اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو افغانستان میں یو این کے افغانستان میں امدادی مشن (یوناما) کے میینڈیٹ کو معمول سے کم محض تین مہینوں کی مدت تک بڑھانے کے لیے ووٹ دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکہ نے گذشتہ ہفتے طالبان کے زیر اقتدار ملک میں امداد اور مصروفیات پر نظرثانی کی ضرورت پر زاور دیا تھا۔
یوناما کا مینڈیٹ، جو 2002 میں امریکی زیرقیادت افواج کی جانب سے طالبان کی پہلی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد قائم کیا گیا تھا، میں عام طور پر سالانہ توسیع کی جاتی ہے۔ تاہم 2021 میں بھی اس میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی تھی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد کن تبدیلیوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
چین، جو افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا مسودہ تیار کرنے کا ذمہ دار ہے، نے کہا کہ توسیع کا فیصلہ ’کونسل کے کچھ اراکین کی جانب سے یوناما کے مینڈیٹ میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کرنے کی خواہش پر غور کرنے‘ اور ’سنجیدہ بات چیت اور ذمہ دارانہ فیصلے کو اپنانے کے لیے کافی وقت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔‘
گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل میں، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا تھا کیا کہ یوناما کا بجٹ اقوام متحدہ کے کسی بھی خصوصی بجٹ میں سب سے بڑا ہے۔ دنیا میں مشن اور کونسل کو ’اس مشن کے بجٹ کے لیے ہم اجتماعی طور پر فراہم کیے جانے والے فنڈز پر غور کرنا چاہیے۔‘
مائیک والٹز نے طالبان کی جانب سے یوناما کے کام میں رکاوٹ، بے گناہ امریکیوں کو حراست میں لے کر ’یرغمالی سفارت کاری‘ کے استعمال اور خواتین کے حقوق پر اس کی ’غیر سمجھدار‘ پابندیوں کا حوالہ دیا تھا۔
سلامتی کونسل کی رپورٹ، ایک آزاد تھنک ٹینک جو کونسل کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے، میں کہا گیا ہے کہ چین نے ابتدائی طور پر یوناما کے مینڈیٹ کی ایک سال کی تجدید کی تجویز پیش کی، جس کی کونسل کے زیادہ تر ارکان نے حمایت کی۔
تاہم، اقوام متحدہ کے اہلکار نے کہا کہ امریکہ صرف تین ماہ کے تکنیکی رول اوور پر رضامند ہو گا۔
طالبان کے ماتحت افغانستان کو دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے۔
یوناما کی عبوری سربراہ جارجٹ گیگنن نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ افغانستان کو ’فوری‘ انسانی ضروریات درکار ہیں اور فنڈنگ میں کٹوتی کی وجہ سے وہاں انسانی بحران مزید بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں کا مقصد 2026 میں 1.71 ارب ڈالر کی اپیل کے ذریعے 17.5 ملین افغانوں کی مدد کرنا تھا، لیکن فی الحال یہ صرف 10 فیصد فنڈز ہے۔
لاکھ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افغان یا آبادی کا ایک تہائی شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں 40 لاکھ 70 ہزار بھوک کی ہنگامی سطح کا سامنا کر رہے ہیں۔
امریکہ، جس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں اپنے عالمی امدادی بجٹ میں کمی کی تھی، طالبان پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور سوئس میں قائم ٹرسٹ فنڈ سے افغان مرکزی بینک کے تقریباً 4 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔
طالبان رہنماؤں پر پابندیاں
افغانستان کے اخبار افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق، ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی نے سینیئر طالبان ارکان اور عہدیداروں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے جن پر پابندیاں عائد ہیں۔ اس فہرست میں طالبان کے وزیر اعظم محمد حسن اخوند، ان کے اقتصادی نائب عبدالغنی برادر اور گروپ کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی شامل ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ’تازہ ترین فہرست کے مطابق 22 طالبان عہدیداروں پر سفری پابندیاں، اثاثے منجمد اور سلامتی کونسل کی طرف سے اسلحے کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
پابندیوں کی کمیٹی نے 10 مارچ کو کالعدم طالبان عہدیداروں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کیا۔ نئی فہرست کے تحت طالبان انتظامیہ میں کئی وزراء اور اعلیٰ عہدیدار اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں ہیں۔
افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ نامزد ہونے والوں میں وزیراعظم محمد حسن اخوند شامل ہیں۔ نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور عبدالغنی برادر، انتظامی نائب عبدالسلام حنفی، وزیر خارجہ امیر خان متقی وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر برائے مہاجرین اور وطن واپسی عبدالکبیر، وزیر زراعت عبداللطیف منصور، وزیر ٹرانسپورٹ اور سول ایوی ایشن فضل محمد مظلوم، سابق وزیر اعلیٰ تعلیم عبدالباقی حقانی، وزیر اقتصادیات دین محمد حنیف۔ قدرت اللہ جمال، وزارت اطلاعات و ثقافت کے نائب وزیر برائے سیاحت، نورالدین ترابی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ، تعمیرات عامہ کے وزیر محمد عیسیٰ اخوند، شہری ترقی کے وزیر نجیب اللہ حقانی، وزیر حج و مذہبی امور نور محمد ثاقب، انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق اور میدان وردک کے گورنر خیر اللہ خیرخواہ شامل ہیں۔
’ان عہدیداروں کے علاوہ گروپ کے کئی دیگر ارکان جن میں حمید اللہ اخوند، عزیز الرحمان، گل آغا اسحاق زئی، ملک نورزئی اور احمد ضیا آغا شامل ہیں، بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں ہیں۔‘
