پنجاب کے شہر قصور میں پولیس کے مطابق مبینہ طور پر خود کشی کرنے والی نوجوان لڑکی کے بھائی نے الزام لگایا ہے کہ ان کے ہمسائے اور کلاس فیلو لڑکے کی بلیک میلنگ کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
لڑکی کے بھائی شفقت علی نے متعلقہ تھانے الہ آباد میں مقدمہ درج کرایا ہے کہ ان کی بہن کو سامنے والے گھر کا رہائشی نوجوان عامر شمشاد مبینہ طور پر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتا تھا جس کے باعث ان کی بہن نے اپنی جان لے لی۔
بھائی کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔
لڑکی کے بھائی شفقت علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو اور ایف آئی آر میں موقف اپنایا ہے کہ ’میری بہن جو نجی کالج میں پڑھتی تھی وہ وقوعے سے 20 دن پہلے گھر میں اکیلی تھی۔ ہمارے گھر کے سامنے والے گھر کے رہائشی نوجوان عامر شمشاد ہمارے گھر داخل ہوا۔ اس نے پستول دکھا کر میری بہن سے زیادتی کی کوشش کی اور اپنے موبائل سے قابل اعتراض حالت میں اس کی ویڈیوز بھی بنا لیں۔
’میری ہمشیرہ کے شور مچانے پر وہ وہاں سے فرار ہوگیا۔ بعد ازاں ملزم نے میری بہن کو وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی اور بلیک میل کرنے لگا۔
’اس نے میری بہن سے طلائی زیورات اور رقم لینا شروع کر دی۔ جب میری بہن نے سارا معاملہ مجھے بتایا تو میں عزت کے ڈر سے خاموش رہا اور اسے بھی خاموش رہنے کی ہدایت کی۔‘
شفقت علی کے مطابق: ’ملزم میری بہن کو مسلسل بلیک میل کرتا رہا جس سے وہ ذہنی دباو کا شکار ہوگئی۔ ہم نے اس کے والد سے شکایت کہ اپنے بیٹے کو منع کریں لیکن اس نے کہا وہ تو ایسا ہی کرے گا جاؤ جو کرنا ہے کر لو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عامرشمشاد کی اس مسلسل بلیک میلنگ کے باعث اور بدنامی کے خوف سے ذہنی دباو میں آکر میری بہن نے 14فروری کو اپنی جان لے لی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ادھر قصور پولیس کے ترجمان ساجد علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ہم نے مدعی کی درخواست پر مقدمہ درج کیا اور ملزم کو دو روز پہلے گرفتار کر کے ریمانڈ لے لیا ہے۔ دونوں کے موبائل بھی قبضے میں لے کر فرانزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔ دونوں کے موبائل فونز سے میسیجز کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ دونوں کے نمبر سے آخری میسج گڈ مورننگ کا ہوا تھا۔ اس کیس میں قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔‘
پولیس ترجمان کے مطابق: ’ملزم عامر شمشاد اور متاثرہ لڑکی نہ صرف ہمسائے تھے بلکہ ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ ان کے درمیان گذشتہ سال سے دوستی رہی دونوں کے موبائل فونز سے میسیجز کا ریکارڈ ملا ہے۔ جس میں وقوعے کے دن بھی دونوں نے ایک دوسرے کے نمبر پر گڈ مورننگ کے میسجز کیے گئے ہیں۔ اسی دن دونوں میں 27 سینکڈ کی ویڈیو کال کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔‘
پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ ’دونوں کے والدین میں ان کی شادی سے متعلق بھی بات چلی تھی لیکن لڑکے والوں نے اپنے بیٹے کی شادی یہاں کرنے سے انکار کردیا تھا۔ لہذا دونوں میں مسلسل ٹیلی فونک رابطہ آخری وقت تک برقرار رہا۔ البتہ ابھی تک لڑکے کے لڑکی کو بلیک میل کرنے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔‘
14 فروری کو ضلع قصور کے علاقے الہ آباد میں ایک محلے کے گھر اس وقت کہرام مچ گیا جب ایک چار سالہ بچی کمرے سے باہر صحن میں ہاتھ کھڑا کر کے شور مچاتی باہر آئی۔
بچی خوفزدہ ہوکر پھپھو پھپھو کہ رہی تھی اس سے علاوہ کوئی لفظ ادا نہیں ہورہا تھا۔ وہاں موجود گھر والے بچی کے ہاتھ کا اشارہ دیکھ کر اندر کی طرف تیزی سے بڑھے تو دیکھا کہ ان کی 21 سالہ لڑکی مردہ حالت میں تھی۔
انہوں نے کچھ دیر پہلے تک صحت مند نوجوان لڑکی کو اس حالت میں دیکھ کر رونا پیٹنا شروع کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی محلے دار ان کے گھر جمع ہوگئے۔
ایدھی ویلفیئر فاونڈیشن کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں ایک سو 16افراد کی خود کشی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 30خواتین شامل ہیں۔
