افغانستان کی طالبان حکومت نے پیر کو ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ واشنگٹن درجنوں افغان تارکین وطن کو بے دخل کر کے پاکستان کے راستے ملک واپس بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس اور ایک امدادی تنظیم کے مطابق امریکہ میں مقیم 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجا جائے گا۔
ان میں ایسے افراد کے رشتہ دار بھی شامل ہیں جنہوں نے 2021 میں امریکی افواج کے انخلا سے قبل ان کی مدد کی تھی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایک بیان میں کہا ’امارت اسلامیہ افغانستان کو ان اطلاعات پر شدید تشویش ہے کہ امریکہ بعض ایسے افغان پناہ گزینوں کو پاکستان بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ابھی تک وہاں قانونی رہائش کے دستاویزات حاصل نہیں کر سکے۔‘
امدادی تنظیموں نے خبردار کیا کہ امریکہ کے سابق اتحادیوں اور ان کے اہل خانہ کو بے دخل کرنے سے ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان حکومت نے ان افغان شہریوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا جنہوں نے مغربی حمایت یافتہ افواج اور حکومتوں کے ساتھ کام کیا۔
طالبان حکام نے رواں سال بھی بارہا یقین دہانی کرائی کہ ان کے سابق مخالفین بحفاظت وطن واپس آ سکتے ہیں۔
تاہم اقوام متحدہ نے ماورائے عدالت قتل، حراست میں لیے جانے اور بدسلوکی کے واقعات سے متعلق اطلاعات ریکارڈ کی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گذشتہ سال وسیع تر امیگریشن پابندیوں کے تحت افغانستان سمیت متعدد ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کو ملک بدری سے حاصل تحفظ ختم کرنے کی بھی کوشش کی، جن میں سے بعض کو 2021 میں طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد خصوصی تارکین وطن ویزے دیے گئے تھے۔
افغانستان میں امریکی فوج کی 2021 سے قبل مدد کرنے والے افغان شہریوں کے رشتہ دار بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہیں ملک بدر کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ بات سابق افغان اتحادیوں کی مدد کے لیے کام کرنے والے گروپ افغان ایویک نے بتائی ہے۔
چونکہ امریکہ براہ راست افغان شہریوں کو افغانستان نہیں بھیج سکتا، اس لیے امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کو بتایا کہ پاکستان ان افراد کو افغانستان بھیجنے کے عمل کی نگرانی کرے گا۔
حکومت پاکستان نے تاحال ان خبروں پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حالیہ برسوں میں جرمنی اور ترکی بھی افغان شہریوں کو براہ راست افغانستان ڈی پورٹ کر چکے ہیں حالانکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے وطن واپس بھیجے جانے والوں کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی تھی۔
عبدالقہار بلخی نے کہا کہ طالبان حکومت نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ’اس معاملے میں ذمہ دارانہ اور محتاط طرز عمل اختیار کرے اور افغان شہریوں کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے اور اقدام کے لیے واضح باہمی مفاہمت، ضروری رابطہ کاری اور متعلقہ افراد کے حقوق اور جائز مطالبات کو مدنظر رکھے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’افغان فریق اس معاملے پر عملی طور پر اور باہمی مفاہمت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔‘
پاکستانی حکومت نے رواں سال کے آغاز میں ملک گیر سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بغیر ویزے کے مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ اقدام کئی سال سے جاری اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت جنگ کے مختلف ادوار میں افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان آنے والے لاکھوں افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔
طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، تاہم گذشتہ اکتوبر میں سرحد پر ہونے والی مہلک جھڑپوں کے بعد ان میں مزید بگاڑ آیا۔
ان جھڑپوں کے نتیجے میں سرحد تقریباً مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔
