امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد جنگ کا دائرہ پھیل گیا ہے اور لبنان میں موجود تنظیم حزب اللہ نے پیر کو اسرائیل پر حملہ کیا ہے جب کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 31 افراد جان سے گئے 149 زخمی ہو گئے ہیں۔
حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر حملہ کیا۔ حزب اللہ کی جانب سے راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنے حملے تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبنانی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان پر ’اسرائیلی دشمن کے حملوں‘ کے نتیجے میں ’ابتدائی گنتی کے مطابق 31 شہری جان سے گئے اور 149 شہری زخمی ہوئے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے کہا کہ لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے خلاف لڑائی، جو پیر کی صبح شروع ہوئی تھی، میں مزید ’کئی‘ دن لگ سکتے ہیں۔
اسرائیلی فوجی سربراہ نے پیر کو فوج کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں کہا، ’ہم نے حزب اللہ کے خلاف ایک جارحانہ مہم شروع کی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے یہ بات حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور اس کے نتیجے میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کی لہر شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں کئی دنوں کی لڑائی کے لیے تیار رہنا چاہیے، بہت سے دنوں کے لیے۔‘
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیر کو ایران نے اسرائیل اور عرب ریاستوں پر میزائل داغے اور جنگ کا دائرہ مشرق وسطی میں تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں تک پھیل گیا جس میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ بھی شامل ہے، جس پر اسرائیل نے لبنان میں اس گروپ کے خلاف جوابی کارروائی کی اور امریکہ کے ساتھ مل کر ایران میں اہداف پر بمباری کی۔
حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد پیر کو لبنان کی حکومت کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل روڈولف ہائیکل شریک ہوئے،
سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کابینہ اس کشیدہ صورتحال اور اٹھائے جانے والے مجوزہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
