جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے دور افتادہ دیہی علاقے رامانال میں صبح کے چار بج رہے ہیں۔ پورنیما ایک اور دن شروع کرنے کے لیے اپنے خیمے سے باہر نکلتی ہیں۔
عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والی دوسری خواتین کی طرح وہ بھی مردوں کے جاگنے سے پہلے نہا دھو لیتی ہیں۔
یہ مزدور اپنے قرضے چکانے کے لیے روزگار کی تلاش میں اپنے گاؤں سے 500 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں۔
پورے انڈیا میں ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ افراد گنے کی کٹائی کا کام کرتے ہیں۔ انہیں اکثر روزانہ 14 گھنٹے محنت کے عوض محض 400 انڈین روپے (تقریباً تین برطانوی پاؤنڈ) ملتے ہیں۔
یہ مزدور عموماً میاں بیوی کی جوڑی کی صورت میں صبح سویرے سے رات تک کام کرتے ہیں اور کٹے ہوئے گنے کو ٹرکوں پر لادنے کے لیے ہی کٹائی روکتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
انڈیا دنیا میں پیدا ہونے والے گنے کا 16 فیصد پیدا کرتا ہے اور پیداوار کے لحاظ سے برازیل کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
اس خطے سے گنا باقاعدگی سے کوکا کولا اور پیپسی کو جیسی بڑی مشروبات ساز کمپنیوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔
ان کھیتوں میں گنے کی کٹائی کرنے والے زیادہ تر مزدور وسطی مہاراشٹر کے علاقے بیڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اپنے آبائی علاقوں میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث یہ لوگ خاندانوں کی کفالت کے لیے اس انتہائی مشقت طلب کام پر مجبور ہیں۔
انڈیا میں گنے کی کٹائی کرنے والے مزدوروں کی زندگی کی تلخ حقیقت
بہت سی خواتین کے لیے جسمانی مشقت اس کام کی مشکلات کا صرف ایک پہلو ہے۔
زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض خواتین کو اپنا روزگار برقرار رکھنے کے لیے اپنی تولیدی صحت خطرے میں ڈالنے کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بیت الخلا اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم عارضی کیمپوں میں رہنے والی خواتین مزدوروں کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔
ان حالات میں ماہواری کے دوران اپنی ضروریات پوری کرنا نہ صرف جسمانی طور پر تکلیف دہ ہے بلکہ ان کے لیے شدید مالی مشکلات کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
اس نظام میں کام کی صرف ایک شفٹ چھوڑنے پر بھی اجرت سے بھاری کٹوتی ہوتی ہے اس لیے ماہواری کے درد کی وجہ سے ایک دن کی چھٹی لینا بھی ان خواتین کے لیے ممکن نہیں۔
ان مزدور خواتین کے سامنے دو انتہائی مشکل راستے رہ جاتے ہیں ’اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے کام سے چھٹی کریں اور بھاری جرمانہ برداشت کریں، یا کام جاری رکھیں اور طویل مدتی طبی مسائل کا خطرہ مول لیں۔‘
مزدور خواتین اور ان کی مدد کرنے والے سماجی کارکنوں کے مطابق بہت سی خواتین کو ماہواری کے درد اور حمل کے دوران کام سے وقفہ لینے کی ضرورت ختم کرنے کے لیے انتہائی اقدامات کا دباؤ محسوس ہوتا ہے تاکہ وہ کھیتوں میں کام جاری رکھ کر روزی کما سکیں۔
گنے کی کٹائی کرنے والی مزدور پورنیما کہتی ہیں ’اگر کوئی مجھے اس درد سے نجات دلا دے تو یہ میرے لیے بہت بڑی مدد ہوگی۔‘
انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے بچہ دانی نکلوانے کے آپریشن (ہسٹریکٹومی) پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں۔
’میری تکلیف کم نہیں ہو رہی۔ اگر میں یہ کام جاری رکھوں گی تو یہ مزید بڑھ جائے گی۔ شاید اتنا بھاری وزن اٹھانا چھوڑ دوں تو حالت بہتر ہو جائے لیکن ہمارے پاس یہ کام کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘
قرض کے بوجھ تلے دبے مزدور
گنے کی کٹائی ایک موسمی کام ہے جس پر بیڈ کے بہت سے خاندانوں کا انحصار ہے۔
ہر سال ایک ٹھیکیدار، جسے مقامی زبان میں ’مکادم‘ کہا جاتا ہے، دوسرے علاقوں میں کام کے لیے جانے والے مزدوروں کا انتظام کرتا ہے۔
یہ ٹھیکیدار شوگر ملوں سے رابطہ کرتا ہے، مزدوروں کے سفر کا انتظام کرتا ہے اور انہیں پیشگی رقم فراہم کرتا ہے۔
ہر مزدور جوڑے کو مقامی طور پر ’کوئتا‘ کہا جاتا ہے۔ اس جوڑے کو پیشگی لی گئی رقم واپس کرنے کے لیے کام کرنا ہوتا ہے اور اس سے روزانہ اوسطاً تین ٹن گنا کاٹنے کی توقع کی جاتی ہے۔
چونکہ سات یا آٹھ مزدور جوڑوں کے گروپ میں کمائی تقسیم ہوتی ہے اس لیے ہر جوڑے پر دوسروں کے برابر کام کرنے کا دباؤ ہوتا ہے۔
اگر کوئی خاتون کام نہ کر سکے تو باقی جوڑے اس کے حصے کی کٹائی پوری کرنے کے لیے اضافی کام کرنے کے عوض اس پر جرمانہ عائد کرتے ہیں۔
گنے کی کٹائی کرنے والی مزدور سویتا ان مشکلات کو یاد کرتی ہیں جن کے باعث انہوں نے مارچ 2025 میں اپنی بچہ دانی نکلوانے کا فیصلہ کیا تھا۔
سویتا کہتی ہیں ’کھیتوں میں کوئی آپ کی مدد نہیں کرتا۔ وہ آپ کو بالکل آرام نہیں کرنے دیتے۔
’میں بہت بیمار تھی، لیکن کسی نے میری مدد نہیں کی۔ میرے پیٹ میں درد تھا اور میں گنا ٹرک پر لادنے کے لیے سیڑھی نہیں چڑھ سکتی تھی۔ گذشتہ سال ایسا کرتے ہوئے میں تین مرتبہ گری، لیکن پھر بھی شکایت نہیں کر سکتی تھی۔‘
پورنیما بھی اسی طرح کی مشکلات بیان کرتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ کہتی ہیں’ہمیں کبھی ایک دن کی بھی چھٹی نہیں ملتی۔ ایک مرتبہ یہاں پہنچ جائیں تو اگلے چار سے پانچ ماہ تک ہر روز مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔‘
پورنیما کے مطابق گذشتہ تین سال سے مسلسل درد کے باعث وہ بچہ دانی نکلوانے کے آپریشن پر غور کر رہی ہیں۔
تاہم اگر وہ آپریشن کا فیصلہ کر بھی لیں تو اس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں مزید قرض لینا پڑ سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں’اپنی بچہ دانی نکلوانے کے لیے بھی مجھے قرض لینا پڑے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرا جسم ہی اس نظام کا غلام بن گیا ہے۔
’میں نے ڈاکٹروں پر بھروسہ کیا لیکن کئی ماہ بعد بھی درد میں مبتلا ہوں۔‘
سماجی کارکن اور وکیل سنگیتا چوہان خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے سیاست دان ڈاکٹر نیلم گورہے کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں۔
ڈاکٹر نیلم گورہے کی 2019 کی رپورٹ میں غیر ضروری طور پر بچہ دانی نکلوانے کے آپریشن کی بلند شرح سامنے آنے کے بعد اس مسئلے پر توجہ مرکوز ہوئی تھی۔
سنگیتا کے مطابق بعض خواتین کو سرکاری ہسپتالوں میں کم خرچ اور آپریشن کے بغیر علاج کی سہولتوں کی جانب رہنمائی فراہم کرنے کے بجائے نجی طبی مراکز جانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے جہاں مناسب طبی جواز کے بغیر آپریشن کیے جاتے ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت انڈیا کے دیہی علاقوں میں آشا(ASHA) کے نام سے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز تعینات کرتی ہے۔
یہ کارکن کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کو سرکاری طبی سہولتوں، زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق خدمات اور آگاہی کے پروگراموں سے جوڑتی ہیں۔
اگرچہ بہت سی آشا کارکن خواتین کی مدد میں اہم کردار ادا کرتی ہیں تاہم سنگیتا نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ انہوں نے بعض آشا کارکنوں سے بات کی ہے جنہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خواتین کو بچہ دانی نکلوانے کے آپریشن کے لیے بھیجنے کے بدلے رقم وصول کرتی ہیں۔
جب دی انڈپینڈنٹ نے مہاراشٹر میں آشا کارکنوں سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ایسی کسی بات سے لاعلمی ظاہر کی۔
ضلع وڈوانی کی آشا کارکن گنگا شیوانتے کہتی ہیں ’میں نے کم عمری میں خواتین کی بچہ دانی نکلوانے کے آپریشن کے بارے میں سنا تھا، لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ آپریشن سرکاری ہسپتالوں میں ہو رہے تھے یا نجی ہسپتالوں میں۔‘
گنگا نے اس بات کی تردید کی کہ آشا کارکنوں کو مریضوں کو آپریشن کے لیے بھیجنے کے بدلے مالی مراعات ملتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود بھی کبھی اس مقصد کے لیے رقم وصول نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ نجی کلینک جانے کا مشورہ نہیں دیتیں لیکن ’بعض خاندان جو نجی کلینک کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں، ہمارے تجویز کردہ سرکاری ہسپتالوں کے بجائے مشورے کے لیے نجی کلینک کا رخ کرتے ہیں۔‘
دی انڈپینڈنٹ کی تحقیقات اور انٹرویوز میں یہ بات سامنے آئی کہ اس معاملے میں ہر فریق ذمہ داری دوسروں پر ڈال رہا ہے جبکہ اس صورت حال سے براہ راست متاثر ہونے والی خواتین خود کو بے بس محسوس کرتی ہیں۔
سویتا کے مطابق آپریشن کے کئی ماہ بعد بھی انہیں خون آنے اور پہلے سے زیادہ درد کی شکایت ہے جبکہ اب ان کے لیے کام کرنا پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
سویتا کہتی ہیں’میں نے ڈاکٹروں پر بھروسہ کیا۔ مجھے لگا کہ بچہ دانی نکلوانے سے واقعی فائدہ ہوگا، اس لیے میں نے یہ سوچ کر آپریشن کی رضامندی دی کہ ایک ہی بار میں تمام تکلیفوں سے نجات مل جائے گی۔‘
آپریشن کے بعد سویتا پونے شہر گئیں، جہاں انہیں معلوم ہوا کہ وہ انفیکشن میں مبتلا ہیں۔
سویتا کا دعویٰ ہے کہ جب انہوں نے اپنے آپریشن کی میڈیکل رپورٹس مانگیں تو انہیں فراہم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
’میں اب بھی شدید درد میں مبتلا ہوں، لیکن آپریشن سے پہلے کسی نے مجھے اس بارے میں بالکل خبردار نہیں کیا تھا۔‘
حکومتی اقدامات کے باوجود زمینی حالات میں بہت کم تبدیلی آئی
گنے کی کٹائی کے ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو آپریشن کروانے پر مجبور نہیں کرتے تاہم مزدوروں کو تنخواہ کے ساتھ چھٹی بھی نہیں دیتے کیونکہ اس سے ٹرکوں پر لادنے کے لیے گنے کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور خدشہ ہوتا ہے کہ اگلی مرتبہ شوگر ملیں انہیں کام نہیں دیں گی۔
گنے کی کٹائی کرنے والے مزدوروں کے مقامی ٹھیکیدار آشروبا دتا کہتے ہیں ’ہماری اجرت کا مکمل انحصار اس گنے کے وزن پر ہوتا ہے جو ہم فیکٹری پہنچاتے ہیں۔
’اگر ہمارے پاس زیادہ مزدور ہوں تو ہمارے ٹریکٹر سے اچھی آمدن ہوتی ہے۔ اگر مزدور کم ہوں تو ہم باقی لوگوں کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ غیر حاضر مزدوروں کی کمی پوری کرنے کے لیے زیادہ وزن اٹھائیں۔‘
خواتین مزدوروں کے ان انتہائی سخت حالات کار کو بہتر بنانے کے لیے انڈیا میں زرعی مزدوری کے نظام، اس کے انتظام اور اس سے متعلق قوانین میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
سال 2019 میں مہاراشٹر حکومت کی ایک کمیٹی نے ضلع بیڈ کی ان 82 ہزار 309 خواتین کا سروے کیا جو گنے کی کٹائی کے لیے دوسرے علاقوں میں گئی تھیں۔
سروے میں معلوم ہوا کہ ان میں سے 13 ہزار 861 خواتین کی بچہ دانی نکالی جا چکی تھی۔ ان خواتین میں سے 45 فیصد سے زیادہ نے بعد میں جسمانی یا نفسیاتی مسائل کی شکایت کی۔
اس کے بعد حکومت نے بچہ دانی نکلوانے کے آپریشن کی نگرانی اور نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات متعارف کروائے۔
مارچ 2025 میں بمبئی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو مزدوروں کی باقاعدہ رجسٹریشن اور فلاحی و طبی سہولتوں تک بہتر رسائی سمیت متعدد اقدامات کرنے کا حکم دیا۔
اس سلسلے میں پیش رفت کی رپورٹ نومبر 2025 میں جاری ہونا تھی، تاہم اسے شائع نہیں کیا گیا۔
تاہم مزدوروں کے مطابق عملی طور پر حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔
پورنیما اور سویتا دونوں کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے کوئی فلاحی مدد نہیں ملی۔
زندہ رہنے قیمت
پورنیما کہتی ہیں ’میرا درد ناقابل برداشت ہے۔‘
ان کے مطابق وہ درد سے نجات کے لیے سالانہ 50 ہزار انڈین روپے (تقریباً 395 برطانوی پاؤنڈ) خرچ کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’گاؤں واپس جا کر مجھے آپریشن کروانا ہوگا، لیکن اس کے لیے مزید قرض لینا پڑے گا۔‘
’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس نظام نے میری بچہ دانی تک پر اپنا حق جما لیا ہے، صرف اس لیے کہ میں کام جاری رکھ سکوں۔‘
دی انڈپینڈنٹ نے اس رپورٹ پر مؤقف جاننے کے لیے ضلع بیڈ کے ڈسٹرکٹ کلکٹر وویک جانسن سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
وویک جانسن ضلع بیڈ میں انتظامی امور، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عمل درآمد اور قانون کے نفاذ کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔
کوکا کولا کا کہنا ہے کہ اس نے مزدوروں کو صاف پانی، صفائی ستھرائی کی سہولتوں، سایہ دار آرام گاہوں، جسمانی مشقت کم کرنے والے موزوں آلات اور خواتین کی ماہواری کے دوران صفائی کی ضروری اشیا تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی سماجی تنظیم سولیڈاری داد (Solidaridad) کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس شراکت داری سے ایک لاکھ افراد مستفید ہوئے ہیں۔
دی انڈپینڈنٹ نے پیپسی کو سے بھی مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب پورنیما کی مشکلات بدستور جاری ہیں۔
پورنیما کہتی ہیں ’میں اس کشمکش میں ہوں کہ آپریشن مؤخر کر دوں یا کروا ہی لوں۔ مجھے امید ہے کہ درد سے نجات ملنے کے بعد میں کھیتوں میں کام جاری رکھ سکوں گی اور اپنے خاندان کی کفالت کر سکوں گی۔‘
