امید ہے ایران دانش مندی سے کام لے گا: سعودی وزیر دفاع

سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ہفتے کو خطے کی حالیہ صورت حال کے تناظر میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران دانش مندی سے کام لے کر کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران کیا، جو ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ریاض میں موجود ہیں۔

ہفتے کو ایکس پر اپنے پیغام میں سعودی وزیر دفاع نے لکھا کہ پاکستانی آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں ’دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سٹریٹجک دفاعی تعاون کے معاہدے کے دائرہ کار میں مملکت پر ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں اور ان سے نمٹنے کے ممکنہ طریقۂ کار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘

سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کے مطابق: ’ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی اور استحکام کو کمزور کرتے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایران دانش مندی سے کام لے گا اور کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔‘

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط دفاعی شراکت داری ستمبر 2025 میں اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے ریاض میں سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ ’کسی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے اور تہران کے اسرائیلی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر جوابی حملوں کا آج آٹھواں روز ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے اور اس جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تقریباً 50 دوسرے سینیئر سول اور فوجی عہدیداروں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جان سے چلے گئے تھے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

یہ جنگ ہر روز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر مزید 14 ممالک کو متاثر کر چکی ہے۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے تین مارچ کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ایک ’سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ موجود ہے اور اس حوالے سے (پاکستان نے) ایران کو حالیہ جنگ شروع ہوتے ہی یاد دہانی کروا دی تھی۔   

اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ کہ ان کی انہی کوششوں کی وجہ سے سعودی عرب اور عمان کے خلاف کم ترین ردعمل سامنے آ یا ہے، جبکہ دوسرے خلیجی ممالک پر کارروائیاں زیادہ ہوئی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *