پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے علاقے میں منڈلانے والے دو یو اے وی کو فضائی دفاع نے جمعے کو مار گرایا ہے، جس کی تصدیق سینیئر پاکستانی حکام نے کی ہے۔
پاکستانی حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ شام سات بج کر 15 منٹ کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں حمزہ کیمپ کے کے اوپر دو ڈرون منڈلا رہے تھے جنہیں ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا ہے۔
افغان نیوز ویب سائٹ طلوع نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ افغان فورسز نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں واقع ایک فوجی تنصیب جس کا نام حمزہ ہے، کو نشانہ بنایا ہے۔
اس دوران اسلام آباد کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کے غیر ملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے کہا کہ چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو روکے جانے کے بعد اسلام آباد کی فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہے۔
سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بھی کہا گیا کہ ’اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل وجوہات کی بنا پر آج کچھ دیر کے لیے فلائٹ آپریشنز میں معمولی آپریشنل ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، تاہم تمام پروازیں اب معمول کے مطابق آپریٹ ہو رہی ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان سول ایوی ایشن نے ’مسافروں سے گزارش کی ہے کہ اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کریں۔‘
اس سے قبل آج خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں بھی پولیس نے تین ڈرون حملے ناکام بنائے تھے، جن کے نتیجےمیں تین افراد زخمی ہوئے۔
ڈرون گرائے جانے کے یہ واقعات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب پاکستان اور افغانستان کے حالات کشیدہ ہیں اور سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
