گوگل کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل، 32 ارب ڈالرز میں ’وز‘ کو کیوں خریدا؟

گوگل نے اپنی 28 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی خریداری کا اعلان کیا ہے۔ 32 ارب ڈالر کی یہ قیمت اسرائیلی سائبر سکیورٹی کمپنی وز کی خریداری کے لیے ادا کی جا رہی ہے۔

یہ اس رقم سے بھی دگنی ہے جسے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے 2012 میں اپنی پچھلی سب سے بڑی خریداری موٹرولا (12.5 ارب ڈالر) پر خرچ کیا تھا۔

گوگل کی دیگر بڑی خریداریاں بھی مشہور برانڈز پر مشتمل رہی ہیں، جیسے سمارٹ ہوم سکیورٹی سسٹم نیسٹ اور دنیا کا معروف ترین ویڈیو پلیٹ فارم یوٹیوب۔

اگرچہ تازہ ترین ڈیل گذشتہ دو برسوں سے زیر گفتگو تھی، ٹیکنالوجی کی دنیا سے باہر بہت کم لوگ وز کے بارے میں جانتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ یہ کمپنی کیا کرتی ہے۔

آخر یہ کمپنی صرف چھ سال میں اتنی قیمتی کیسے بن گئی؟ اور گوگل اسے اپنی ملکیت میں لینے کے لیے ریکارڈ رقم ادا کرنے پر کیوں آمادہ ہوا؟

گوگل نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ یہ خریداری ’کلاؤڈ سکیورٹی بہتر بنانے اور تنظیموں کو کسی بھی کلاؤڈ یا اے آئی پلیٹ فارم پر تیزی اور محفوظ طریقے سے کام کرنے کے قابل بنانے‘ کے لیے کی گئی ہے۔

اپنے بیان میں وز نے کہا کہ گوگل کے ساتھ شامل ہونے سے کمپنی کو ’جدید ترین اے آئی صلاحیتوں کو اپنے پلیٹ فارم میں ضم کرنے‘ اور ’سکیورٹی ٹیموں کو نئی طاقتیں فراہم کرنے‘ کا موقع ملے گا۔

تاہم اصل وجہ کا تعلق شاید رقم، طاقت اور ایک اور اہم مارکیٹ پر گوگل کے خاموش قبضے کے امکان سے ہو سکتا ہے۔

کلاؤڈ کمپیوٹنگ دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتوں میں سے ایک ہے اور مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نےایمزون ویب سروس اور مائیکروسافٹ ایزیور جیسے بڑے سروس فراہم کنندگان کی طلب میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

اے آئی نے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو سب سے زیادہ کمزور شعبوں میں بھی بدل دیا ہے کیونکہ سائبر مجرم اب نئے ٹولز استعمال کر کے دفاعی نظام توڑ رہے ہیں اور جدید آئی ٹی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی پر حملے کر رہے ہیں۔

’وائب کوڈنگ‘ کا ابھرتا ہوا رجحان، جس میں لوگ محض وضاحت بیان کر کے بغیر کوڈ لکھے اے آئی ایجنٹس کی مدد سے ایپس اور سافٹ ویئر بنا رہے ہیں، کلاؤڈ سکیورٹی کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔

وز کی گذشتہ سال جاری کردہ ایک تحقیق میں انکشاف ہوا کہ پانچ میں سے ایک تنظیم اس قسم کی ایپلی کیشنز کی وجہ سے ’نظام گیر خطرات‘ سے دوچار ہو رہی ہے۔

ان خطرات کے مقابلے میں وز نے اپنی خود کی اے آئی تیار کی ہے جو غیر معمولی پیمانے پر کمزوریوں کا سراغ لگاتی اور حساس ڈیٹا کو محفوظ بناتی ہے۔

اس کا ’ایجنٹ لیس‘ طریقہ، جس کے ذریعے کسی تنظیم کے ہزاروں سرورز پر الگ الگ سافٹ ویئر نصب کیے بغیر پورے کلاؤڈ ڈھانچے کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے، وزکو 2022 میں وہ تیز ترین سٹارٹ اپ بنا گیا جس نے محض ایک ملین ڈالر سے بڑھ کر سالانہ 100 ملین ڈالر آمدنی تک رسائی حاصل کی۔

وز کا سکیورٹی سسٹم تمام بڑی کلاؤڈ سروسز پر کام کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گوگل اب نہ صرف اپنی Google Cloud سروس استعمال کرنے والی کمپنیوں کی سکیورٹی لیئر کو کنٹرول کر سکے گا بلکہ AWS اور Azure جیسے حریف پلیٹ فارمز استعمال کرنے والوں کے لیے بھی مرکزی سکیورٹی فراہم کرنے والا بن جائے گا۔

یہ ڈیل ابتدائی طور پر جولائی 2025 میں اعلان کی گئی تھی۔ تاہم اسے اس خدشے کے باعث ریگولیٹری جانچ کا سامنا کرنا پڑا کہ کہیں گوگل کلاؤڈ سکیورٹی کے شعبے میں غلبہ حاصل نہ کر لے۔

یورپی کمیشن نے گذشتہ ماہ گوگل کو غیر مشروط طور پر اینٹی ٹرسٹ کی منظوری دے دی، جو وز کے حصول کی راہ میں آخری بڑی رکاوٹ تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمیشن کا مؤقف تھا کہ Google Cloud فی الحال کلاؤڈ مارکیٹ میں نسبتاً کم حصہ رکھتا ہے اور اس کے حریفوں کے پاس وز کے متبادل موجود ہیں۔

یورپی یونین کی مقابلہ جاتی امور کی سربراہ ٹریسا ربیرا نے اس موقعے پر کہا ’گوگل کلاؤڈ مارکیٹ میں ایمزون اور مائیکرو سافٹ کے بعد تیسرے نمبر پر ہے اور ہمارے جائزے کے مطابق صارفین کے پاس اب بھی قابل اعتماد متبادل موجود ہوں گے اور وہ بآسانی فراہم کنندگان کو بدل سکیں گے۔‘

اگرچہ متبادل موجود ہیں وز کو کلاؤڈ سکیورٹی کا ’گولڈ اسٹینڈرڈ‘ قرار دیا جاتا ہے اور اس پر گوگل کا کنٹرول اسے اپنے مقابلوں سے آگے نکلنے کا موقع دے سکتا ہے۔

بدھ کو جب یہ ڈیل باضابطہ طور پر مکمل ہونے کا اعلان ہوا تو وز نے اپنے بیان میں واضح طور پر لکھا کہ اس کا نظام  AWS،Azure  اور دیگر کلاؤڈ پلیٹ فارمز پر بدستور کام کرتا رہے گا اور یہ کہ وز ’ ایک ملٹی کلاؤڈ پلیٹ فارم ہی رہے گا۔‘

لیکن ناقدین کو خدشہ ہے کہ گوگل کے ساتھ انضمام کے بعد وزAWS  اور Azure جیسے حریف پلیٹ فارمز کے لیے اپ ڈیٹس اور نئی خصوصیات فراہم کرنے میں تاخیر کر سکتا ہے۔

یورپی کمیشن کی منظوری سے پہلے مختلف تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ ’سافٹ ڈی گریڈیشن‘ نامی عمل کے ذریعے نئی سکیورٹی خصوصیات حریف پلیٹ فارمز تک پہنچنے میں زیادہ وقت لے سکتی ہیں۔

ایسی صورت میں صارفین ممکنہ طور پر Google Cloud کو ترجیح دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں کیونکہ وز کا مکمل اور جدید ترین ورژن وہیں دستیاب ہوگا۔

اگر حالات اسی طرح آگے بڑھے تو کلاؤڈ سکیورٹی پر اجارہ داری قائم کر کے گوگل نہ صرف ایک صنعت بلکہ 21ویں صدی کی ایک بنیادی سہولت پر بھی نمایاں کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *