صوبہ پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ترجمان نے ہفتے کو بتایا کہ گوجرانوالہ میں ولیمے کے روز دلہن صبا کو قتل کرنے والا مرکزی ملزم سرفراز مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
سی سی ڈی ترجمان کے مطابق صبا کو قتل کرنے کے بعد ملزم سرفراز اپنے ساتھیوں سمیت کراچی میں روپوش تھا۔
ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ سی سی ڈی کی ٹیم جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ملزمان کو گرفتار کر کے واپس لا رہی تھی کہ اس دوران ان پر حملہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں سرفراز اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
سی سی ڈی کے مطابق اس مقدمے میں سرفراز کی ساتھی ملزمہ عروبہ سمیت دیگر ملزمان گرفتار ہیں۔
ملزم کے خلاف گوجرانوالہ میں مقدمہ درج تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق 24 اکتوبر، 2026 کو صبا طفیل کو ولیمے کے روز شادی ہال سے اپنے شوہر کے ہمراہ واپسی پر مبینہ طور پر سرفراز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔
یہ واقعہ گوجرانوالہ کے علاقے سمن آباد چونگی کے قریب پیش آیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹرسائیکل سوار دو ملزمان نے دلہا کی گاڑی کو راستے میں روکا۔
فوٹیج کے مطابق سرفراز نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور صبا پر فائرنگ کر دی۔
صبا کو سینے اور پیٹ میں گولیاں لگیں، جس کے بعد انہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ابتدائی تفتیش اور اہل خانہ کے بیانات کے مطابق سرفراز مقتولہ سے شادی کرنا چاہتا تھا، لیکن رشتے سے انکار اور صبا کی دوسری جگہ شادی ہونے پر اس نے صبا کو قتل کر دیا۔
سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں پنجاب میں مجموعی طور پر جرائم کی شرح میں 63 فیصد کمی آئی ہے۔
محکمے کے مطابق ستمبر 2025-26 کے دوران ستمبر 2023-24 کے مقابلے میں جرائم میں سب سے زیادہ کمی لاہور میں ریکارڈ کی گئی، جہاں شرح 78 فیصد کم ہوئی۔
اسی طرح فیصل آباد میں جرائم کی شرح میں 68 فیصد، ساہیوال میں 66 فیصد، ملتان میں 59 فیصد جبکہ گوجرانوالہ اور بہاولپور میں بالترتیب 58، 58 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
شیخوپورہ میں جرائم کی شرح 57 فیصد، سرگودھا میں 56 فیصد، راولپنڈی میں 52 فیصد اور ڈیرہ غازی خان میں 43 فیصد کم ہوئی۔
انسانی حقوق کمیشن نے سی سی ڈی کی مبینہ ’ماورائے عدالت کارروائیوں‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سی سی ڈی نے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران تقریباً 670 پولیس مقابلوں میں 924 افراد کو مارا، جو غیر انسانی اور ماورائے قانون اقدام ہے۔
