گذشتہ ماہ سے اتفاق ہے کہ ایک دوست کے ساتھ اسلام آباد میں شفا ہسپتال جانا معمول بن گیا ہے۔
میری دوست کے شوہر کا پروسٹیٹ کینسر کا علاج ہو رہا ہے جس کی تشخیص اب سے چار ماہ قبل ہی ہوئی ہے۔
کینسر کا نام ہی کسی کے بھی اوسان خطا کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہم ریڈی ایشن آنکولوجی کے شعبے میں جاتے ہیں جہاں کینسر کے مریضوں کا ریڈیائی شعاعوں سے علاج کیا جاتا ہے۔ علاج کی مدت کئی ہفتوں پر محیط ہوتی ہے۔ ان مریضوں میں چند سال کے بچوں سے لے کر نوجوان، ادھیڑ عمر اور بزرگ افراد سبھی شامل ہیں۔
میرے مشاہدے میں مردوں میں زیادہ تر مثانے یا پروسٹیٹ کینسر اور خواتین میں چھاتی کے کینسر میں مبتلا مریضوں کو یہ شعاعیں دی جاتی ہیں، لیکن دیگر جسمانی اعضا کے کینسر کا شکار مریض بھی ملتے ہیں۔ اس شعبے میں روزانہ تقریباً دو گھنٹے گزارنے کا موقع ملا، اس دوران کئی مریضوں سے شناسائی ہو گئی۔
میری توجہ کا مرکز وہیل چیئر پر بیٹھے نوجوان ارحم بنے، جو اپنے والدین کے ہمراہ شعاعیں لگوانے آتے ہیں۔ میرے دریافت کرنے پر ان کی والدہ نے بتایا کہ ارحم کو پیلوک سارکوما ہے۔ یہ کمر کے نچلے حصے کی ہڈیوں کا کینسر ہوتا ہے۔ اسے پیڑو کا درد یا پیٹ کے نچلے حصے کا درد بھی کہتے ہیں۔
ارحم 18 برس کے ہیں اور پری انجینیئرنگ کے طالب علم ہیں۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ ارحم بیماری سے قبل فٹ بال شوق سے کھیلتے تھے، وہ سماجی طور پر متحرک اور فلاحی کاموں میں شامل رہتے تھے۔ وہ ایک خوش مزاج نوجوان ہیں۔
ابتدا میں جب ارحم کے اس عارضے میں مبتلا ہونے کا پتہ چلا تو بقول ان کی والدہ، ’ہم بے یقینی کی کیفیت میں چلے گئے کہ شاید رپورٹ بدل گئی یا اس میں کوئی غلطی ہے۔ رفتہ رفتہ یہ بات یقین میں بدلی کہ ارحم اس تکلیف دہ کینسر سے اب جڑ چکے ہیں۔ ہمیں ایسا لگا کہ یہ سب ایک خواب ہے اور جب آنکھ کھلے گی تو سب ٹھیک ہو چکا ہو گا۔ ہم سب ارحم کا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھتے ہیں اور اسے تنہا نہیں چھوڑتے۔ اس کی بہنیں اس کا حوصلہ بڑھائے رکھتی ہیں۔‘
دوسری طرف اسی سلسلے میں جب انڈپینڈنٹ اردو نے ہسپتال کے ماہر امراض کینسر ڈاکٹر محمد فرخ سے پوچھا کہ ایک مریض پر اس کی تشخیص کو کس طرح ظاہر کرنا چاہیے تو انہوں نے مختلف سماجی باریکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب دیا، ’میری ٹریننگ شوکت خانم کینسر ہسپتال کی ہے جہاں کے معالجین بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہیں اور بیرون ممالک میں مرض کی تشخیص مریض سے شیئر کر لی جاتی ہے۔
’لیکن ہم جس سماج سے تعلق رکھتے ہیں وہاں اکثر مریض کے سوا اس کے سبھی لواحقین کو مرض کا پتہ چل جاتا ہے۔ کچھ کیسز میں بزرگ افراد کے حوالے سے یہ درست ہو بھی سکتا ہے لیکن ایک ادھیڑ عمر مریض سے اس کی بیماری چھپانا حقیقت پسندی میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔‘
ڈاکٹر فرخ کے بقول، ’یورپی ممالک اور امریکہ میں مریض کی اجازت کے بغیر اس کے عارضے کو فیملی سے شیئر نہیں کیا جا سکتا۔ عمان میں جب کسی کینسر کے مریض کو اس کی بیماری اور اس کی سنگینی سے آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے الحمدللہ اور اپنے پاس بچے ہوئے وقت اور علاج کی تفصیل جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جب سعودی عرب میں مریض کو مرض سے روشناس کرایا جاتا ہے تو کینسر کے علاج میں قرآن سے بھی رہنمائی لی جاتی ہے۔‘
اسی ریڈی ایشن آنکولوجی کے شعبے میں میری ملاقات ملتان سے آئی ہوئی 64 سالہ شاہدہ بیگم سے بھی ہوئی جو بچہ دانی کے کینسر میں مبتلا ہیں اور ان کا کینسر جسم میں مزید پھیلا بھی ہے۔
وہ ایک رشتہ دار نوجوان کے ہمراہ آتی ہیں اور اسلام آباد میں انہی کے گھر مقیم ہیں۔ شاہدہ بیگم کے سبھی بچے شادی شدہ ہیں اور ملتان سے باہر رہتے ہیں۔ بات چیت سے وہ مجھے تنہائی کا بھی شکار لگیں۔
ان کے بقول انہیں اپنے مرض سے خوف نہیں: ’میں نے اپنی بیماری کو خود کے لیے ڈھال بنا لیا ہے، میں اللہ کی رضا میں راضی ہوں۔ میں اپنا حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیتی، خود کو گھر کے کاموں، عبادت کرنے اور نعتیں پڑھنے میں مشغول رکھتی ہوں۔‘
ان کے پیروں پر شدید ایڈیما (سوجن) بھی نظر آتا ہے۔ شاید سب کچھ خود کرنا ان کے لیے محال ہو لیکن وہ روز باہمت دکھائی دیتی ہیں۔
ڈاکٹر فرخ کا کہنا ہے کہ ’اخلاقیات اور علاج دونوں کو ہمیں ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے، مریض کو اس کی بیماری کے بارے میں بتانا اور علاج کے لیے اسے ذہنی طور پر تیار کرنا بھی ایک کٹھن عمل ہوتا ہے لیکن ہم 30 منٹ کے ایک سیشن میں یہ دونوں کام کرتے ہیں۔ مریض کو اس کے علاج کے دوران رونما ہونے والی صورتحال اور سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں بھی بتاتے ہیں اور ایک اجازت نامے پر دستخط بھی لیے جاتے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کینسر کا علاج ایک طویل دورانیے پر محیط ہوتا ہے جس میں بیمار، تیمار دار اور معالج تینوں کا کردار اہم ہے اور ہر ایک کو مثبت سوچ کے ساتھ یہ سفر طے کرنا ہوتا ہے۔
اس بلاگ میں، میں نے ہسپتال کے 25 دنوں کے دوران مریضوں کے چہرے پڑھے ہیں اور میرے اندر کا صحافی مختلف زاویوں سے ان سبھی افراد کو کھوجتا رہا ہے۔ صرف اندرون ملک سے ہی نہیں بلکہ کئی درجن افغان مریض بھی مجھے یہاں علاج کی تلاش میں نظر آئے جو فارسی یا دری زبان میں بات کرتے ہیں اور مترجم کے ہمراہ آتے ہیں۔
کراچی سے آئی طاہرہ کو چھاتی کا کینسر ہے۔ وہ صرف اپنی چھاتی میں رسولی کے بارے میں جانتی ہیں، ان کو کینسر کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ یہی وہ طریقہ ہے مرض سے آگاہی کا جس کا ذکر ڈاکٹر فرخ نے کیا کہ مریض کے علاوہ پاکستان میں سبھی اقربا جانتے ہیں، اسے ہم سماجی رویوں سے جوڑے بغیر نہیں دیکھ سکتے۔
کراچی سے اسلام آباد تک علاج کے لیے آنے کا سفر طاہرہ نے اپنی بیٹی نوشابہ کے ساتھ طے کیا، جو ابلاغ عامہ پڑھ چکی ہیں اور والدہ کے علاج کا بیڑہ اٹھا کر ان کے ہمراہ آئی ہیں۔ نوشابہ ایک باریک بین خاتون ہیں۔
ان کو جب بیماری کا پتہ چلا تو وہ رپورٹ انہوں نے پہلے صرف اپنی قریبی دوست سے شیئر کی، خود کو حوصلہ ملا تو بات گھر تک پہنچائی، والدہ کو صرف چھاتی میں رسولی کا ہی بتایا۔ وہ باہمت نوجوان خاتون ہیں جو والدہ کے ہم قدم ہیں اور شفا کی متلاشی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ سبھی مریض اور ان جیسے لاکھوں بیمار اور تیمار دار اپنے معالج سے صرف شفایابی کی امید لیے ہسپتالوں میں ہمیں نظر آتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ اپنا حوصلہ اور امید ٹوٹنے نہیں دینا چاہتے۔ ان کے ہاتھ روز ایک دعا کی قبولیت میں بلند ہوتے ہیں۔
بقول کینسر کے نوجوان مریض ارحم کی والدہ، ’ہم معالج سے یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری آس بندھائے رکھے۔‘
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
