18 مسلمان، یورپی ممالک کی مغربی کنارے کے الحاق کی اسرائیلی کوششوں کی مذمت

تقریباً 20 مسلمان اور یورپی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنے کنٹرول کو سخت کرنے کے لیے اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی مذمت کی اور انہیں اس علاقے کو الحاق اور فلسطینی ریاست کو کمزور کرنے کی کوششیں قرار دیا۔

اسرائیلی حکومت نے اس مہینے بہت سے اقدامات کی منظوری دی، جن کی حمایت انتہائی دائیں بازو کے وزرا نے کی۔

ان اقدامات  میں مغربی کنارے میں اراضی کو ’ریاستی ملکیت‘ کے طور رجسٹر کرنے کا عمل شروع کرنا اور اسرائیلیوں کو وہاں براہ راست زمین خریدنے کی اجازت دینا شامل ہیں۔

18 سے زیادہ یورپی اور مسلمان اکثریتی ممالک نے پیر کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدامات ’ایک واضح کوشش کا حصہ ہیں جس کا مقصد زمینی حقیقت کو تبدیل کرنا اور ناقابل قبول ڈی فیکٹو الحاق کو آگے بڑھانا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اس طرح کے اقدامات فلسطینی ریاست کی عمل داری اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر دانستہ اور براہ راست حملہ ہیں۔‘

اس بیان پر سعودی عرب اور مصر، یورپی طاقتوں فرانس اور سپین کے علاوہ انڈونیشیا، برازیل اور ترکی سمیت دیگر ملکوں نے دستخط کیے ہیں۔

اس کی توثیق سیکرٹری جنرل لیگ آف عرب سٹیٹس اور آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی نے بھی کی۔

تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے علاوہ پانچ لاکھ سے زیادہ اسرائیلی مغربی کنارے کی بستیوں اور چوکیوں میں رہتے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔

موجودہ اسرائیلی حکومت نے 2025 میں ریکارڈ 52 بستیوں کی منظوری دیتے ہوئے آباد کاری میں تیزی سے توسیع کی۔

مغربی کنارہ، جو 1967 سے مقبوضہ ہے، مستقبل کی کسی بھی فلسطینی ریاست کا سب سے بڑا حصہ بنے گا لیکن مذہبی لحاظ سے کچھ لوگ اسے اسرائیلی سرزمین کے طور دیکھتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *