ایران نے جنیوا میں متوقع اہم مذاکرات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر مبنی طرزِعمل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی حکام نے ایک طرف ٹرمپ کے بیانات کو ’بڑا جھوٹ‘ قرار دیا تو دوسری جانب یہ عندیہ بھی دیا کہ اگر عزت و وقار پر مبنی سفارت کاری اختیار کی گئی تو مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے دہائیوں میں پہلی بار مشرقِ وسطیٰ میں جنگی جہازوں اور بحری بیڑوں کی سب سے بڑی تعیناتی کر دی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایران اندرونِ ملک گزشتہ ماہ ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے بعد بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور بے چینی کا سامنا کر رہا ہے۔
اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیاں دی جا چکی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو خدشہ ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام ایک نئی علاقائی جنگ کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل۔حماس جنگ کے اثرات اب بھی خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے جائز اہداف تصور کیے جائیں گے، جس سے ہزاروں امریکی فوجیوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر، جن کا تجزیہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے کیا، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے جہاز معمول کے برعکس بندرگاہ پر موجود نہیں تھے بلکہ سمندر میں پھیلا دیے گئے تھے۔
یہ اقدام ممکنہ حملے سے بچاؤ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ففتھ فلیٹ نے اس حوالے سے سوالات امریکی سینٹرل کمان کے سپرد کر دیے، تاہم فوری ردِعمل سامنے نہیں آ سکا۔
امریکی صدر نے منگل کی شب سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر چکا ہے جو یورپ اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور مستقبل میں امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول ایران نے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے بیانات کو نازی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور حالیہ احتجاجی ہلاکتوں کے حوالے سے گمراہ کن مہم چلا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف لگائے گئے الزامات محض ’بڑے جھوٹ‘ کی تکرار ہیں۔
ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس دو راستے ہیں: یا تو باوقار سفارت کاری یا پھر ایران کے سخت ردِعمل کا سامنا۔ ان کے مطابق اگر ایران کی خودمختاری اور باہمی مفادات کا احترام کیا گیا تو ایران مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہے، لیکن حملے یا فریب کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں جمعرات کو جنیوا میں مذاکرات ہونے ہیں۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان جاری رابطوں کا تیسرا دور ہو گا۔ اگر یہ بات چیت ناکام رہی تو ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت، نوعیت اور مقاصد پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔
ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ حیثیت بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی حملوں نے اس پروگرام کو ’تباہ‘ کر دیا تھا، تاہم اب اس کے باقی ماندہ ڈھانچے کو ختم کرنا دوبارہ امریکی ایجنڈے میں شامل دکھائی دیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو متاثرہ مقامات تک رسائی نہیں دی گئی، جس کے باعث اصل صورتحال کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
خطے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔ ایران امریکی اتحادی خلیجی ممالک یا اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ انہی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
