ایک زمانہ تھا جب انسان تنہا ہوتا تو کھڑکی سے باہر دیکھتا، چائے بناتا، کسی دوست کو فون کرتا، چھت پر جا کر آسمان سے دو چار باتیں کر لیتا یا دوستوں کے ساتھ کوئی کھیل کھیلنے نکل جاتا تھا۔
اب تنہائی محسوس ہو تو فوراً موبائل اٹھاتا ہے، فیس بک کھولتا ہے، انسٹاگرام پر جاتا ہے، واٹس ایپ کے پیغامات دیکھتا ہے اور چند منٹ بعد پہلے سے زیادہ تنہا ہو جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب تنہائی کے ساتھ انٹرنیٹ بھی لگا ہوا ہے۔
صبح آنکھ کھلنے سے پہلے موبائل کی سکرین روشن ہو جاتی ہے۔ کہیں جنگ ہو رہی ہے، کہیں سیلاب آیا ہے، کسی نے شادی کر لی ہے، کسی نے طلاق دے دی ہے، کسی نے نیا مکان خریدا ہے اور کسی نے اپنی زندگی کی بہترین تصویر لگا کر لکھا ہے: ’زندگی بہت خوبصورت ہے۔‘ ادھر ہم بستر پر پڑے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آج اٹھنے کا دل کیوں نہیں کر رہا۔
انسانی دماغ بھی آخر کتنا برداشت کرے؟ سیاسی تجزیے، عالمی خبریں، کسی کی سالگرہ، کسی کا ڈانس اور پھر ایک ویڈیو جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صرف تین دن میں زندگی بدل سکتی ہے۔ دماغ ابھی پہلی خبر سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ دوسری خبر دروازہ توڑ کر اندر آ جاتی ہے۔
ہمارا دماغ اخبار اور بریکنگ نیوز بن چکا ہے، لیکن حقیقی زندگی میں مثبت تبدیلی کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ ہم کام چوری کو بری قسمت، اپنی ناکامیوں کو سازش اور دوسروں کی کامیابی کو خوش قسمتی قرار دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔
یہ ہی ذہنی انتشار دوسروں کی زندگی سے اپنا موازنہ کرنے کی عادت کو بھی بڑھاتا ہے۔ کسی نے نیا مکان خرید لیا، کسی نے بیرون ملک سفر کر لیا، کسی نے اپنی شہرت کے جھنڈے گاڑ دیے۔ پھر تصاویر کے ساتھ یہ اعلان بھی ضروری ہے کہ دیکھو، میں تم سے زیادہ خوش، کامیاب، دولت مند اور بااثر ہوں۔ میرے دوست کتنے بڑے لوگ ہیں، تمہارے پاس کیا ہے؟
یوں دوسروں کی خوشی ہماری پریشانی اور ان کی کامیابی ہماری محرومی بن جاتی ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مسکراتی تصویر کے پیچھے کتنی پریشانیاں ہیں، لیکن ہم اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی منتخب کردہ خوبصورت جھلکیوں سے کرنے لگتے ہیں۔ خوش رہنے سے زیادہ خوش دکھائی دینا اہم ہو جاتا ہے۔
مگر اس ڈیجیٹل دنیا کا ایک اور بٹن ہے جس نے انسانی رشتوں میں خاموشی، فاصلے اور نفسیاتی اذیت کی نئی صورتیں پیدا کی ہیں۔ وہ بٹن ہے ’بلاک‘ کا۔
ذرا سوچیے، ایک ہی ماں کے بچے ایک دوسرے کو بلاک کیے بیٹھے ہیں۔ بہن بھائی، جنہوں نے ایک ہی گھر میں بچپن گزارا، ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھایا، ایک دوسرے کے راز رکھے اور کبھی ایک دوسرے کے لیے دنیا سے لڑنے کو تیار تھے، آج ایک دوسرے کی زندگی سے بے خبر ہیں۔
کسی بھائی کو معلوم نہیں کہ اس کی بہن کس ذہنی اذیت سے گزر رہی ہے۔ کسی بہن کو خبر نہیں کہ اس کا بھائی راتوں کو کس پریشانی میں جاگتا ہے۔ گھر میں رشتے موجود ہیں، مگر رابطے غائب ہیں۔ کبھی ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ اب ایک دوسرے کا حال جاننے کے لیے دوسروں کے محتاج ہو گئے ہیں۔
یہ کیسا جدید خاندان ہے جہاں سب کے پاس سمارٹ فون ہے، مگر کسی کے پاس ایک دوسرے کا حال پوچھنے کا وقت نہیں؟
بلاک کرنا بعض اوقات اپنی حفاظت اور ذہنی سکون کے لیے ضروری ہوتا ہے، خصوصاً جب کوئی شخص ہراسانی یا مسلسل اذیت کا سبب بنے، لیکن جب یہی سہولت انا، انتقام، حسد یا کسی کو سزا دینے کا ہتھیار بن جائے تو معاملہ محض ٹیکنالوجی کا نہیں رہتا، انسانی رویوں کا بن جاتا ہے۔
اور بعض خاندانی رشتوں میں تو معاملہ بلاک کرنے سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے حسد، مقابلہ بازی، خوبصورت دکھائی دینے، زیادہ کامیاب ہونے اور دوسروں سے زیادہ مقبول نظر آنے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔
بعض اوقات اپنے ہی کسی عزیز کے دوستوں کو اس سے بدظن کرنے، اس کی شہرت خراب کرنے یا اس کے کاروبار اور تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کیا ہم اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ اپنے ہی ماں جائے کی کامیابی ہمیں اپنی ناکامی محسوس ہونے لگی ہے؟ جس بھائی یا بہن کے ساتھ کبھی کھلونے بانٹتے تھے، کیا آج اس کی خوشی بانٹنا بھی مشکل ہو گیا ہے؟
یہاں ایک نفسیاتی سوال پیدا ہوتا ہے: آخر یہ دوڑ کس لیے ہے؟
انسان کو صرف پیسہ، مکان، شہرت اور کامیابی نہیں چاہیے۔ اسے تعلق، قبولیت، عزت، توجہ اور جذباتی تحفظ بھی درکار ہوتا ہے۔ اسے یقین چاہیے کہ اگر وہ ٹوٹ جائے تو کوئی اسے سنبھال لے گا، اگر روئے تو کوئی اسے کمزور نہیں سمجھے گا اور اگر خاموش ہو جائے تو کوئی اس کی خاموشی کا مطلب پوچھے گا۔
جب کوئی قریبی شخص اچانک رابطہ ختم کر دیتا ہے تو ذہن میں سوالات اٹھنے لگتے ہیں: مجھ سے کیا غلطی ہوئی؟ کیا میری کوئی اہمیت نہیں؟ کیا وہ مجھے ہمیشہ کے لیے بھول گیا؟ بعض افراد ان سوالات میں الجھ کر بے چینی، احساسِ جرم اور تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اور پھر یہ انسان اپنے دکھ کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتا ہے۔ کبھی لکھتا ہے، ’میں تھک گیا ہوں۔‘ کبھی کوئی اداس تصویر لگاتا ہے، کبھی کسی شعر میں اپنے دل کی بات چھپا دیتا ہے۔ اس کی پوسٹ شاید محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں ہوتی، ممکن ہے وہ کسی ایسے انسان کی تلاش میں ہو جو اس کی بات سن لے۔
کتنا عجیب ہے کہ اپنے ہی گھر میں جسے سننے والا کوئی نہیں، وہ دنیا بھر کے اجنبیوں سے مخاطب ہو جاتا ہے۔ کبھی کسی اجنبی کا ایک ہمدردانہ تبصرہ اسے سہارا دے جاتا ہے، لیکن جن بہن بھائیوں کے ساتھ اس نے زندگی کے بہترین دن گزارے ہوں، وہ شاید اس کی آواز سن بھی نہیں سکتے۔
ہم نے دکھ کو بھی سکرول کرنا سیکھ لیا ہے۔ کسی کی اداس پوسٹ دیکھی، چند لمحے افسوس کیا اور اگلی ویڈیو پر چلے گئے۔ روزانہ سینکڑوں حادثات، جنگیں، اموات اور انسانی المیے دیکھتے دیکھتے بعض اوقات ہم جذباتی طور پر تھک جاتے ہیں، لیکن کسی کی تکلیف کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
خودکشی کے واقعات کے پیچھے متعدد نفسیاتی، سماجی اور معاشی عوامل ہوتے ہیں۔ انہیں کسی ایک رشتے، بلاک کیے جانے یا سوشل میڈیا سے منسوب کرنا درست نہیں۔ تاہم شدید تنہائی، ناامیدی اور جذباتی سہارے کی کمی بعض افراد کی تکلیف کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
کتنے لوگ اپنے دکھ کے ساتھ خاموشی سے زندگی گزار رہے ہوں گے، کتنے مدد کے منتظر ہوں گے اور کتنے ایسے ہوں گے جن کی خاموشی کو کسی نے سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا۔ کیا ہر اختلاف کا حل تعلق ختم کرنا ہے؟
کیا ہر ناراضی کا جواب بلاک کرنا ہے؟ کیا اپنی انا کی حفاظت کرتے کرتے ہم دوسروں کے جذبات کی اہمیت بھول گئے ہیں؟
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر رشتہ بچانا ممکن نہیں، مگر ہر اختلاف کو نفرت میں تبدیل کرنا بھی ضروری نہیں۔ جہاں محفوظ اور مناسب ہو، وہاں ایک فون کال، ایک معذرت یا چند سچے الفاظ برسوں کی دوری کم کر سکتے ہیں۔
شاید ہمیں سوشل میڈیا پر دوستوں کی تعداد بڑھانے سے زیادہ حقیقی زندگی میں ایک دوسرے کے لیے موجود رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مشکل وقت میں انسان کو ہزاروں لائکس نہیں، ایک مخلص انسان چاہیے ہوتا ہے۔
کبھی کسی اپنے کی اداس پوسٹ دیکھیں تو صرف سکرول نہ کریں۔ فون اٹھائیں، اس کا حال پوچھیں، اس کی بات سنیں اور اگر کوئی مسلسل ناامیدی یا شدید ذہنی تکلیف کا اظہار کر رہا ہو تو اسے مناسب مدد حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔
آخر میں پھر وہی سوال: ’مجھے بلاک کیوں کیا؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہیں آج بھی اپنا سمجھتا ہوں؟‘
شاید اس سوال کا جواب ہمیں اپنی انا، حسد، مقابلہ بازی اور ٹوٹتے ہوئے خاندانی رشتوں میں تلاش کرنا ہوگا، کیونکہ کبھی کبھی ہمارے لیے بلاک کا بٹن دبانا صرف ایک کلک ہوتا ہے، مگر دوسری طرف کوئی ایسا انسان ہوتا ہے جو صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے سنے، سمجھے اور اس کے دکھ کو اہمیت دے۔
اور شاید اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم سب آن لائن موجود ہیں، مگر ایک دوسرے کی زندگیوں میں موجود نہیں۔
