صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص کون ہے؟

وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کی سالانہ تقریب اس وقت شدید افراتفری کا شکار ہو گئی جب ہفتے کی رات ایک مسلح شخص نے اس اعلیٰ سطحی پروگرام میں فائرنگ کر دی۔

مشکوک حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا، تاہم ان کے محرک کے بارے میں تفصیل سامنے نہیں آئی۔

صدر ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور انتظامیہ کے دیگر اراکین کو واشنگٹن ہلٹن کے بال روم سے فوراً باہر نکال لیا گیا جبکہ مہمان خوف زدہ ہو کر ادھر ادھر پناہ لینے لگے۔

مشتبہ حملہ آور کون ہے؟

نیویارک ٹائمز نے قانون نافذ کرنے والے متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول ٹوماس ایلن سے ہوئی جو ٹورینس، کیلیفورنیا کے رہائشی ہیں۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے ایک تصویر بھی جاری کی جس میں ایک شخص ہوٹل کے اندر زمین پر لیٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

صدر نے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پوسٹ کی جس میں ایک شخص سکیورٹی چیک پوائنٹ کے پاس سے دوڑتا ہوا گزرتا ہے اور ایجنٹس ہتھیار نکالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ ویڈیو شفافیت کے لیے جاری کی تاکہ دکھایا جا سکے کہ ایجنٹس نے کس قدر تیزی سے کارروائی کی۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ میں ٹرمپ نے مشتبہ حملہ آور کو ’بیمار ذہنیت رکھنے والا شخص‘ قرار دیتے ہوئے کہا تفتیش کار ان کے اپارٹمنٹ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کی اٹارنی ججینین پیرو نے بتایا کہ ملزم پر دو سنگین الزامات لگائے گئے ہیں:

تشدد پر مبنی جرم کے دوران اسلحہ استعمال کرنا اور وفاقی افسر پر خطرناک ہتھیار سے حملہ کرنا

انہوں نے کہا ملزم کو پیر کو وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف جیفری ڈبلیو کیرول کے مطابق ملزم کے پاس شاٹ گن، ہینڈ گن اور کئی چاقو موجود تھے۔

اگرچہ سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں گولی نہیں ماری مگر انہیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس چیف نے بتایا کہ مشتبہ شخص غالباً ہوٹل ہی میں ٹھہرا ہوا تھا۔

کیا ہوا تھا؟

ہفتے کی شام تقریباً ساڑھے آٹھ بجے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں فائرنگ کی آوازوں کے بعد تقریب میں بھگدڑ مچ گئی۔

سیکرٹ سروس کے اہلکار فوراً صدر کے گرد حلقہ بنا کر انہیں سٹیج سے ہٹا کر باہر لے گئے۔

خاتون اول اور کابینہ کے دیگر اراکین کو بھی نکال لیا گیا۔ اندر موجود شرکا میزوں کے نیچے چھپ گئے۔

سیکرٹ سروس نے بتایا کہ فائرنگ ہوٹل کے مرکزی سکیورٹی سکریننگ ایریا کے قریب ہوئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر، خاتون اول اور دیگر محفوظ افراد بالکل خیریت سے ہیں جبکہ ایک شخص کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

واشنگٹن ہلٹن وہی مقام ہے جہاں 1981 میں صدر رونلڈ ریگن کو گولی ماری گئی تھی۔

ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوا؟

 

صدر ٹرمپ کو نائب صدر جے ڈی وینس، مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ شخصیات کے ساتھ فوراً وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

 

بعد ازاں وہ وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *