ٹیرف کا نفاذ: انڈین وفد نے امریکہ کا اہم تجارتی دورہ منسوخ کر دیا

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف نظام کے بڑے حصے کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد انڈیا کے وفد نے امریکہ کا ایک اہم تجارتی دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

یہ تین روزہ دورہ پیر کو شروع ہونا تھا، جس میں انڈین اور امریکی مذاکرات کاروں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان انتہائی اہم عبوری تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا۔

جمعے کو امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد دونوں فریقین نے یہ منصوبہ منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع ٹیرف پروگرام کے اہم حصے ہنگامی اختیارات کے تحت غلط طریقے سے نافذ کیے گئے۔

اس معاملے سے باخبر حکام نے بتایا ہے کہ واشنگٹن کے انڈین دورے کا شیڈول اب دوبارہ طے کیا جائے گا تاکہ دونوں فریق عدالت کے فیصلے اور ابھرتے ہوئے معاہدے پر اس کے اثرات کا جائزہ لے سکیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’دورہ ملتوی کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان بات چیت کے بعد کیا گیا۔ دورے کی کسی نئی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے اس پر تبصرہ کرنے کے لیے انڈیا کی وزارت تجارت سے رابطہ کیا ہے۔

جمعے کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ متبادل اختیارات کے تحت نیا عالمی ٹیرف نظام نافذ کریں گے۔ شروع میں انہوں نے 10 فیصد ٹیکس کا اعلان کیا، اور پھر ہفتے کو اسے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے نے ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ کے دوران متعارف کرائے گئے متعدد ٹیکسوں کی قانونی بنیاد پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

اصل ٹیرف نظام کے تحت، انڈین سامان پر 10 فیصد ٹیکس عائد تھا، جسے بعد میں بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا۔ ایک موقعے پر انڈیا کی جانب سے روسی تیل کی مسلسل خریداری سے جڑے مزید 25 فیصد جرمانے نے کچھ مصنوعات پر ٹیرف کا بوجھ 50 فیصد تک بڑھا دیا تھا۔

تین فروری کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انہوں نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت انڈیا پر امریکی ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی نے اتفاق کیا ہے کہ انڈیا روسی تیل خریدنا بند کر دے گا اور اس کے بدلے میں، واشنگٹن 25 فیصد کا تادیبی ٹیکس ختم کر دے گا۔

لیکن معاہدے کی مناسب تفصیلات کی کمی، اور اس حقیقت نے کہ یہ مبینہ طور پر فون پر طے پایا تھا، اس بارے میں شکوک پیدا کیے کہ واقعی کتنا کچھ حاصل کیا گیا ہے؟ انڈیا نے اس کے بعد روسی تیل کی خریداری روکنے کا کوئی اعلانیہ وعدہ نہیں کیا اور مبصرین اب اس نتیجے کو ایک پابند تجارتی معاہدے کے بجائے ایک ابتدائی فریم ورک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اگرچہ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے عالمی اثرات مرتب ہوں گے، لیکن یہ ٹرمپ انتظامیہ اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات کے ایک انتہائی نازک موڑ پر بھی سامنے آیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمپ کے اصل ٹیرف پروگرام نے چین کی تقریباً 250 ارب ڈالر کی درآمدات پر 25 فیصد تک اور دیگر 110 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر 7.5 فیصد ٹیرف عائد کیے تھے۔ چین نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 110 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیے، جس میں سویابین جیسی زرعی برآمدات کو نشانہ بنایا گیا، اور عالمی تجارتی تنظیم میں شکایات درج کرائیں۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے تنازعے کا توازن بدل سکتا ہے، کیوں کہ ٹرمپ 31 مارچ سے دو اپریل تک صدر شی جن پنگ سے ملاقات اور دو طرفہ معاہدہ طے کرنے کے لیے چین کا سفر کرنے والے ہیں۔ لیکن اگرچہ یہ فیصلہ بیجنگ کا پلڑا بھاری کرتا ہوا دکھائی دے سکتا ہے، لیکن دوسروں کو توقع ہے کہ دونوں فریقین اس وقت تک ایک نازک جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر میں چائنہ پروگرام کی ڈائریکٹر سن یون نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’یہ سربراہی اجلاس سے قبل ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں چین کا حوصلہ بڑھائے گا، لیکن وہ اس صورت حال کے لیے بھی تیار ہیں کہ حقیقت میں کچھ نہیں بدلے گا۔‘

یورپین پالیسی سینٹر تھنک ٹینک کے تجزیہ کار وارگ فوک مین نے روئٹرز کو بتایا، ’عام طور پر، میرا خیال ہے کہ یہ عالمی تجارت میں انتہائی غیر یقینی صورت حال کا ایک نیا دور لائے گا، کیوں کہ ہر کوئی یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ مستقبل میں امریکی ٹیرف پالیسی کیا ہوگی۔ آخر کار یہ تقریباً پہلے جیسا ہی نظر آئے گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *