ایران جنگ: سعودی عرب خلیجی پروازوں کا اہم مرکز بن گیا

امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور ایسے میں فوجی کشیدگی اور فضائی و بحری راستوں میں رکاوٹوں کی وجہ سے سعودی عرب ایک اہم عبوری مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔

خلیجی عرب ریاستوں کو جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً دو ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا، جن کا ہدف امریکی سفارت خانے، فوجی اڈے، خلیج کی اہم تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، ہوٹلز، رہائشی اور دفتری عمارتیں تھیں۔

اس صورت حال میں سعودی عرب خلیج اور عرب دنیا کے دیگر حصوں میں سفر اور لاجسٹکس کے لیے ایک اہم راستہ بن کر ابھرا ہے کیونکہ اس نے کئی خلیجی ایئر لائنز کو اپنے ایئرپورٹ اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

عراق ایئر ویز کو شمالی سعودی عرب میں ارار ہوائی اڈے کے ذریعے پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی ہے، جس پر عراق نے سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔

سعودی ایئر اڈوں میں حالیہ دنوں میں فضائی ٹریفک میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ ایئر لائنز نے متنازع علاقوں سے بچنے کے لیے پروازیں منتقل کیں۔

اتوار کو گلف ایئر نے اعلان کیا کہ وہ کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے اپنے آپریشنز بڑھا رہی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل جزیرہ ایئرویز نے کہا کہ وہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے ذریعے پروازیں چلائے گی۔

ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں پڑوسی خلیجی ممالک پر ڈرون حملے کر رہا ہے۔ 

متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کے آغاز کے بعد سے 298 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1,606 ڈرونز ناکام بنائے۔

وزارت دفاع کے پیر کو ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ ایران کی جانب سے ہونے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

پیر کو ہی دبئی کے انٹرنیشنل ہوائی اڈے نے ایک ڈرون گرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے پروزیں معطل کر دی تھیں۔

کویت کی نیشنل گارڈ نے پیر کی صبح اطلاع دی کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو ڈرونز کو ناکام بنایا گیا جبکہ بحرین نے کہا کہ ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک 125 میزائل اور 212 ڈرونز تباہ کیے گئے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *