پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ صوبے کے عوام، معیشت اور معاشرے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے ضروری تھا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے پارلیمانی ارکان اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بات نہ بننے پر سخت فیصلہ کرنا پڑا۔
وزیراعظم کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی کمیٹیوں نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے اور طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا، تاہم منظوری نہ مل سکی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
انہوں نے کہا کہ ’عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔‘
قومی سرکاری ادارے اے پی پی کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مجبوراً گورنر راج اور ایمرجنسی کا سوچنا پڑا۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔‘
دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا ذمہ دار کون؟
وزیراعظم نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر سوات میں بسایا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملک کو شدید نقصان پہنچا۔
ان کے مطابق گذشتہ ڈھائی سال میں دہشت گردی کے واقعات میں ہزاروں شہری، پولیس اہلکار اور فوج کے افسران و جوان جان سے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے انہیں دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔‘
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے بے مثال قربانیاں دیں۔
انہوں نے آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے 80 ہزار افراد جان سے گئے اور ملک کو 150 سے 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچا۔
’800 ارب روپے سے کتنے سیف سٹی منصوبے بنے؟‘
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں گذشتہ 13 سال سے برسراقتدار جماعت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں، لانگ مارچ اور دھرنوں پر توجہ دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اضافی وسائل کی مد میں اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔
شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ اس رقم سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق صوبے میں پولیس کی پانچ ہزار خالی اسامیوں پر بھی بھرتیاں نہیں کی گئیں، جبکہ دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحے اور تربیت کی فراہمی پر خرچ ہونے چاہیے تھے۔
فیول سبسڈی اور ترقیاتی منصوبے
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی حالات اور خلیج کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تاہم حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے 75 ارب روپے کی فیول سبسڈی سکیم شروع کی۔
ان کے مطابق اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد اس سکیم سے مستفید ہو چکے ہیں۔
شہباز شریف نے بتایا کہ چترال، ہری پور، مانسہرہ، باجوڑ اور شانگلہ میں دانش سکول قائم کیے جائیں گے، جہاں کم آمدن والے خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا میں امن، ترقی، خوش حالی اور عوامی خدمت کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ صوبے کے عوام امن اور ترقی چاہتے ہیں اور ان کی جماعت صوبے کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
