26 فروری کو پاکستانی سرحدی چوکیوں پر طالبان کے بڑے پیمانے پر زمینی حملے کا بھرپور جواب دینے کے بعد، پاکستان نے طالبان حکومت کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔
اپنے فوجیوں، افسران، اور پولیس اہلکاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر اور طالبان کو پاکستان کے خلاف عسکریت پسندی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال روکنے پر قائل کرنے کی سفارتی کوششوں کی ناکامی سے تنگ آ کر، ریاست نے اب جنگ کا رخ افغانستان کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے طالبان کی جنگ بندی کی درخواست مسترد کر دی ہے، بات چیت کے کسی بھی امکان کو رد کر دیا ہے اور اس بات پر قائم ہے کہ فضائی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک طالبان پیچھے نہیں ہٹتے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت ترک نہیں کر دیتے۔
یہ پاکستان کی جانب سے بغیر کسی بڑی ریڈ لائن کو عبور کیے ایک سوچی سمجھی اور نپی تلی کارروائی ہے تاکہ ایک مکمل جنگ سے بچتے ہوئے اپنے حملوں کا دائرہ ٹی ٹی پی کو نشانہ بنانے سے بڑھا کر طالبان کی چوکیوں، فوجی تنصیبات اور گولہ بارود کے ڈپوؤں تک وسیع کیا جا سکے۔
پاکستان طالبان قیادت کو وہی زک پہنچانا چاہتا ہے جس کا سامنا پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کو روزانہ اپنے فوجیوں اور افسران کے تابوت اٹھاتے ہوئے کرنا پڑتا ہے۔
اکتوبر 2025 میں ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی کمزور جنگ بندی کے باوجود، کشیدگی بتدریج بڑھ رہی تھی اور کسی نہ کسی موڑ پر اس کا پھٹنا طے تھا۔ دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مسجد، باجوڑ میں سکیورٹی چیک پوسٹ اور ضلع بنوں میں سکیورٹی قافلے پر حملے سمیت حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نشانہ بنانے کے دائرہ کار کو ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں سے بڑھا کر طالبان کے گولہ بارود کے ڈپوؤں، فوجی تنصیبات اور سرحدی چوکیوں تک پھیلا کر، پاکستان طالبان حکومت کے جواز کو کمزور کر رہا ہے۔
پاکستانی فضائی حملوں نے طالبان کو ایک انتہائی پیچیدہ (کیچ-22) صورتِ حال میں ڈال دیا ہے۔ طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا، اور انہوں نے اپنی حکومت کا جواز دو چیزوں پر قائم کیا تھا، افغانستان میں امن و امان کی بحالی اور بیرونی حملہ آوروں، یعنی نیٹو اور امریکہ سے ملک کا دفاع کرنا۔
پاکستان اس حکومت کو کمزور اور غیر محفوظ دکھا رہا ہے کیونکہ وہ پاکستانی فضائی حملوں کے خلاف افغانستان کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔
طالبان حکومت کو ایک مخمصے کا سامنا ہے، وہ نہ تو ٹی ٹی پی سے لاتعلقی کا بوجھ اٹھا سکتی ہے، اور نہ ہی ایک طویل تنازعے میں پاکستان کی روایتی طور پر برتر اور جنگوں کی عادی فوج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ اگر مذہبی حکومت افغانستان کی خود مختاری کے دفاع کا اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے پاکستانی افواج سے لڑتی رہتی ہے، تو وہ اپنے آدمی اور محدود ہتھیار گنوا بیٹھے گی۔
اس کے برعکس، اگر وہ پاکستانی دباؤ پر ٹی ٹی پی سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہے، تو وہ کمزور دکھائی دے گی۔ مزید برآں، ٹی ٹی پی پر کوئی بھی سمجھوتہ ’جہادی‘ حلقوں میں ان کے جواز کو ٹھیس پہنچائے گا۔ خاص طور پر داعش-خراسان پاکستانی فوجی دباؤ کے سامنے جھکنے پر اپنی پروپیگنڈا اشاعتوں میں طالبان کو نشانہ بنائے گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اگر طالبان ٹی ٹی پی سے لاتعلقی اختیار کرتے ہیں، تو مؤخر الذکر کے زیادہ جارحانہ عناصر داعش-خراسان میں شامل ہو جائیں گے۔
مزید برآں، افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں اور جنگجوؤں کو نشانہ بنا کر، پاکستانی فوج ان کی توجہ پاکستان میں عسکریت پسندی کی حمایت کرنے سے ہٹا کر اپنے دفاع اور فوجیوں کی دیکھ بھال کی طرف موڑ رہی ہے۔
پاکستان کا ماننا ہے کہ طالبان نے بالواسطہ طور پر اپنے عسکریت پسند پراکسیز، ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ لہٰذا، غیر فعال انداز میں ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے، پاکستان نے ایک جارحانہ اور حملہ آور رویہ اپنایا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک پاکستانی مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، طالبان کے ساتھ کوئی جنگ بندی یا بات چیت نہیں کی جائے گی۔
ایسا کرتے ہوئے، پاکستان وہ چھوٹے اور ہلکے ہتھیار بھی تباہ کر رہا ہے جو امریکہ افغانستان میں چھوڑ گیا تھا اور جو طالبان کے کنٹرول میں آ گئے تھے۔
گذشتہ کئی سالوں کے دوران، ان ہتھیاروں کو عسکریت پسند نیٹ ورکس جیسے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ٹی ٹی پی وغیرہ نے پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ پاکستان نے طالبان پر ان ہتھیاروں کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے بار بار یہ مسئلہ امریکہ کے سامنے اٹھایا ہے۔ بہر حال، پاکستان اب احتیاط کے ساتھ گولہ بارود کے ان ڈپوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں طالبان نے یہ ہتھیار ذخیرہ کر رکھے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ مستقبل کے حملوں میں عسکریت پسند نیٹ ورکس کے استعمال میں نہ آئیں۔
پاکستان کے ساتھ ایک طویل تنازع طالبان کے ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی محدود فراہمی کو ختم کر دے گا۔
طالبان کے پاس کوئی فضائیہ نہیں ہے سوائے کچھ ملٹری گریڈ ڈرونز کے جو وہ بگرام ایئربیس سے پاکستانی حدود میں فائر کرتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان کے پاس ایک جدید اور پیشہ ور فضائیہ ہے۔ اسی طرح، طالبان پاکستان کے ساتھ طویل تنازعے میں اپنے بہت سے جنگجوؤں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
طالبان کی جنگی قوت 200,000 جنگجوؤں پر مشتمل ہے جبکہ پاکستان کی پیشہ ور اور منظم فوجی قوت 650,000 ہے۔ تاہم، طالبان گوریلا جنگ کے ماہر ہیں، اور وہ روایتی طاقت کے اس عدم توازن کو پورا کرنے کے لیے خودکش دھماکوں، گھریلو ساختہ دھماکہ خیز مواد اور گھات لگا کر حملے کرنے جیسے غیر روایتی ہتھکنڈوں کا سہارا لیں گے۔
پاکستانی فضائی حملوں کے خلاف طالبان حکومت کے دفاع میں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار (جے یو اے) اور اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) کی جانب سے پاکستان کے اندر حملے تیز کرنے کی کالز ایک طویل تنازعے میں غیر روایتی جنگ کے لیے ان کی ترجیح کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ان گروہوں کا طالبان حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا اعلان ان کے گہرے گٹھ جوڑ کے بارے میں پاکستانی موقف کو درست ثابت کرتا ہے۔
پاکستان کی جنگ نہ تو افغانستان سے ہے اور نہ ہی افغان عوام سے۔ بلکہ، یہ ان عسکریت پسند نیٹ ورکس اور ان کے سرپرستوں کے خلاف ہے جو اس کے داخلی امن اور ہم آہنگی کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ طالبان اور پاکستان دونوں کے متعلقہ موقف ظاہر کرتے ہیں کہ فوری طور پر کشیدگی کم ہونے کے امکانات محدود ہیں۔ دونوں فریق اس صورتِ حال کو اپنی ملکی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، بظاہر ایک طویل تنازعے کے خطرات کے باوجود، یہ کشیدگی نپی تلی ہے اور مکمل جنگ کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ طویل تنازع کشیدگی کے چکروں پر مبنی ہو گا جس کے دوران ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے علاقائی ثالثی کی کوششیں بھی جاری رہیں گی۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
(مصنف سنگاپور کے ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ ایکس: basitresearcher@)
