ان عدالت نے جمعے کو دارالحکومت دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ کو طویل عرصے سے جاری بدعنوانی کی تحقیقات میں بری قرار دے دیا جس میں انہیں کو حکمران جماعت کی ’سیاسی سازش‘ قرار دیا گیا تھا۔
اپوزیشن عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال عدالتی کارروائی کے درمیان 2025 میں انتخابات ہارنے سے پہلے دہلی کے وزیر اعلیٰ تھے۔
57 سالہ کیجریوال نے مارچ 2024 میں اپنی نتظامیہ پر شراب کے لائسنس جاری کرنے میں رشوت لینے کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد کئی ماہ جیل میں گزارے تھے۔ جمعے کو فیصلے کے بعد کیجریوال عدالت سے نکلتے ہی رو پڑے۔
کیجریوال نے عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’سچائی کی جیت ہوئی ہے۔‘
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کے لیے ’سیاسی سازش‘ کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔
جمعے کو دہلی کی ایک عدالت نے انہیں، ان کے سابق نائب منیش سسودیا اور 21 دیگر افراد کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن ریکھا گپتا فروری 2025 میں تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کی وسیع و عریض میگا سٹی کی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئیں۔
کیجریوال نے اپنے کیریئر کا آغاز ٹیکس جمع کرنے والے کے طور پر کیا لیکن بدعنوانی کی مخالفت کی وجہ سے سول سروس کی نوکری چھوڑی، جس سے انہیں قومی شہرت ملی۔
حالیہ برسوں میں مودی کے کئی مخالفین کو مجرمانہ تحقیقات یا مقدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں دو ریاستی وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔
اگست 2025 میں حکومت نے سیاست دانوں کو گرفتار کرنے اور 30 دن تک حراست میں رکھنے کی صورت میں ہٹانے کے لیے ایک بل متعارف کروایا، جسے مخالفین نے آئینی تحفظات کو کچلنے کی کوشش قرار دیا۔
