چین کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کو رپورٹ کیا ہے کہ بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت دوطرفہ تعاون کے حصے کے طور پر ایک پاکستانی خلا باز رواں سال کے شین ژو-24 مشن پر چین کے خلائی سٹیشن کا حصہ بنے گا۔
اس مشن کے ذریعے وہ چین کے خلائی سٹیشن پر جانے والا پہلا غیر ملکی شہری بن جائے گا۔
چین کے سرکاری ٹی وی چینل سی سی ٹی وی نے چائنا مینڈ سپیس ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ خلائی سٹیشن کا دورہ کرنے والا پہلا غیر ملکی خلا باز اس مشن میں پے لوڈ سپیشلسٹ کے طور پر حصہ لے گا۔
چین نے تاحال خلا باز کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم پاکستان کے ایک خلائی ادارے کے عہدے دار نے ستمبر میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ پائلٹس ذیشان علی اور خرم داؤد بیجنگ کے چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے ایک خلائی مشن کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تربیت میں عملی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ’چینی زبان کی بھرپور تعلیم‘ بھی شامل تھی۔
بیجنگ نے تاحال اس مشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سی سی ٹی وی کے مطابق مختصر مدت کے خلائی سفر کی تکمیل کے بعد پاکستانی خلا باز شین ژو-23 خلائی جہاز کے ذریعے زمین پر واپس آئے گا۔
چین کی انسانی خلائی ایجنسی نے 30 اکتوبر 2025 کو اعلان کیا تھا کہ دو پاکستانی خلا باز چینی خلا بازوں کے ساتھ تربیت حاصل کریں گے، جن میں سے ایک کو مختصر مدت کے مشن پر چین کے خلائی سٹیشن بھیجا جائے گا۔
یہ تعاون فروری 2025 میں چین اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے اور یہ چین کے انسانی خلائی پروگرام کی تاریخ کا پہلا مشترکہ خلائی مشن ہوگا، جس میں چینی اور غیر ملکی خلا باز ایک ساتھ حصہ لیں گے۔
چین 2030 تک چاند پر اپنا پہلا انسان بردار مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکہ کو خلائی میدان میں چین کا سب سے بڑا حریف تصور کیا جاتا ہے، جبکہ امریکی خلائی ادارے ناسا کا ہدف 2028 میں خلا بازوں کو چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔
چینی خلائی سٹیشن کا نام ’تیانگ گونگ‘ ہے، جس کے معنی ’آسمانی محل‘ کے ہیں۔
