بھوٹان نے دنیا کا پہلا ’ذہنی سکون کا شہر‘ (مائنڈفلنس سٹی) تعمیر کرنے کے اپنے بڑے منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت 40 ہزار رضاکاروں نے ایک ہی روز میں دریا کے کنارے بدھ مت کے 108 مقدس سٹوپے تعمیر کیے۔
یہ 15 میٹر بلند یادگاریں، جنہیں ’جانگچب چورتن‘ یا ’روشن خیالی کے سٹوپے‘ کہا جاتا ہے، اتوار کو بھوٹان کے جنوبی قصبے گیلیفو میں دریائے ماؤ چھو کے کنارے 11.7 کلومیٹر طویل علاقے میں تعمیر کیے گئیے۔ یہ قصبہ انڈیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
ان تمام سٹوپوں کے درمیان فاصلہ 108 میٹر رکھا گیا ہے۔ ان کا مقصد مستقبل میں تعمیر ہونے والے ’گیلیفو مائنڈفلنس سٹی‘ کے علاقے میں مقدس یادگاروں کی ایک طویل قطار بنانا ہے۔
اس تقریب میں بھوٹان کے بادشاہ جگمے کھیسر نامگیل وانگچک، ملکہ جیتسن پیما اور سابق بادشاہ جگمے سنگے وانگچک نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ انڈیا کے وزیر کرن ریجیجو اور تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتن چارنویرکول بھی تقریب میں موجود تھے۔
روزنامہ ’ڈیلی بھوٹان‘ کے مطابق اداکار اور مارشل آرٹس کے ماہر جیٹ لی بھی تقریب میں شرکت کرنے والے بین الاقوامی مہمانوں میں شامل تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام نے بتایا کہ اس تقریب میں تقریباً دو لاکھ افراد شریک ہوئے، جو بھوٹان کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔
بادشاہ جگمے کھیسر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’مجھے خدشہ تھا کہ ایک ہی دن میں 108 سٹوپے تعمیر کرنے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکے گا، لیکن تمام کام کامیابی سے مکمل ہوا، جس پر میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔‘
اگرچہ ان سٹوپوں کے بیرونی ڈھانچے تقریباً 12 گھنٹوں میں کھڑے کر دیے گئے، تاہم اس کامیابی کے پیچھے کئی ماہ کی تیاری شامل تھی۔ تمام 108 مقامات پر پہلے ہی بنیادیں تیار کر لی گئی تھیں، تعمیراتی سامان کے مختلف حصے بنا لیے گئے تھے اور تعمیراتی ٹیموں کو بھی اس کام کی تربیت دی گئی تھی۔
اتوار کی صبح سویرے تعمیراتی کام شروع ہوا اور دوپہر تک تمام ڈھانچے مکمل کر لیے گئے۔
بعد ازاں ان یادگاروں کو ’دعاؤں، مذہبی برکتوں، مقدس آثار اور مذہبی تحریروں‘ کے ساتھ بند کر دیا جائے گا۔
منصوبے کے حکام نے ان سٹوپوں کو ’دعا کی ایک ایسی مادی شکل قرار دیا ہے جسے پتھر اور مٹی میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔‘
جانگچب چورتن کی تعمیر بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی اس روحانی کامیابی کی یاد میں کی جاتی ہے جب انہوں نے انڈیا کے شہر بودھ گیا میں ایک درخت (بودھی) کے نیچے گیان حاصل کیا تھا۔
بدھ مت کی روایات میں سٹوپے کی تعمیر کو ایک نیک اور ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے، جس کے روحانی فوائد صرف تعمیر میں حصہ لینے والوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ دوسروں کو بھی حاصل ہوتے ہیں۔
بدھ مت میں عدد 108 کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ ان ذہنی برائیوں اور منفی کیفیات کی علامت سمجھا جاتا ہے جن پر قابو پانے کی کوشش انسان کرتا ہے۔
گیلیفو مائنڈفلنس سٹی اتھارٹی میں مذہبی امور کے شعبے کی سربراہی کرنے والے داشو تاشی دورجی نے اخبار ’کونسل‘ کو بتایا کہ سٹوپے ’مقدس آثار، تعلیمات اور برکتوں کو محفوظ رکھنے کے مقدس مقامات ہیں۔‘
اس تقریب کے لیے منتخب کی گئی تاریخ بھی بھوٹان کی بدھ مت برادری اور شاہی خاندان کے لیے خاص اہمیت رکھتی تھی۔
یہ دن ’لہاباب دُوچن‘ کے مذہبی تہوار کے ساتھ منایا گیا، جو گوتم بدھ کی ایک آسمانی دنیا سے انسانی دنیا میں واپسی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اسی روز بادشاہ جگمے کھیسر نامگیل وانگچک کی تاج پوشی کی 18ویں سالگرہ بھی تھی۔
بھوٹان کے اعلیٰ ترین مذہبی پیشوا جی کھینپو نے مذہبی رسومات کی قیادت کی، جبکہ اس موقع پر روایتی طویل مذہبی بگلوں ’دونگچن‘ کے 58 جوڑے بجائے گئے، جن کی آواز پورے علاقے میں گونجتی رہی۔
بادشاہ نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے گیلیفو منصوبے کی حمایت کے اعتراف میں ایک سٹوپہ ان کے نام سے منسوب کیا۔
یہ تقریب بادشاہ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کا اعلان انہوں نے پہلی بار دسمبر 2023 میں کیا تھا۔
گیلیفو مائنڈفلنس سٹی کو ایک خصوصی انتظامی خطے کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے، جس کا نقشہ ڈنمارک کی آرکیٹیکچر کمپنی ’بیارکے انگلز گروپ‘ نے تیار کیا ہے۔
بادشاہ نے اس شہر کو مستقبل کا ایک ’متحرک اقتصادی مرکز‘ قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ماحول دوست توانائی، تعلیم، صحت و تندرستی، مالیاتی خدمات اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے، جبکہ اس کی بنیاد بھوٹان کے بدھ مت کے ثقافتی ورثے پر رکھی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس شہر کا نقشہ تیار کرنے والے ماہر تعمیرات بیارکے انگلز کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسا شہر بنانا ہے ’جو دنیا میں کہیں اور موجود نہ ہو‘ اور جس کی تشکیل بھوٹان کے قدرتی مناظر اور ثقافت کو سامنے رکھتے ہوئے کی جائے۔
گیلیفو کے لیے بھوٹان کے یہ عزائم ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کو اپنے نوجوان اور ہنرمند افراد کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
بے روزگاری، شرح پیدائش میں کمی اور بہتر تنخواہوں کے لیے بھوٹان چھوڑنے والے شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے معاشی مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ مسئلہ خصوصاً نوجوانوں میں زیادہ سنگین ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 18 فیصد تھی، جو ملک کی مجموعی بے روزگاری کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 8.5 فیصد آبادی بیرون ملک مقیم تھی۔
بھوٹان کے جنوبی حصے میں واقع گیلیفو اس وقت تقریباً 10 ہزار آبادی پر مشتمل ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، جو دارالحکومت تھمپو سے تقریباً 240 کلومیٹر دور ہے۔
منصوبے کے تحت اس قصبے کو ایک بڑے شہر میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں 2029 میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ کھولنے اور اسے انڈیا کی ریاست آسام سے ریلوے کے ذریعے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
