عمران خان کو ڈاکٹروں اور خاندان تک رسائی دی جائے: برطانوی اراکین پارلیمان

سینیئر برطانوی سیاست دانوں نے ملکی پارلیمان کے ایوان بالا دارالامرا میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی حالت زار اور پاکستان میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالی کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے ہیں اور اس صورت حال کو تجارت اور برطانیہ کی امداد کے ساتھ جوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ لائیو ڈاٹ ٹی وی کے مطابق دارالامرا کے رکن لارڈ گولڈ سمتھ کا بدھ کو ایوان کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ عمران خان کو وکلا، خاندان اور ان کے دو بیٹوں جو میرے بھتیجے ہیں، ان تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ حتیٰ کہ ڈاکٹروں تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی۔ 

’ہم جانتے ہیں کہ عمران خان نے بہت سا وقت جیل میں قید تنہائی میں گزار چکے ہیں اور ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے لیے اپنی امداد پر نظر ثانی کرے اس وقت تک کہ جب پاکستان آزاد عدلیہ اور قانون کی عملداری کے حوالے سے عہد پورا نہ کرے۔‘

اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران نے 24 فروری کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کی آنکھ کے مزید علاج کے لیے گذشتہ (منگل اور پیر کی درمیانی) رات تقریبا 12 بج کر 15 منٹ ہسپتال لایا گیا اور ان کا معائنہ تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا۔

رانا عمران نے بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا علاج مکمل ہونے کے بعد تقریباً ایک بج کر 30 منٹ پر پمز ہسپتال سے واپس لے جایا گیا۔ 

جس وقت سابق وزیر اعظم کو پمز لایا گیا، اس وقت ہسپتال میں موجود ایک عہدے دار نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منظر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’پمز کے کارڈیالوجی وارڈ کے اندر، باہر اور اردگرد سخت سکیورٹی تعینات تھی جبکہ متعلقہ شعبوں کی لائٹس بھی بند کر دی گئیں تھیں۔‘

عمران خان کو آنکھوں کی بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (Central Retinal Vein Occlusion)  یا سی آر او تشخیص ہوئی ہے، جس کے علاج کے سلسلے میں انہیں آنکھوں کے اندر دو انجیکشن لگ چکے ہیں، جن میں سے ایک انجیکشن گذشتہ شب لگا ہے۔

دریں اثنا اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ بگڑتی ہوئی صحت اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف  اپوزیشن اتحاد کا اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبر پختونخوا ہاؤس کے 13 فروری کو دھرنے کا اغاز کیا جو 16 فروری تک جاری رہا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لارڈ گولڈ سمتھ کی تقریر کے جواب میں برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی بیرونس چیپ مین کا کہنا تھا کہ بلاشہ پاکستان میں عدالتی کارروائی اس کا معاملہ ہے تاہم پاکستانی حکام کی طرف سے بنیادی آزادیوں کا احترام کرنے کی ضرورت ہے جن میں مقدمے کی انصاف پر مبنی کارروائی، قانونی تقاضے، دوران حراست انسانی سلوک اور مناسب علاج تک رسائی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حق تمام پاکستانی شہریوں اور عمران خان کا بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزرا اور حکام نے پاکستانی آئین پر عمل کی ضرورت اور انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا معاملہ باقاعدگی سے پاکستانی ہم منصب افراد کے ساتھ اٹھایا ہے۔

درالامرا کے رکن لارڈ محمد نے کہا پاکستان میں وزرائے اعظم کو قید کرنے کی تاریخ ہے۔ خواہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہو یا نواز شریف۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے میں برطانوی حکومت نے انہیں نومبر 2919 میں علاج کے لیے برطانیہ آنے کی اجازت دی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عمران خان کے خاندان یا پارٹی ارکان نے ایسی ہی درخواست تو برطانوی حکومت کا جواب کیا ہوگا؟

اس سوال پر بیرونس چیپ مین کا کہنا تھا وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتیں۔ یہ معاملہ امیگریشن پالیسی کے مطابق ہوم آفس دیکھنا چاہے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *