فائنل میں انڈین شائقین کو خاموش کرانے، دل توڑنے کے لیے تیار: کیوی کپتان

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل سینٹنر نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم اتوار کو میزبان انڈیا کے خلاف ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میں فیورٹ نہ ہونے کے باوجود انڈین شائقین کے دل توڑنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

یہ مقابلہ احمد آباد میں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ سٹیڈیم میں ایک لاکھ سے زیادہ انڈین شائقین کے سامنے کھیلا جائے گا۔

نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو نو وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔ ٹیم اس سے پہلے کئی ٹورنامنٹس میں ناکامی کے بعد اب اپنا پہلا عالمی ٹی 20 ٹائٹل جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سینٹنر نے ہفتے کو پری میچ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’ہم اس لیے مسلسل اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں کیونکہ ہم حالات یا حریف سے مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم صرف میدان میں جا کر اپنا کھیل کھیلتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس بار صورت حال مختلف ہوگی کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ شاید نیوزی لینڈ فیورٹ نہیں ہے، مگر ٹیم کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

ان کے بقول: ’ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم چھوٹی چھوٹی چیزیں درست کریں اور بطور ٹیم مضبوط کارکردگی دکھائیں تو ہم ٹرافی جیتنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ ٹرافی جیتنے کے لیے چند دل توڑنے پڑیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔‘

سینٹنر کے مطابق دباؤ زیادہ تر میزبان انڈیا پر ہوگا جو احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں اپنے ایک لاکھ سے زائد ہم وطنوں کے سامنے اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ فائنل میں اسی میدان پر آسٹریلیا کی انڈیا کے خلاف فتح کی مثال دیتے ہوئے بھرے ہوئے سٹیڈیم کو خاموش کرانے کے امکان سے بھی گریز نہیں کیا۔

34  سالہ کپتان نے کہا: ’ہمارا ہدف ہجوم کو خاموش کرنا ہے۔ ٹی 20 کرکٹ میں بہت سے عوامل ہوتے ہیں اور کبھی کبھار یہ غیر متوقع بھی ہو جاتی ہے۔ اگر ہم اپنا کھیل اسی طرح کھیلیں تو ایک اور بڑی ٹیم کو شکست دے سکتے ہیں۔ انڈیا پر اپنے ہوم گراؤنڈ پر یہ ورلڈ کپ جیتنے کا دباؤ بھی زیادہ ہوگا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ انڈین بیٹنگ لائن کو روکنے کے لیے ابتدائی وکٹیں لینا ضروری ہوگا۔

ان کے بقول: ’کسی بھی ٹیم کو سست کرنے کا واحد طریقہ اوپر کے آرڈر کی وکٹیں لینا ہے اور پھر مڈل اوورز میں رنز کو محدود کرنا ہے۔ اگر وکٹیں نہ ملیں تو باؤنڈریز روکنے کا راستہ نکالنا پڑتا ہے۔‘

سینٹنر نے نیوزی لینڈ سکواڈ کی مضبوطی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زخمی مائیکل بریس ویل کی جگہ آنے والے کول مک کونکی نے ٹیم میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ مکونچی نے چار میچوں میں 45 رنز بنائے اور دو وکٹیں حاصل کی ہیں۔

سینٹنر نے بڑے مقابلے کے باوجود اپنی ٹیم کو مشورہ دیا کہ فائنل کو عام میچ کی طرح کھیلیں۔

’یہ کہنا آسان ہے کہ یہ صرف ایک اور میچ ہے، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں۔ لیکن میدان میں اسے کھیلنے کا طریقہ ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *