سرحد پر کشیدگی، افغانستان سے حملوں کا بھرپور جواب دیا: پاکستانی حکام

خیبرپختونخوا میں حکام نے اتوار کوبتایا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان سرحدی چوکیوں سے ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں ہونے والی بلااشتعال فائرنگ کا جواب دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لوئر وزیرستان کے سرکاری اکاؤنٹ سے ایکس پوسٹ میں کہا گیا  کہ ’افغان سرحدی چوکیوں سے پاکستانی سرحدی چیک پوسٹوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

’پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا اور متعدد افغان سرحدی چوکیوں، مورٹر پوزیشنز اور دفاعی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔

پاکستانی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان اپنی چوکیاں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔‘

پوسٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی حدود میں سرحدی علاقوں سے کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور پاکستانی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت کا مکمل جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے اتوار کو افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے امریکہ کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ کسی بھی بات چیت میں پاکستان کے سکیورٹی خدشات پر گفتگو ضروری ہے۔ 

یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد دینے کی پیشکش کے بعد سامنے آیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے اتوار کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو کے بیان سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکہ سمیت دوست ممالک کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ترجمان کے مطابق اسلام آباد تعمیری روابط کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ان کے نتیجے میں پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے عملی اور ٹھوس پیش رفت ہو۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ’تعمیری کردار‘ ادا کرنے کو تیار ہے۔

روبیو نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان نے حملے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، جس کے جواب میں اسلام آباد نے کارروائی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے ’پاکستان کے خدشات سنے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔‘

مارکوروبیو نے مزید کہا کہ ’امریکہ دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے قطع نظر اس کے کہ یہ کہاں سے جنم لیتی ہے یا کسے نشانہ بناتی ہے۔‘

افغان فورسز نے گذشتہ منگل کو انگور اڈہ سرحدی علاقے میں بھی فائرنگ کی تھی، جس میں ایک مقامی شخص کی جان گئی۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان اپنے عوام پر حملوں یا اپنی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کو ’کبھی برداشت نہیں کرے گا‘۔

پاکستان نے اس واقعے کے حوالے سے افغانستان کی وزارت دفاع کا وہ بیان بھی مسترد کر دیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان جارح ہے، اور اسے ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان افغانستان کشیدگی

گذشتہ چند سال میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں اور اسلام آباد سرحد پار دہشت گردی پر مسلسل تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔

اسلام آباد نے کابل میں طالبان انتظامیہ پر بار بار زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرے، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک پناہ گاہوں کو، جو پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اپیلوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

دوسری جانب، افغان طالبان نے ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں پر واضح مؤقف اپنانے سے گریز کیا جب کہ اسلام آباد کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

فوجی تنازعے کی حالیہ لہر کا آغاز ستمبر میں ہوا، جب پاکستان نے خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے جواب میں سرحدی علاقے میں نپی تلی فضائی کارروائیاں کیں۔ اس کے بعد افغان سرحد پار سے ڈرون حملے کیے گئے، جنہیں اسلام آباد کے مطابق مار گرایا گیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *