طورخم پر پڑی لاش بھانجے کی ہے جو فتح جنگ میں گھر واپس جانا چاہتا تھا: ماموں کا دعویٰ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد پر گذشتہ 12 دن سے پڑی لاش کے حوالے سے ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ان کے بھانجے کی ہے، جن کا نام خالد ہے اور ان کے خاندان کا آبائی تعلق افغان صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد سے ہے، تاہم وہ پاکستانی علاقے فتح جنگ میں اپنے پرانے گھر جانا چاہتے تھے۔

یہ شخص گذشتہ دنوں طورخم پر سرحدی کشیدگی کے دوران مارے گئے تھے، جس کے بعد سے ان کی لاش وہاں موجود ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

تاحال پاکستان اور افغانستان کے حکام کی جانب سے اس لاش کے حوالے سے باضابطہ کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

خالد کے ماموں علی گل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے فیس بک پر کچھ ویڈیوز اور تصاویر دیکھیں اور ’اسی سے نشاندہی کی کہ یہ میرے بھانجے کی لاش ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور خالد ذہنی طور پر معذور تھے۔

علی گل نے بتایا کہ خالد کا خاندان پاکستان کے علاقے فتح جنگ میں رہائش پذیر تھا لیکن پھر افغان پناہ گزینوں کے انخلا کی مہم کے دوران واپس اپنے آبائی علاقے جلال آباد منتقل ہو گیا تھا۔

انہوں نے بتایا: ’یہ (خالد) جلال آباد میں اپنے گھر سے نکلے اور  گھر والوں کو یہی بتایا تھا کہ وہ واپس اپنے فتح جنگ والے گھر جانا چاہتے ہیں، تاہم طورخم سرحد پر مارے گئے۔‘

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کی بلدیاتی حکومت کے نمائندے شاہ خالد نے جمعرات کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ طورخم سرحد پر گذشتہ تقریباً 10 روز سے زائد ایک لاوارث لاش پڑی ہے، جسے جمعرات کو دونوں ملکوں کے ایک جرگے کی کوششوں کے باوجود اٹھایا نہیں جا سکا۔

دونوں ممالک کے جرگے کے وفود کی ملاقات کے دوران کچھ گھنٹوں کے لیے فائر بندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

خیبر جرگہ کے رکن شاہ خالد کے مطابق یہ محنت کش بارڈر پر ہتھ ریڑی چلاتے تھے، جس کے ذریعے مسافروں کے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔

خالد نامی شخص کی لاش کے حوالے سے ان کے ماموں نے مزید بتایا کہ ان کے دیگر بھائی جلال آباد میں حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، تاکہ لاش کو اٹھا کر تدفین ہو سکے لیکن تاحال افغان طالبان کی جانب سے لاش کو اٹھانے کی اجازت نہیں ملی۔

لاش اٹھانے کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطے کی کوشش بھی کی، لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

ضلع خیبر کے سرکاری حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو یہی بتایا ہے کہ پاکستانی جرگے کے مطابق لاش افغان شہری کی ہے اور وہی اسے اٹھانے کا بندوبست کریں گے۔

پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر گذشتہ تقریباً پانچ مہینوں سے بند ہے۔ پاکستانی سائیڈ پر ٹرمینل مکمل طور پر خالی ہے اور کسٹم دفاتر بھی بند پڑے ہیں جبکہ کشیدگی اور سکیورٹی کی وجہ سے کسی کو بھی بارڈر کے دروازے تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *