رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ جسمانی نظم و ضبط کا بھی امتحان ہے۔ طویل دورانیے کے روزے کے دوران جہاں روحانی بالیدگی اہم ہے، وہیں صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ماہرینِ صحت اور عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز کے مطابق چند سادہ احتیاطی تدابیر آپ کو ایک متوازن اور صحت مند رمضان گزارنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
کیا کرنا چاہیے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری کو نظر انداز کرنا یا محض رسمی طور پر کچھ کھا لینا دن بھر کی کمزوری اور ڈی ہائیڈریشن کا سبب بن سکتا ہے۔
سحری میں دہی کا استعمال مفید سمجھا جاتا ہے۔ دودھ سے حاصل ہونے والا ملک پروٹین معدے میں نسبتاً دیر تک رہتا ہے، جس سے بھوک کا احساس کم ہوتا ہے اور توانائی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح تازہ پھل اور سبزیاں وٹامنز اور منرلز کا اہم ذریعہ ہیں۔ یہ نہ صرف جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ پیاس کم لگنے اور متوازن توانائی برقرار رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔
افطار کے وقت معدہ کئی گھنٹوں بعد خوراک قبول کرتا ہے، اس لیے یک دم بھاری یا تلی ہوئی اشیا کھانا بدہضمی اور تیزابیت کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ افطار کا آغاز سادہ پانی یا کم ٹھنڈے مشروب سے کیا جائے تاکہ معدے پر اچانک دباؤ نہ پڑے اور درد یا بے چینی سے بچا جا سکے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو روزے کے دوران اپنی بلڈ شوگر باقاعدگی سے چیک کرتے رہنا چاہیے۔ طبی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ انسولین انجیکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اس لیے صحت کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے باقاعدہ مانیٹرنگ ضروری ہے۔
کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
تلی ہوئی اشیا رمضان کا روایتی حصہ ضرور بن چکی ہیں، مگر ماہرین ان سے حتی الامکان اجتناب کا مشورہ دیتے ہیں۔ زیادہ تلی ہوئی خوراک بدہضمی، تیزابیت، سستی اور شدید پیاس کا باعث بن سکتی ہے۔
اسی طرح سحری میں اچار یا زیادہ نمک والی اشیا دن میں پیاس بڑھا سکتی ہیں اور جسم میں پانی کی کمی کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
چائے یا کافی کا استعمال اگرچہ عام ہے، لیکن زیادہ کڑک اور زیادہ مقدار میں کیفین جسم سے پانی کے اخراج کو تیز کر سکتی ہے، جس سے ڈی ہائیڈریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق رمضان میں متوازن غذا، مناسب ہائیڈریشن اور اعتدال ہی بہتر صحت کی بنیاد ہیں۔
عبادت کے اس مہینے میں اگر خوراک کا انتخاب سمجھداری سے کیا جائے تو جسمانی توانائی برقرار رکھتے ہوئے روحانی سکون بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
