نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کے درمیان منعقد کرانے میں کامیاب رہے ہیں، یہ وہ دو افراد ہیں جو 2028 کے انتخابات میں ان کی جگہ لینے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں۔

اس وقت مارکو پر تعریفوں کے ڈنگرے نچھاور کیے جا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ ان سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جے ڈی وینس ایرانی مہم جوئی، یا جیسا کہ ٹرمپ اب اسے ایک تفریحی دورہ کہہ رہے ہیں، کے حوالے سے بہت زیادہ شکوک و شبہات کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس بارے میں وینس کے شکوک و شبہات مستقبل میں ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

ییہ سب ہمیں جوتوں کی طرف لے کر آتا ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ یہ صدر خراب جوتوں کو خاص طور پر ناپسند کرتے ہیں۔ اس لیے جب انہوں نے اپنے نائب صدر اور سیکرٹری آف سٹیٹ کو خستہ حال اور عام استعمال والے جوتے پہنے دیکھا، تو انہوں نے کہا کہ وہ انہیں نئے جوتے خرید کر دیں گے۔ روبیو کو حال ہی میں ایسے جوتے پہنے ہوئے تصویروں میں دیکھا گیا ہے جن میں ان کی ایڑی چمڑے کے اوپری حصے کے پچھلے حصے کے آس پاس بھی نہیں تھی۔

اب آپ کو یاد ہو گا کہ ایک دہائی قبل صدارتی مباحثے میں روبیو نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پراپرٹی ٹائیکون کے چھوٹے ہاتھ، امم، کہیں اور سے چھوٹا ہونے کی علامت ہیں۔ اب جو نظریہ گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ٹرمپ نے ان سے پوچھا کہ انہیں کس سائز کے جوتے چاہییں، تو روبیو نے گھبرا کر جواب دیا ’سائز 11‘، حالانکہ ان کا سائز صرف آٹھ ہے۔

لہٰذا اگر آپ سیکرٹری آف سٹیٹ کو ٹی وی پر اس طرح لڑکھڑاتے ہوئے دیکھیں جیسے کسی چھوٹی بچی نے اپنی ماں کی ہائی ہیلز پہن رکھی ہوں، تو آپ کو اس کی وجہ معلوم ہے۔

کیا میرے پاس اس سب کے لیے کوئی قابلِ اعتماد ذرائع ہیں؟ نہیں۔ لیکن کچھ کہانیاں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ ان کی تصدیق کرنے کا دل نہیں چاہتا۔ اور جیسا کہ میں نے کہا، یہ خوفناک اوقات ہیں۔ ہمیں مسکرانے کے لیے کسی چیز کی ضرورت ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *