ایونجیلیکل عیسائیت کا اوول آفس تک کا سیاسی سفر

ایران پر امریکی اور اسرائیلی جنگ کے دوران اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک تصویر نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔

تصویر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوول آفس میں پادریوں کے بیچ بیٹھے ہیں اور وہ سب ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جنگی بحران سے نمٹنے کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔

ان میں سے 90 فیصد پادریوں کا تعلق ایونجیلیکل چرچ سے تھا۔ ایونجیلیکل عیسائیت کیا ہے؟ یہ کب، کیوں اور کیسے امریکی معاشرے اور سیاست کا ایک طاقت ور ترین عنصر بن گئی؟

ان سوالوں کا جواب جاننے کے لیے ہمیں امریکی تاریخ کے ابتدائی ادوار کو کھنگالنا ہو گاـ

امریکہ میں مذہبی قدامت پسندی اور تشدد کی جڑیں اس کے قیام سے پہلے ہی پیوست ہیں۔ شمالی امریکہ میں پہلی مستقل برطانوی کالونی 1607 میں جیمز ٹاؤن، ورجینیا میں قائم ہوئی۔

اگلی ڈیڑھ صدی کے دوران برطانیہ نے متعدد کالونیاں قائم کیں جنھیں بعد میں ’13 کالونیاں‘ کہا گیا۔

یہ کالونیاں بحر اوقیانوس کے ساحل کے ساتھ شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی تھیں اور عمومی طور پر تین حصوں میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ شمالی یا نیو انگلینڈ کالونیاں، وسطی کالونیاں اور جنوبی کالونیاں۔

نیو انگلینڈ کی شمالی کالونیوں میں میساچوسٹس، نیو ہمشائر اور رہوڈ آئی لینڈ شامل تھیں۔ یہاں کے باشندے تجارت، جہاز سازی اور تعلیم سے وابستہ تھے۔

تاہم اس خطے کی ابتدائی تاریخ مذہبی سخت گیری سے خالی نہیں تھی۔ 17ویں صدی میں برطانیہ میں چرچ آف انگلینڈ کی اصلاح کے لیے ایک مذہبی تحریک اٹھی جسے Puritan Movement کہا جاتا ہے۔

اس تحریک سے وابستہ کئی گروہ 1620 کے بعد نیو انگلینڈ میں آکر آباد ہوئے اور مذہبی سخت گیری کو فروغ دیا۔

اس مذہبی شدت کی ایک نمایاں مثال 1692 کے بدنام زمانہ Salem Witch Trials ہیں، جب میساچوسٹس میں جادوگری کے الزامات کے تحت درجنوں مردوں اور عورتوں کو سزائے موت دی گئی۔

امریکی ڈرامہ نگار آرتھر ملر نے اپنے معروف ڈرامے The Crucible میں انہی واقعات کو علامتی انداز میں پیش کیا۔

اٹھارہویں صدی میں جب شمالی ریاستوں میں صنعت اور تجارت نے ترقی کی تو مذہبی سخت گیری آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔

اسی خطے میں غلامی کے خلاف تحریک بھی مضبوط ہوئی جسے Abolitionist movement کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں فریڈرک ڈگلس اور ولیم لوئیڈ گریژن شامل تھے۔

امریکہ کی وسطی کالونیاں مذہبی تنوع کے اعتبار سے سب سے زیادہ کشادہ ذہن سمجھی جاتی تھیں۔ ان میں نیویارک، پینسلوینیا، نیوجرسی شامل تھیں۔ یہاں مختلف مسیحی فرقوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والے آباد تھے۔

اس خطے میں عیسائی فرقہ کوئیکرز کا خاصا اثر تھا، جن کی سب سے بڑی کالونی پینسلوینیا تھی۔ کوئیکرز مذہبی رواداری، عدم تشدد اور غلامی کی مخالفت کے حامی تھے اور امریکی تاریخ میں مذہبی آزادی کے ابتدائی علم برداروں میں شمار ہوتے ہیں۔

فلیڈیلفیا جلد ہی امریکہ کا سب سے متنوع مذہبی شہر بن گیا۔ اس کے برعکس جنوبی کالونیاں، جن میں میری لینڈ، نارتھ کیرولینا، ساؤتھ کیرولینا، جارجیا، شامل تھیں، جو زرعی معیشت پر انحصار کرتی تھیں۔

بڑی بڑی زرعی جاگیروں پر افریقی غلاموں سے سخت مشقت لی جاتی تھی، جس کی وجہ سے غلامی کی جڑیں یہاں بہت مضبوط ہو گئیں۔ مذہبی میدان میں بھی یہاں سخت گیر رجحانات نمایاں تھے۔

اٹھارہویں صدی میں دو پروٹسٹنٹ فرقے، بپٹسٹ چرچ اور میتھوڈسٹ چرچ تیزی سے پھیلنے لگے۔ ان کے مبلغ دیہی علاقوں میں بڑے مذہبی اجتماعات منعقد کرتے اور جذباتی خطبات کے ذریعے عوام کو متاثر کرتے۔

1730 اور 1740 کی دہائیوں میں برطانوی نوآبادیات میں ایک بڑی مذہبی تحریک ابھری جسے First Great Awakening کہا جاتا ہے۔

اس تحریک نے ذاتی ایمان اور روحانی بیداری پر زور دیا اور عوامی مذہبی اجتماعات کو عام کیا۔ اس کے نتیجے میں بپٹسٹ اور میتھوڈسٹ فرقوں کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اور یہیں سے ’ایونجیلیکل عیسائیت‘ بھی ایک مذہبی تحریک کے طور پر وجود میں آئی۔

جلد ہی یہ فرقے غلام افریقیوں میں بھی پھیل گئے اور بعض چرچوں میں بائبل کی آیات کی مخصوص تشریح کے ذریعے غلامی کو جائز قرار دیا جاتا رہا۔ آج امریکہ کے اسی جنوبی خطے کو بائبل بیلٹ کہا جاتا ہے، جہاں مذہبی قدامت پسندی اب بھی بہت مضبوط ہے۔

1776 میں تیرہ کالونیوں نے برطانیہ کے خلاف بغاوت کر کے آزادی کا اعلان کیا اور بعد ازاں 1783 میں امریکہ کو باضابطہ آزادی حاصل ہوئی۔

انیسویں صدی کے آغاز میں ایک اور مذہبی لہر اٹھی جسے Second Great Awakening کہا جاتا ہے۔ اس دور میں کھلے میدانوں میں بڑے مذہبی اجتماعات منعقد ہونے لگے اور عام لوگ بڑی تعداد میں مذہبی تحریکوں کا حصہ بننے لگے۔

تب ہی ایونجیلیکل تحریک نے امریکی معاشرے میں اپنی بنیادیں مستحکم کیں۔ 1830 میں ہی ڈسپینسیشنلزم کا نظریہ بھی سامنے آیا۔

اس نظریے کی بنیاد بائبل کی آخری کتاب بُک آف ریویلیشن میں بیان کردہ آخری جنگ، جسے ’آرمگیڈون‘ کہا جاتا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں وقوع پذیر ہوگی اور اس کے بعد مسیح کی واپسی ہو گی۔

اس نظریے کو سب سے پہلے آئرلینڈ کے ایک پروٹسٹنٹ مذہبی مفکر ’جان نیلسن ڈربی‘ نے ایک منظم شکل دی اور امریکہ میں جا کر اس کی تبلیغ شروع کی۔ ایونجیلیکل تحریک نے ڈسپینسیشنلزم کو فوراً نہیں اپنایا بلکہ یہ عمل بتدریج ہوا ـ

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایونجیلیکل عیسائیت اور ڈسپینسیشنلزم کا اسرائیل اور صیہونیت سے کیا تعلق ہے؟ جدید صیہونیت کا بانی تھیوڈور ہرزل تھا جو کوئی ربی نہیں ایک ادیب اور صحافی تھا۔

تھیوڈور ہرزل ابتدا میں یورپی معاشرے میں یہودیوں کے انضمام کا حامی تھا لیکن 1890 کی دہائی میں یورپ میں بڑھتی ہوئی یہود دشمنی نے اس کی سوچ بدل دی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس نے 1896 میں اپنی کتاب The Jewish State میں یہودیوں کے لیے فلسطین کو ایک قومی ریاست کے طور پر پیش کیا۔ نتیجتاً ہرزل کے صیہونی سیاسی منصوبے کو امریکی ایونجیلیک حلقوں نے مذہبی اور اخلاقی حمایت دی ـ

تقریباً انیسویں صدی کے آخر سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک ڈسپینسیشلزم نظریے نے ایونجیلیکل دنیا میں مضبوط جگہ بنائی اور جب 1948 میں اسرائیل قائم ہوا تو امریکی ایونجیلیکل مسیحیوں نے اسے بائبل کی پیش گوئی کی تکمیل کا درجہ دیا۔

اسی نظریے کی بنیاد پر آج بھی ایونجیلیکل حلقوں میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو محض سیاسی نہیں بلکہ مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ اس نظریے کو عام طور پر Christian Zionism کہا جاتا ہے۔

بیسویں صدی میں مذہبی مبلغ ’بلی گراہم‘ نے ایونجیلیکل تحریک کو جدید میڈیا کے ذریعے منظم شکل دی اور عالمی تحریک بنایا۔ بعد ازاں 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ایونجیلیکل گروہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں فعال کردار ادا کرنا شروع کیا۔

اس مرحلے پر ٹیلی ایوینجیلسٹ ’جیری فال ویل‘ نے مذہبی ووٹروں کو منظم کر کے دائیں بازو کی سیاست کے لیے زمین ہموار کی اور مذہب اور سیاست کے اتحاد کو مزید مضبوط کر دیا ـ

1976 کے بعد سے کئی امریکی صدور ایسے رہے جن کی کامیابی میں ایونجیلیکل ووٹرز نے اہم کردار ادا کیا، جن میں جمی کارٹر، رونالڈ ریگن، جارج ڈبلیو بش اور ڈونلڈ ٹرمپ شامل ہیں۔

آج امریکہ میں ایونجیلیکل عیسائی ایک بڑا سماجی اور سیاسی گروہ بن چکے ہیں جو کئی اہم پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، خاص طور پر اسرائیل کی حمایت کے معاملے میں۔

2024 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں بھی جنوبی ریاستوں اور ایونجیلیکل ووٹروں کا اہم کردار تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے اسرائیل کے حق میں کئی اہم فیصلے کیے، جن میں یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت اور گولان ہائٹس پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنا اور ایران پر سخت موقف اختیار کرنا شامل ہے۔

اوول آفس میں ایونجیلیکل پادریوں کے حلقے میں بیٹھے ٹرمپ کی وہ تصویر دراصل محض ایک مذہبی منظر نہیں بلکہ امریکی سیاست کی ایک گہری تاریخی حقیقت کی علامت ہے۔

یہ تصویر یاد دلاتی ہے کہ طاقت، مذہب اور عالمی سیاست کے درمیان رشتہ اکثر اتنا پرانا ہوتا ہے کہ اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں مذہبی بیانیے کا استعمال اسی طویل سیاسی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسی حکمت عملی جس میں عقیدہ، طاقت اور جغرافیائی مفادات بیک وقت کارفرما نظر آتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *