ولی خان مرحوم نے برسوں پہلے خبردار کیا تھا۔ یہ تنبیہ بہ زبانِ راحت اندوری کچھ یوں تھی:
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں / یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
آگ لگی جناب، اور ایسی لگی کہ صرف ہمسایوں کے گھر ہی نہیں جلے، ہمارا اپنا آشیانہ، وطنِ عزیز بھی اس کی لپیٹ میں آیا۔
پاکستان میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کسی خلا میں نمو نہیں پاتی رہیں، ان کی جڑیں اس افغان ’جہاد‘ کی مٹی میں پیوست ہیں جسے ہم نے طویل عرصے تک ’تزویراتی (سٹریٹیجک) گہرائی‘ کے نام پر سینچا۔ سوویت یونین کے انہدام پر جشن تو منایا گیا، مگر یہ نہ سوچا گیا کہ ملبے سے اٹھنے والی گرد ایک دن ہواؤں کا رخ بدل کر ہمارے شہروں پر بھی اتر سکتی ہے۔ جب وہ گرد اٹھی، ہم نے حیرت تو ظاہر کی، احتساب نہیں۔
اور پھر افغانستان کی خانہ جنگی کے شور میں جب مدارس کے طلبہ ایک نئی قوت کے طور پر ابھرے، اسلام آباد نے انہیں سہارا دیا۔ پہلی طالبان حکومت کے قیام پر نہ صرف انہیں تسلیم کیا گیا بلکہ بعض حلقوں نے انہیں خطے کے پیچیدہ مسائل کا واحد ’حل‘ قرار دیا۔
نائن الیون کے بعد ہم بظاہر عالمی صف بندی میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوئے، اڈے فراہم کیے، تعاون کیا، مگر پسِ پردہ روابط کے نازک دھاگے ٹوٹنے نہ دیے۔ محفوظ پناہ گاہیں، خاموش چینلز اور ایک ’دہرا بیانیہ‘ برسوں ہماری ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ رہے۔
آج جو دانشور اور لکھاری طالبان کی حکمرانی پر برہم ہیں، کبھی وہی ان کے قصیدہ خواں تھے۔ تب طالبان کو افغان معاشرے کا ناگزیر جزو اور اس کے لیے موزوں ترین قرار دیا جاتا تھا، گویا انسانی حقوق اور آزادی کی آفاقی قدریں جغرافیہ کے بدلنے سے بدل جاتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
افغانستان کے لیے جو طالبان پسند کیے جا رہے ہیں وہ اپنے لیے ناپسند۔ اگر کوئی اس دہرے معیار کی جانب توجہ دلاتا تو وہاں کے طالبان ’گڈ،‘ یہاں والے ’بیڈ‘ قرار پاتے۔ افغان طالبان کی ’سادگی،‘ ’جرأت‘ اور ’غیرت‘ پر کالموں کے انبار لگے۔ ہمیں تب بھی تعجب تھا، اس لیے نہیں کہ طالبان کیا تھے، بلکہ اس لیے کہ ہم خود کو کیا باور کرا رہے تھے۔
پشاور کے نواح میں ایک افغان رہنما کی رہائش گاہ پر ہونے والی گفتگو آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی۔
میں نے سوال کیا کہ ’افغان طالبان نے اس پر کوئی ردِعمل کیوں نہیں دیا؟‘
جواب میں حیرت تھی، ’ہم کیوں مذمت کریں؟ ہمیں اقتدار میں آ کر انڈیا سے مستحکم تعلقات استوار کرنے ہیں۔‘
اس ایک جملے نے کئی خوش فہمیاں دور کردیں۔ طالبان، اول و آخر، افغان قوم پرست تھے، ان کی ترجیحات اپنی ریاست اور اپنے قومی مفادات سے مشروط تھیں۔
پھر وہ لمحہ بھی آیا جب طالبان دوبارہ کابل کے تخت پر متمکن ہوئے۔ ہماری کچھ ’بااثر شخصیات‘ وہاں موجود تھیں، فتح کے شادیانے بج رہے تھے، اور آج کی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ایک اہم شخصیت ’اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کر رہی تھیں۔ ایک عمومی تاثر تھا کہ شاید ’اپنے‘ لوٹ آئے ہیں۔ مگر وقت نے پھر ثابت کیا کہ ریاستیں مفادات پر چلتی ہیں۔ آج کابل دہلی سے روابط بڑھا رہا ہے اور پاکستانی طالبان کے حساس مسئلے پر سردمہری اختیار کیے ہوئے ہے۔
اب ہم برہم ہیں اور کسی حد تک بجا بھی۔ افغانستان سے دراندازی، دہشت گرد حملے، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کی شہادتیں، یہ سب ایک تلخ حقیقت ہیں۔ عسکریت پسندی کی لہر کے تانے بانے سرحد پار تک جاتے ہیں، اس میں اختلاف کی گنجائش کم ہے۔ مگر اس پیچیدہ بحران کا حل محض جذباتی نعروں یا فوری عسکری جوابی کارروائیوں میں پنہاں نہیں ہے۔ اس کے لیے مربوط حکمتِ عملی، سنجیدہ سفارت کاری اور ماضی کی لغزشوں کا دیانت دارانہ اعتراف ناگزیر ہے۔
کابل میں ایک سابق رکنِ پارلیمان، فتانہ گیلانی، نے مجھ سے کہا تھا، ’افغانستان عالمی طاقتوں کا نہیں، دس لاکھ بیواؤں اور یتیموں کا قبرستان ہے۔‘
اس ایک جملے میں پورے خطے کا نوحہ سمٹ آتا ہے۔ اس قبرستان کی تعمیر میں ہمارا کتنا حصہ ہے، یہ وہ سوال ہے جس سے نظریں چرائی جا سکتی ہیں، تاریخ سے نہیں۔ جن پر آج ہمیں غصہ ہے، ان کے اقتدار تک پہنچنے میں ہمارا کردار بنیادی تھا۔ اور جو کچھ ہم آج کر رہے ہیں، بعید نہیں کہ وہ انہیں کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کر دے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
